مجھے ضیاء الحق اچھا لگنے لگا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسعت اللہ خان نے آزادی صحافت کے عنوان سے منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال بھی لاہور میں فیض فیسٹول میں اسی موضوع پر ہم نے بہت سی باتیں کی تھیں ایک سال گزرنے کے بعد بہت زیادہ فرق محسوس کرتا ہوں۔ البتہ لطائف کی تعداد پچھلے سال کی نسبت بڑھ گئی ہے۔ ابھی صحافی خاتون نسیم زہرہ صاحبہ گفتگو کر رہی تھیں تو میں ان کو بغور سُن رہاتھا میں ایسی گفتگو سے سروائیو کی بہت سی باتیں سیکھ رہا تھا میں بھی یہی کچھ کہنا چاہتا ہوں مگر اِس ادارے سے مجھے محبت ہے ہم میں سے کون ہوگا جسے محبت نہیں ہوگی ”، نسیم زہرہ نے بات کاٹتے ہوئے کہا ہم چاہتے ہیں ہم پہ بس تہمت نہ لگے! وسعت اللہ خاں نے جواب دیا، بالکل اور ہاں ہم پہ تہمت نہ لگے اس لئے تومحبت ہے۔ ہال قہقوں سے گونج اٹھا تو اسی شور میں وسعت اللہ خاں نے کہا ہم پہ تہمت لگانے کے لئے انہیں ہماری صفائی کی ضرورت نہیں ہے۔

بات جاری رکھتے ہوئے وسعت اللہ خاں نے مزید کہا کہ یہ دور مجھے زیادہ دلچسپ لگ رہا ہے میں چونکہ ضیاء الحق کے دور سے صحافت کر رہا ہوں مجھے ضیاء الحق اچھا لگنے لگا ہے کیونکہ بھولے لوگ تھے

محکمہ اطلاعات کے افسر کے پاس جب میں کاپی لے کر جاتا تھا اسے جو خبر پسند نہیں آتی تھی ہٹا دیتے تھے تو اگلے دن اخبار وائٹ سپیس کے ساتھ چھپ جاتا تھا تو میرے محلے کے چوکیدار کو بھی معلوم ہوجاتا تھا کہ اچھا اہم خبریں پیج پر تو ہیں ہی نہیں پھر جنرل مجیب کے کان میں کسی نے کہا یہ کیا کر رہے ہیں ”ایہہ کر رہی ہو“ آپ جو چھپانا چاہ رہے ہیں وہ تولوگوں کو دکھائی دے رہا ہے۔ ہال وسعت اللہ خاں کی گفتگو کو بغور سُن رہا تھا، معروف کالم نگار نے کہا شریف لوگ تھے وہ، گرفتار کرتے تھے اور بتاتے تھے فلانی جیل میں ہیں سب کچھ سامنے تھا اتنے سال کی سزا ہے اتنے کوڑے پڑیں گے فلاں میدان میں شرافت کے ساتھ کر رہے تھے یعنی کلئیر مائنڈ کے ساتھ کر رہے تھے کہ ملک کے لئے یہی اچھا ہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ جبر اور سینسر شپ ایک فائن آرٹ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو کوئی

یہ 2019 کی سینسر شپ تھی آپ اس کے مقابلے میں جنرل ضیاء کی سرکار کتنی بھولی اور سیدھی تھی جو کیا برملا کیا ڈنکے کی چوٹ پہ کیا، ہم آ پ سے کچھ نہیں چاہتے صحافی برادری کے طور پہ اور ایک آزاد خیال سوچ نے والے کی حیثیت سے اتنا مطالبہ کرتے ہیں کہ جو بھی کر رہے برملا کریں بندے اٹھانے ہیں فیصلہ لینا ہے برملا کریں، ایسے نہ کریں جیسے بچپن میں شرارتی بچے پیچھے سے جاکر ایک تھپ مارتے تھے اور کہتے صفدر نے مارا ہے میں نہیں مارا، بچپنا نہ کریں آپ ریاست ہیں ظلم بھی کریں تو بلوغت اور میچورٹی کے ساتھ کریں۔

ایک سوال کے جواب میں وسعت اللہ خاں نے صحافت کے طالبعلموں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ کہ آپ جب اس پروفیشن میں آئیں ہیں سوال یہ ہے کہ آپ کی اردو ٹھیک ہے کالم اور خبر میں تمیز کرسکتے ہیں کیا آپ خواہش اور انفارمیشن میں فرق کرسکتے ہیں اس پہ تو کسی نے پابندی نہیں لگائی صحافیوں کی مہارت پہ مستقل دھیان دینا چاہیے نشست کے اختتام پر حامد میر نے اپنے تینوں مہمانوں سے پوچھا کہ کیا پاکستان میں صحافت آزاد ہے۔

نسیم زہرہ نے برملا کہا، بالکل نہیں، وسعت اللہ خان نے جواب دیا صحافت کسی دور میں بھی آزاد نہیں رہی، وجاہت مسعود نے برجستہ جواب دیا صحافت دور کی بات ہے سوال یہ ہے کہ کیا یہ ملک بھی آزاد ہے؟ ہال ایک منٹ تک تالیوں سے گونجتا رہا۔ کمپئیر حامد میر نے کہا آپ سب کی تالیاں نئی نسل میں امید کی کرن دکھائی دیتی ہیں اور انشاء اللہ ہم نہیں تو ہماری نسلیں دیکھیں گی اور ضرور دیکھیں گی۔

پانچویں فیض فیسٹول کے دوسرے روز سیاسی پابندیوں کے دور میں آزاد صحافت کے عنوان سے نشست کا انعقاد ہوا جس کی کمپئیرنگ حامد میر نے کی اور وسعت اللہ خاں، نسیم زہرہ اور وجاہت مسعود نے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •