لاہور: شہر دلدار کا ‘سموگ’ زدہ کرب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سردی کی آمد آمد ہے اور ہمارے گھر میں ایک بحث چھڑ چکی ہے، ہماری اور بچوں کی گرما گرم بحث!

بارہ سال پہلے دیس سے نقل مکانی کرتے ہوئے ہم دو فیصلے کر کے چلے تھے۔ اول، گھر میں انگریزی کبھی نہیں بولی جائے گی۔ اردو تو ہو گی ہی، پنجابی بھی بچوں کو سکھانے کی کوشش کریں گے۔ دوسرا یہ کہ ہم ہر برس گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیوں میں دیس آئیں گے، بچوں کی ننھیال ددھیال سے ملاقات ٹھہرے گی اور دیس کے موسموں اور تہواروں کا مزا لیا جائے گا۔ اس فیصلے پہ خوب عمل ہوا، اگر چہ ہمیں ہر دفعہ کچھ سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا۔

” کیا واقعی آپ لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتی تھیں “

” کیا واقعی بجلی نہیں جاتی تھی “

” کیا بم دھماکے نہیں ہوا کرتے تھے “

“کیا سڑکوں پہ اتنا رش نہیں ہوتا تھا “

” کیا گرمی کی سخت دوپہریں ائر کنڈیشنر کے بغیر….ہو ہی نہیں سکتا “

” کیا واقعی نلکے کا پانی پیا جاتا تھا”

” کیا لاہور کی فضا میں سموگ نہیں ہوتی تھی”

یہ سوال ہمارا دل چیر جاتے۔ ہم وہ ساری کہانیاں سنانے کی ازسر نو کوشش کرتے جو ہمارے دل و دماغ میں بسی تھیں۔ لیکن بچے میں نہ مانوں کی تصویر بن جاتے۔

لاہور! اسی کی دہائی کا لاہور، نور جہاں اور استاد امانت علی کا لاہور، باغوں کا شہر لاہور، فن کا استعارہ لاہور، یونیسکو کا لسٹڈ تخلیقی شہر لاہور، فضا میں بکھرے سروں کا شہر لاہور، اپنے بازو ہر کسی کے لئے وا کرتا لاہور!

نہ جانے کس کی نظر لگی، یا ہم خود ہی اپنے دشمن نکلے!

ہمیں تو سردیوں کی آمد کے ساتھ چمکتے آسمان سے پھیلتی زرد دوپہر یں یاد آتی تھیں۔ گلابی جاڑا جو من میں نئے رتوں سے ملنے کی جوت جگاتا تھا۔ منڈیر سے خداحافظ کہتا برس اور کہیں دور سے نئے برس کی امید بھری آمد دل کو بے حال کرتی تھی۔ ان دیکھی منزلوں کے خواب مسکرانے پہ مجبور کرتے تھے۔

لیکن اب کہاں ہے وہ چمکتا آسمان اور زرد دوپہر ؟ اب تو ایک مٹیالی چادر سردی کی آمد کے ساتھ ہی زمین سے آسمان تک تن کے لاہور کی خوبصورتی ڈھک دیتی ہے۔ ایک دھویں کا بادل ہر طرف چھا جاتا ہے جو لاہور کی سرد شاموں کو زہر آلود بنا دیتا ہے۔ وہ جو موسم بدلنے کے ساتھ ہی فرحت و انبساط کی ایک لہر ہر طرف دوڑ جاتی تھی، اب جھنجھلاہٹ اور بے کیفی میں بدل چکی ہے اور ” سموگ ” کی دیمک لاہور کو کھائے چلی جا رہی ہے۔

انسان ایک مشینی پرزہ نہیں، وہ مرکب ہے ان تمام جذبات و احساسات کا جو کائنات سے ہم آہنگ ہو کے اس کے رگ و پے میں پھول کھلنے کا موجب بنتے ہیں۔ کیا ہو، جب کائنات کو ہی گھن لگ جائے تو؟

راوی کی وہ لہریں جن پہ ہماری ناؤ ہچکولے کھاتی ہمیں کامران کی بارہ دری تک پہنچاتی تھی، اب گندے جوہڑ کے تعفن میں بدل چکی ہیں۔ صوم و صلواۃ کی پابند قوم کے تمام مسائل کا حل کئی شاہ اور کئی جوگی راوی کنارے الوؤں کے گوشت اور بےجان جسموں کی بے نشان ہڈیاں میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ مردہ ہوتے راوی کی فضا میں ہمہ وقت گدھ منڈلاتے ہیں اور بارہ دری اداس نظروں سے گئے زمانوں کا نشان ڈھونڈتی ہے۔

ہمارا اور اس کا دکھ مشترکہ ہے شاید!

لاہور کے مضافات سے سبزے، رہٹ سے نکلتے صاف پانی اور فصلوں کی ہریالی سے امڈتی جو نسیم سحر لاہور کی گرمی سے کملائے ہوؤں کو شاد کرتی تھی وہ کب کی کھمبیوں کی طرح اگی ہوئی ہاوسنگ سوسائٹیوں کے ائر کنڈیشنگ کی گرم جھلساتی ہوا میں بدل چکی ہے۔

لاہور کے مسائل میں اضافے کا ایک سبب آبادی کا بے تحاشا اور گھمبیر پھیلاؤ بھی ہے۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے لاہور مضافاتی باشندوں کے جم غفیر کی لاہور ہجرت کے وزن تلے سسکنے پہ مجبور ہے۔

تازہ ترین خبر یہ ہے کہ لاہور ماحولیاتی آلودگی میں دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پہ ہے۔ لاہور کی فضا ائر کوالٹی انڈیکس میں پانچ سو میں سے چار سو سینتالیس نمبر حاصل کر کے خطرناک درجے پہ کھڑی ہے۔

چلیے! مبارک ہو کہیں تو دنیا میں ہم آگے بڑھے۔

یہ دھواں دھواں ہوا، سموگ سے بھری فضا سانس کے عمل کو کس قدر پیچیدہ بنا رہی ہے اور اس کے نتائج کیا برامد ہوں گے ؟ یہ ہمارے معاشرے کے افراد نہ جانتے ہیں نہ جاننا چاہتے ہیں۔ کچھ ویسے بھی ہم ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے پروردہ لوگ ہیں اور کچھ ہمیں جنت کی طلب بھی اس قدر ہے کہ ہم جنت ارضی کو ایک ایسا پڑاؤ سمجھتے ہیں جو اگر تباہی کے دہانے پہ پہنچ رہا ہے تو کیا غم ؟ آخر عارضی قیام گاہ ہی تو ہے۔

لیکن یہ حکمت عملی طے کرتے ہوئے اس نسل کا مستقبل فراموش کر دیا جاتا ہے جسے بہت ذوق وشوق اور تسلسل سے اس دنیا میں لایا جا رہا ہے۔ اور اس شوق لامتناہی کا بوجھ رزق، پروردگار کے سپرد کرکے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ بھی ہوا جا رہا ہے۔

بحث کا آغاز پچھلے سال کے واقعات سے ہوا۔ ہماری بیٹی جو امتحانات کی وجہ سے ہمارے بعد والی فلائٹ پہ لاہور پہنچ رہی تھی، کی فلائٹ سموگ کی وجہ سے لاہور نہیں اتر سکی۔ فلائٹ کراچی جا پہنچی اور پی آئی اے نے ائرپورٹ پہ اٹھارہ گھنٹے کا انتظار کروایا اور اس پہ انتظامات کا یہ عالم کہ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ خیر یہ ایک علیحدہ کہانی ہے لیکن جب بیٹی سموگ بھرے آسمان کو پار کرکے گھر تک پہنچی، تو اس کے پاس ہمارے لئے بہت سوال تھے۔

” آپ لوگ اس دنیا کو کس حال میں ہمارے لئے چھوڑ کے جا رہے ہیں، کبھی سوچا آپ نے؟”

“ہم سانس کیسے لیں گے ؟ ہم پانی کونسا اور کہاں سے پئیں گے”

“اتنے بہت سے لوگ کیسے رہیں گے اس زمین پر ؟”

“اماں، مجھے افسوس ہے لیکن جو کہانیاں آپ ہمیں سناتی ہیں اور جس لاہور کی سناتی ہیں ، یہ وہ لاہور نہیں۔

یہ تو سینے کو جکڑتا ، سانس کو روکتا، آنکھوں کو جلن میں مبتلا کرتا آلودہ آسمان کے ساتھ اپنی فضا کے ساتھ دنیا کا ایک خطرناک شہر ہے “

اور اب فیصلہ یہ ہے کہ اماں تو ماضی میں جیتی ہیں اور حال کا لاہور نومبر سے فروری تک اس قابل نہیں کہ ہم پاکستان جا سکیں۔

آپ بتائیے ہم اپنے ماضی کی یادوں کو کہاں دفن کریں ؟

وہ سردیوں کی دھواں دھار صبح کا منظر

وہ رتجگوں کی چمک اور غریو توپ وتفنگ

مچا ہوا ہے عجب شور سا مرے اندر

مرےلئے نہ کبھی ختم ہو سکے گی یہ جنگ

(سلیم الرحمان)

اور یہ رہیں ہمارے پرانے لاہور کی جھلکیاں 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •