شادی: سماجی ادارہ اور ڈرامے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو سال پہلے فیملی فرینڈز میں ایک بائیس سالہ بچی کی شادی ہوئی۔ والدین کی اکلوتی اولاد ہے۔ متمول گھرانا ہے۔ شادی کے ایک مہینے بعد ہی شوہر اور ساس نے ذہنی و جسمانی تشدد شروع کر دیا کہ والدین سے پیسے لے کر شوہر کر کاروبار کروا دو۔ کون سا تشدد تھا جو بچی پر نہیں کیا۔ والدین نے اکلوتی بچی کی حالت دیکھی تو طلاق لے کر معاملات نمٹائے۔ بجائے اس کے کہ شوہر حق مہر کی ادائیگی کرتا۔ والدین نے پیسے دے کر طلاق کے کاغذات پر دستخط کروائے۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ مارے اردگرد ہزاروں کہانیاں بکھری ہیں۔ ہر تیسرے روز اخبار میں خبر ہوتی ہے، کم جہیز لانے پر بہو کو جلا دیا۔ سسسرال میں بہو کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔ شوہر نے مارا پیٹا۔ جہیز کے مطالبے پر منگنی یا نکاح ختم۔ گویا شادی لڑکی کے والدین سے پیسے بٹورنے کے لئے ہوتی ہے۔ ملک سے باہر بھی دھوکا دہی سے لے گئے، ملازمہ بنا لیا یا پھر پیسے کمانے پر لگا دیا۔

اس سب کے باوجود سماج میں شادی کا ادارہ قائم ہے جو کہ عین فطری و انسانی ہے۔ ہمارے دین کی بھی بنیادی شرائط میں شامل ہے۔ اس ادارے کو کمزور کرنے کے لئے پہلے تسلسل کے ساتھ ساس بہو اور نندوں کے جھگڑوں پر مشتمل ڈرامے بنائے گئے اور بنائے جا رہے ہیں۔ کالے جادو، پیری مریدی وغیرہ حتی کہ ایک “سٹ کام ” مجھے اسی وجہ سے بہت ناگوار لگتا ہے کہ اس میں بہو گھر کا خرچہ اٹھا رہی ہے اس کے باوجود ساس سسر اور شوہر اس کی تذلیل کرتے رہتے ہیں اور ڈرامے میں بطور مہمان آنے والی ہر خاتون سے نا زیبا طریقے سے پیش آتے ہیں۔ ایک اور “سٹ کام” کچھ سال پہلے آن ائیر ہوا تھا۔ اس میں لڑکی کو “بچی بچی” کہہ کر مخاطب کیا گیا اور یوں “بچی” کہنے کا ٹرینڈ جاری ہو گیا۔

طلاق اور خلع کے حساس موضوعات پر ڈرامے بنتے ہیں تو بھی کہانی یا اسکرپٹ میں کوئی نہ کوئ سقم رہ جاتا ہے اور ایسا، اس لئے ہوتا ہے کہ ڈراما نگار یا اسکرپٹ رائٹر کہانی اور ڈرامے کے موضوع پر مکمل معلومات اور سماجی اقدار کو مدنظر نہیں رکھتے۔ جب کہ ایسا کرنا ضروری ہے۔ اس ضمن میں جب ایک سینئر ڈراما نگار سے رائے کی درخواست کی تو انہوں نے کہا، ہر ڈراما نگار یا کہانی کار سماجی نفسیات کا ماہر یا دانشور نہیں ہوتا، وہ ایک تخلیق کار ہوتا ہے۔ اس کا کام اپنی تخلیق کو پیش کرنا ہوتا ہے اور اب کمرشل دور ہے اس لئے انہی موضوعات پر ڈرامے بنائے جاتے ہیں، جن سے چینل کی ریٹنگ بڑھے اور اشتہارات ملیں۔ ایسے ڈرامے مشہور ہوتے ہیں جن میں خاص انسانی جذبات کی توہین کی گئی ہو، یا ڈراما پھکڑپن کی انتہا کو چھوتا ہو۔

جب ایک سینئر خاتون صحافی سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں ڈرامے کے معیار سے مطمئن نہیں ہوں ڈرامے میں برائی کو گلیمرائز کر کے نہیں دکھایا جانا چاہیے بلکہ اگر خواتین کے لئے ڈرامے بنائے جاتے ہیں تو خواتین کے بنیادی مسائل پر ڈرامہ نگاری کی جانی چاہیے۔

ایک سینئیر ادیبہ کی رائے ہے کہ خواتین کو اپنے حقوق کے بارے جاننے کا فہم دینا چاہیے، بیٹی کو وراثت میں حصہ دینے۔ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دینے، معاشی طور پر با اختیار ہونے اور شریعت کے مطابق پسند کی شادی کی اجازت دینی چاہیے، اور اسی موضوع پر ڈرامے بنیں تو زیادہ بہتر ہو گا، تاکہ خواتین کی مشکلات حل ہوں۔

ملک کی ایک سنئیر گائناکالوجسٹ کی رائے ہے کہ شادی ایک کمپنئین شپ کا نام ہے، دو انسانوں کی شادی سے پہلے نفسیاتی و جنسیاتی تربیت ہونی چاہییے، یہ سچ ہے کہ شادی کا ادارہ کم زور ہو رہا ہے۔ اور اس کی مختلف خانگی وجوہات ہیں جو ہر گھر کی ہیں۔ ان کو سمجھ دار ی سے حل کرنا ہو گا، اور یہ ملک کے مفکروں اور دانشوروں کا کام ہے کہ وہ ان موضوعات پر لکھیں، پروگرامز کریں اور نوجوانوں کی تربیت کریں۔

شہر کراچی کی ایک فعال سماجی کارکن کہتی ہیں، شادی کو قائم رکھنے کے لئے زن و مرد دونوں کو اپنے طور پر کوشش کرنی ہوتی ہے، اگر محبت سے شادی کو قائم رکھیں گے تو خوش رہیں گے، شادی ایک دوسرے سے بے جا مطالبات کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک تلخ سچ ہے کہ ہمارے سماج میں شادی کے لئے زیادہ تر قربانیاں عورت کے حصے میں آتی ہیں۔ مرد ساری زندگی کماتا ہے، کمائی کا رعب رکھتا ہے اور آخر میں عورت اسے عضو معطل کی طرح ایک کمرے تک محدود کر کے تمام بدلے چکاتی ہے۔ شادی خواہشات و واقعات اور حالات کا ادلہ بدلہ نہیں ہے بلکہ دو اچھے انسانوں کو شادی خوش اسلوبی سے کرنی اور نبھانی چاہیے۔

حالیہ دور کی عورت پڑھ لکھ کر معاشی طور پر کسی کی محتاج نہیں ہے تو بھی شادی ٹوٹ رہی ہے، اور اس کی وجہ نا انصافی ہے۔ عورت کی تنخواہ اس سے لے لی جاتی ہے، شوہر حضرات شک کرتے ہیں۔ اگر بیوی کی تنخواہ زیادہ ہو تو احساس کم تری کا شکار ہوتے ہیں، کبھی کبھی فریقین کے والدین بھی دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکساتے ہیں۔

بہ حیثیت مجموعی ہمیں اس کا ادراک کرنا ہو گا کہ عورت کو انسان سمجھا جائے۔ اس کی پرورش انسان کے طور پر کی جائے، مساوی بنیادوں پر درس گاہوں میں مکمل تحفظ کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے دی جائے، لباس پر باتیں بنانی بند کر دی جائیں۔ ملازمت کے یکساں مواقع فراہم کرنے چاہیے۔ پسند کے نکاح کی اجازت ہونی چاہیے۔ اگر مختلف وجوہ کی بنا پر شادی جاری نہیں رکھی جا سکتی تو بجائے ساتھ رہنے پر زبردستی کرنے اور مشکلات مں اضافہ کرنے سے دینی لحاظ سے علاحدگی اختیار کرنے دی جائے۔

سماج میں تہذیبی و اخلاقی معیار قائم رکھنے کے لئے اچھے برے، مثبت و منفی سب پہلووں کو مد نظر رکھ کر ہی سماجی و معاشرتی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے اور اسی طرح شادی کے ادارے کو بھی کام یاب رکھا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •