کپتان نے نواز شریف کو صرف پچاس روپے لے کر کیوں چھوڑا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے انہیں پچاس روپے کے سٹامپ پیپر پر دیے گئے بیان پر ہی باہر جانے کی اجازت دے دی۔ حکومتی وکلا نے اس کی برائے نام مخالفت ہی کی اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ بھی ظاہر نہیں کیا۔ بلکہ الٹا عمران خان سب مصروفیات ترک کر کے دو دن کی چھٹی پر چلے گئے کہ نواز شریف کو باہر لے جاؤ پھر میں کام کروں گا۔ حالانکہ پہلے انہوں نے اپنے ووٹر کو مطمئن کرنے کی خاطر نواز شریف سے باہر جانے کے عیوض سات ارب روپے کا شورٹی بانڈ مانگا تھا۔ اس پر تحریک انصاف کے حامی پریشان ہیں۔ اگر انہوں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہوتا تو جان جاتے کہ عمران خان نے نواز شریف سے پچاس روپے کا سٹامپ پیپر لے کر ان کو رسوا کر ڈالا ہے۔

بہت پہلے ایک واقعہ پڑھا تھا اور اب اسے اپنی ناقص یاد داشت کے سہارے نقل کر رہا ہوں۔ ریاست رام پور ہندوستان کی ایک چھوٹی سی ریاست تھی۔ اس کے مشہور نواب حامد علی خان 1875 میں پیدا ہوئے، 1889 میں ریاست کے تخت پر بیٹھے اور 1930 تک نوابی کی۔ ریاست چھوٹی ہونے کے باوجود نواب حامد علی خان کو تاجِ برطانیہ میں ایک خاص مقام حاصل تھا کیونکہ انہیں ملکہ وکٹوریہ نے اپنا منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا۔

تو ہوا یوں کہ ایک مرتبہ نواب صاحب بحری جہاز سے آئے اور بمبئی کی بندرگاہ پر اترے۔ ادھر جہاز میں ایک لکھ پتی سیٹھ بھی ان کا ہمسفر تھا۔ اس زمانے کے لکھ پتی کو آج کا کھرب پتی سمجھیں۔ اس نے نواب صاحب کی ریاست کے سائز سے ان کے قد کو ناپا اور اپنی دولت کے ڈھیر کو اس سے بلند پایا۔ اس نے نواب صاحب کی شان میں کچھ گستاخی کر ڈالی۔ نواب صاحب نے عدالت میں نالش کر دی۔

اب برطانوی ہندوستان کی عدالتوں کا حال تو آپ جانتے ہی ہیں۔ اگر فریق غیر اہم ہوں تو انصاف کر دیا کرتی تھیں مگر جب ایک فریق قیصرہ ہندوستان کا منہ بولا بیٹا نواب حامد علی خان ہو تو ترازو کا پلڑا خود بخود ایک طرف جھک جاتا تھا۔ نواب صاحب کے دعوے کو تسلیم کیا گیا اور ان کے مطالبے پر اس لکھ پتی سیٹھ پر ایک روپیہ جرمانہ کر دیا گیا۔

اب وہ سیٹھ خوب رویا چلایا کہ میری ایسی بے عزتی مت کرو، میری ناک کٹ جائے گی، برادری میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل ہی نہ رہوں گا کی سرکار کی نگاہ میں میری حیثیت صرف اتنی ہے کہ مجھے ایک روپیہ سے زیادہ جرمانہ ادا کرنے کا اہل ہی نہیں سمجھا گیا، ازالہ حیثیت عرفی کے دعوے میں مجھ سے سینکڑوں ہزاروں لاکھوں روپے لے لو۔ مگر اس کی ایک نہ چلی۔ اس کی ناک کٹ گئی۔ اس نے ایک روپیہ جرمانہ ادا کیا۔ نواب حامد علی خان نے اسے بتا دیا کہ تاجِ برطانیہ میں عزت والا کون ہے اور ذلیل و رسوا ہونے والا کون۔

تو صاحبو، ہمیں تو یہی سمجھ آئی ہے کہ کپتان نے نواز شریف کے ساتھ وہی سلوک کیا ہے جو نواب رام پور نے اس لکھ پتی سیٹھ کے ساتھ کیا تھا۔ یعنی سات ارب روپے کی ضمانت کی بجائے کھرب پتی نواز شریف سے محض پچاس روپے کا حلف نامہ رکھوا کر ان کی ناک کاٹ دی ہے۔ اس لئے تحریک انصاف کے حامی حوصلہ بلند رکھیں کیونکہ ان کے یقین کے عین مطابق ہر سیاسی معرکے کا فاتح کپتان اس مرتبہ بھی جیتا ہے اور اس نے اپنے حریف کو کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ کپتان بھی نواب رام پور سے کم تو نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1211 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar