مجھے اس ملاقات کی تصویر نے خوش نہیں، اداس کیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غبارہ پھٹ گیا۔ جب کسی کا اثاثہ ہی ہوائی باتیں، ہوائی قلعے اور مستی کے عالم کےجذبات ہوں تو نتیجہ اور ہو بھی کیا سکتا ہے۔  نہ کوئی ہوم ورک تھا، نہ کوئی سنجیدہ تیاری۔  محض جذباتی خواب، اقتدار کی شدید خواہش، پروٹوکول کی تمنا اور ہینڈسم شخصیت کا ملاپ۔ یہ کامیابی نہیں ذلت و عبرت کا راستہ ہے۔  ابھی تو غیرت نامی غلط فہمی کا غبارہ بھی پھٹنا ہے۔  میں اقتدار چھوڑ دوں گا نامی نعرہ بھی آہستہ آہستہ زمیں بوس ہو گا جب خان صرف وزیر اعظم ہاؤس میں رہنے کو کافی سمجھ کر سب کچھ حوالے کرنے کو تیار ہو گا، منت کرے گا، لیکن بچے گا پھر بھی نہیں۔

ایک ایک کر کے ساتھی چھوڑتے جائیں گے، وزارت عظمیٰ کے امیدوار الگ سے اپنے پکوڑے تلیں گے۔  ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہو چکا۔ میڈیا کے حامی سرعام خود پر، ایک دوسرے پر لعنت ملامت شروع کر چکے، ابھی اور کریں گے۔  جن کی طاقت پر خان صاحب کو کبھی زعم تھا اب ان پر بھی تنقید شروع ہے۔  حمد اللہ کی شہریت کی منسوخی اور پیمرا کی اینکرز پر دوسرے شوز میں جانے کی پابندی کو وہ کابینہ اجلاس میں حماقت کہہ چکے اور یوں اس کی ذمہ داری سر عام ان پر ڈال دی جن کی بیساکھیوں پر وہ خود کھڑے ہیں۔  عبرت کی ایک نئی داستان تیار ہو رہی ہے، مجھے اس پر خوشی نہیں، افسوس ہے۔

اب اس بات کو لکھنے میں کوئی حرج نہیں کہ آپ نیوز کی ملازمت کے دوران، آفتاب اقبال، جن کا میرے دل میں آج بھی ذاتی احترام ہے اور ہمیشہ رہے گا، نے متعدد مرتبہ، عمران خان پر تنقید سے مجھے روکا، مجھے عمران خان سے نفرت کرنے کا مرتکب ٹھہرایا، حتیٰ کہ ایک مرتبہ ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں، کہا کہ انیق ناجی، عمران خان ہیٹر (Hater) ہے اور میرے لئے مشکلات پیدا کرتا ہے۔  ایک مرتبہ ان کے فارم ہاؤس میں جب وہ اور میں ہی بیٹھے تھے، میں نے انہیں ادب سے سمجھانے کی کوشش کی، کہ میں کیوں عمران خان سے نفرت کروں گا میں تو ان کا مداح بھی ہوں اور ذاتی احسان مند بھی کہ وہ 2018 کے انتخابات سے کچھ قبل میرے والد کی عیادت کو گھر تشریف لائے تھے۔  میں ان کی سیاست اور پالیسی پر بات کرتا ہوں اس میں ذاتی نفرت یا محبت کہاں سے آگئی۔

عمران خان صاحب کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ شریف برادران کے علاوہ پاکستان میں کرنے کو بہت کچھ ہے۔ خدا کے لئے انتقامی کارروائی کو بھول کر عوامی جمہوریہ کے لئے کام کریں۔  آپ سے لوگوں اور اداروں کی غیر معمولی ہی نہیں غیر حقیقی توقعات وابستہ ہیں، سراب سے لوگوں کو نکالیں۔  دن رات کام کرنا کافی نہیں، نتیجہ سامنے لانا ہوگا۔ احتساب زیادہ سے زیادہ ایک جاری عمل کا نام ہے منزل نہیں۔  آپ کی قیادت میں خیبر پختونخوا کی حکومت کچھ کام نہ دکھا سکی، وہاں چل گیا، مرکز اور پنجاب قطعی طور پر مختلف معاملہ ہے۔  یہاں پانچ سال بڑے بڑوں کو نہ مل سکے آپ کو بھی نہیں ملیں گے۔  ووٹر صرف آپ کو جانتا ہے اور آپ ہی ذمہ دار ہوں گے۔  شریف برادران سے پرویز مشرف کی فوجی حکومت کچھ نہ نکال سکی آپ کیا نکالیں گے۔  ملک کو آگے لے جائیں پیچھے نہیں۔

مجھے یاد ہے خان صاحب نے فرمایا تھا کہ انیق تم دیکھو گے کہ کس طرح یہاں عوامی جموریت مضبوط ہو گی۔ میں یہاں برطانیہ کا مقامی حکومتوں والا نظام لاوں گا۔ لوگوں کے ستر فی صد مسائل ان کے گلی کوچوں میں حل ہوں گے۔  انہیں بڑے شہروں میں خرچہ نہیں کرنا پڑے گا۔ میں کسی سے انتقام نہیں لوں گا۔ یہاں لوگ جانتے ہی نہیں کہ جمہوریت ہوتی کیا ہے، ایک مرتبہ انہیں میں بتا دوں اور وہ اس کا تجربہ کر لیں پھر کوئی عوام سے ان کے جمہوری حقوق واپس لینے کا سوچے گا بھی نہیں کیونکہ وہ اس کی اجازت ہی نہیں دیں گے۔

یہ تھا ان سے ملاقات کا احوال، پھر کیا ہوا؟ سب جانتے ہیں۔  ہارتے کھلاڑی کو طعنے دینا اچھا نہیں لگتا مگر کھیل پر تبصرے کرنا جس کی ذمہ داری ہو وہ کیا کرے؟ اسے بتانا ہو گا کون کہاں غلط کھیلا اس لئے کہ ایسا کرنا اس کی جاب ہے، اگر نہیں بتائے گا تو بھی چھپ نہیں سکتا کیونکہ سب دیکھ رہے ہیں۔  سیاسی معاملہ اور بھی مختلف ہے کہ یہاں سب دیکھ ہی نہیں رہے ہوتے بھگت بھی رہے ہوتے ہیں۔

میں پھر لکھتا ہوں کہ حال ہی میں، آرمی چیف اور عمران خان کی ملاقات کی تصویر نے دل کو خوش نہیں اداس کیا۔ اس ناکامی سے ذاتی خوشی اسے ہو گی جو اس کھیل کا براہ راست کھلاڑی ہے، کمنٹری کرنے والا تو اپنا کام ہی کرے گا، آج یہ ہیں کل کوئی اور۔ میری تمام عمر اس ملک کی سیاسی تاریخ کی طالب علمی میں گزری ہے، میں ادب سے گزارش کرتا ہوں کہ اس کھیل میں ایک مرتبہ وزیر اعظم کی قدم اکھڑ جائیں تو پھر واپسی ممکن نہیں حتیٰ کہ نئے انتخابات بھی نہیں۔

اس کے لئے دس سال تک بھی انتظار کرنا پڑتا ہے، سیاسی جماعتیں وہ انتظار کر گزریں اور دوبارہ کامیاب بھی ہو گئیں، یہاں کونسی پارٹی ہے؟ تحریک کے اصل کارکن اور لیڈر تو نشان عبرت بنے خود گمشدہ ہیں، جو سامنے ہیں وہ کبھی سیاسی کارکن تھے ہی نہیں۔  اس لئے خان صاحب کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔  پنجاب میں خرچہ علیم خان کرے اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ہو یہ کونسی پولیٹیکل سائنس ہے؟ یقیناً چند دیوانے اور فنکار اب بھی ساتھ رہیں گے مگر یہ تو سب کے پاس ہوتے ہیں حتیٰ کہ چوہدری خاندان کے پاس بھی ہیں۔

کیا بد قسمتی ہے کہ جس حکومت کے پاس کچھ کرنے کو ہوتا ہے اسے چلنے نہیں دینا اور جس کے پاس سب کچھ ہو، اپوزیشن کھڑی اعلان کرتی ہو کی وہ آپ کے ساتھ ہے، اسے آتا ہی کچھ نہیں۔  بہرحال پچھتانا کچھ حل نہیں اب آگے دیکھنا ہو گا۔

نواز شریف بلاشبہ پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی طاقت کے مالک بن چکے ہیں اور ان سے وابستہ ووٹروں کا غصہ بھی نکل چکا، اب وہ جتنے قدم آگے بڑھائیں گے وہ اقتدار کی جانب ہوں گے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ وزیر اعظم مریم ہوں یا وہ پھر وہ خود۔ اس مرتبہ تو پرویز مشرف کے دور کا معاہدے والا داغ بھی دھل چکا۔  ان سے نفرت کرنے والے سرکاری نوکر پہلے بھی آئے چلے گئے، موجودہ بھی ایک دن چلے جائیں گے، جو باقی رہے گا وہ عوامی جذبہ اور موڈ ہو گا جو نہ پنشن لیتا ہے نہ سرکاری تنخواہ۔

طاقت کے اس بے رحم اور غیر انسانی کھیل میں عوام کی حاکمیت نہ پہلے کبھی تھی اور نہ آج ہی کہیں ہے، ان کا بس استعمال ہوتا ہے، دکھ اس بات کا ہے کہ پھر ایسا ہی ہو گا۔ کیا سرکاری ملازموں کو کبھی سمجھ آئے گا کہ سیاست ان کے بس سے باہر ہے، کیا کبھی وہ سیکھ پائیں گے کہ عوامی ووٹ کا احترام ان کے اور میرے ملک کی ترقی کا واحد راستہ ہے۔

بھارت میں آج گاندھی خاندان کہاں ہے؟ کیا انہیں بھارت کے سرکاری نوکروں نے نکالا اور غیر متعلق کیا یا عوام نے انہیں لاتعلقی کا نشانہ بنا دیا؟ سیاست دان عوام میں رہتا ہے اسے وہیں رہنے دیں، انہی کو حساب لینے دیں۔  آپ کی مداخلت اور نفرت سے سیاست دان مضبوط ہو گا، کمزور نہیں۔  اور کتنی بار تاریخ کو دہرانا ہے۔  کیا قیامت تک؟

خان صاحب سے قبل ہمارے سامنے بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کی مثال تھی جو محض اٹھارہ مہینے نکال سکی، میں پہلے بھی لکھ چکا کہ خان صاحب ان کا ریکارڈ توڑتے نظر آتے ہیں۔

میں جھوٹی امید نہیں رکھتا کہ اب بھی وقت ہے کہ وہ کچھ کر گزریں اور عوام کی جانب چل پڑیں۔  اب وقت ان کے ہاتھ سے نکل چکا، وہ کچھ بھی کرنا چاہیں اب نہیں کر پائیں گے۔  نواز شریف نے ان کے واحد غبارے کی ہوا نکال دی اس کے علاوہ ان کے پاس کچھ تھا ہی نہیں۔  بطور وزیر اعظم وہ کتنا وقت نکال لیں گے قوم کے لئے بے معنی ہی نہیں، مہلک ہے کہ بے اختیار، بے بس اور ناکامی کا لاشہ اٹھا کر کوئی لیڈر گہری مشکلات میں پھنسی قوم کو نکالے گا یا خود کو۔

مجھے دل کی گہرائیوں سے اس مرحوم تحریک انصاف کے کارکنوں سے ہمدردی ہے جنہوں نے سچے خواب دیکھے تھے اور محنت کی تھی اور ان سے بھی پیشگی ہمدردی ہے جنہوں نے انتقامی گالیاں نکالنے اور جھوٹ بولنے میں تمام حدوں کو توڑ ڈالا، ان سے ہمدردی اس لئے کہ اب ان پر وقت آنے والا ہے کہ وہ اپنے جھوٹ اور گالیوں کی قیمت ادا کریں گے اور وہ بھی مستقبل کی کسی امید کے بغیر۔

رہے تحریک کے امیر خاندان اور فردوس عاشق ٹائپ وغیرہ، تو ظاہر ہے کہ یہ آئندہ نواز شریف یا مریم نواز کی کابینہ میں ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •