بول زباں اب تک تیری ہے، فیض فیسٹیول 2019

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”بول کہ لب آزاد ہیں تیرے“ سے ”بول زباں اب تک تیری ہے“ تک کا سفر بہت کٹھن اور تکلیف دہ ہے۔

”فیض فیسٹیول 2019 بول، زباں اب تک تیری ہے“ سوچنے والوں کے لئے ڈھیروں سوالات کے ساتھ موجود ہے۔

فیض کو جانتے تو ہم بچپن سے ہی ہیں لیکن باقاعدہ تعارف 2008 میں ہوا جب اپنے ریڈیو پروگرام ”خراج تحسین“ کے لئے نظر انتخاب فیض صاحب پہ جا ٹھہری۔

اور چونکہ اس دور میں ہم انڈرائیڈ سے دور اور گوگل سے کچھ کم کم ہی واقف تھے لہذا ہر پروگرام سے قبل اچھی خاصی کتب پڑھنی پڑتی تب جا کہ دو گھنٹے کے ایک پروگرام کا سکرپٹ فائنل ہوتا۔

پروگرام تو صرف فیض صاحب پہ کرنا تھا لیکن واقفیت ایلس، منیزہ ہاشمی، سلیمہ ہاشمی، شعیب صاحب اور عدیل ہاشمی سے بھی ہوگئی۔ میری ایک منہ بولی بہن کے ذمہ تھا کہ آپ نے مذکورہ خاندان کے لوگوں کے رابطہ نمبر مہیا کرنا ہیں اور وہ بھی ہمیں دستیاب ہو گئے۔ دوران پروگرام صرف منیزہ ہاشمی اور سلیمہ ہاشمی صاحبہ کو آن ائیر لے سکا۔ لیکن بہرطور ایک یادگار پروگرام رہا۔

وقت کا پہیہ چلتا رہا اور ہم روزی روٹی کے چکر میں لاہور قیام پذیر ہوگئے۔ گزشتہ تین سالوں سے بہت باقاعدگی سے فیض فیسٹیول میں شرکت کر رہے ہیں۔

لیکن اس مرتبہ کا فیسٹیول ”بول، زباں اب تک تیری ہے“ نے سوچنے پہ مجبور کیا کہ آخر کیا وجہ ہے جو ”بول کہ لب آزاد ہیں تیرے“ سے بات آگے نکل گئی ہے۔ پروگرام پہ نظر ڈالی اور فیصلہ کیا کہ بروز ہفتہ سہ پہر کی نشست ہال نمبر 1 جوکہ الحمرا کا سب سے بڑا ہال بھی ہے میں منعقدہ حامد میر کی میزبانی میں نسیم زہرہ، وسعت اللہ خان اور وجاہت مسعود صاحب کو سنا جائے۔

نسیم زہرہ الیکٹرانک صحافت کی دنیا کا معتبر نام ہیں اور ان کی کتاب from Kargil to the Coup نے ایک تہلکہ مچا رکھا ہے ۔ اور پھر انگریزی اخبارات میں ان کے کالم ایک عرصہ سے پڑھتے آرہے ہیں۔

وسعت اللہ خان صاحب سے شناسائی بی بی سی اردو نے کروائی اور ان کے اچھوتے اور حقیقت سے قریب تر خیالات نے ہمیشہ گرویدہ کیے رکھا اور ہمیشہ کوشش کی کہ ان کی نظر سے گزرنے والی کوئی بھی تحریر پڑھے بغیر آگے نہ جانے دی جائے۔

وجاہت مسعود صاحب کو ہم ”ہم سب“ کی وجہ سے جانتے ہیں۔ کہ وہاں بریکنگ نیوز انہی کے توسط سے آتی ہیں۔

آج کی گفتگو میڈیا کی موجودہ صورت حال میں کارکردگی کا جائزہ کہ لیں کیونکہ جن حالات میں معاملات چل رہے ہیں وہ کچھ خوش آئند نہیں۔ بہرحال وہ جو کہتے ہیں ناں کہ ”ابھی زندہ ہوں تو پی لینے دو“

صحافت ایک ایسی ذمہ داری ہے کہ اس میں نہ کوئی بھرتی ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ریٹائرمنٹ لیتا ہے یہ تو بس ”اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے“

وسعت اللہ خان نے آخر میں خوب یاد دلایا

”دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو ”

فیض صاحب اور موجودہ دور کے میڈیا کے لئے دعاگو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
طاہر محمود بلوچ کی دیگر تحریریں
طاہر محمود بلوچ کی دیگر تحریریں