راجہ گِدھ اور عشق ِلاحاصل کی جستجو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لفظوں کے بت ٹوٹ چکے ہیں

کورا کاغذ پڑا ہوا ہے

گدھ نے کب زندوں کو نوچا

شیر نے کب مردوں کو چھوا ہے

اپنی اپنی بین سنبھالو

(سنا ہے شہر میں ناگ آیا ہے (احمد سوز

ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان میں گدھ کی چار نسلیں موجود ہیں اور چاروں ہی اِس وقت خطرے سے دوچار ہیں۔ آپ اس چار نسل کو چار ستون سے مت جوڑیئے گا۔ کسی بھی ستون سے گدھ کی مماثلت آپ کی ذاتی اختراع ہوسکتی ہے میرا کسی کی جانب اشارہ مقصود نہیں۔ گدھ کو جتنا چاہیے کریہہ پرندہ سمجھیں لیکن درحقیقت یہ ایک ماحول دوست ہے۔ گدھ مُردار خور ہونے کے باعث مُردہ جانوروں کو کھا کر ماحولیاتی توازن برقرار اور ماحول کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

رب کائنات نے کوئی چیز بھی بے مصرف نہیں بنائی۔ ہم گدھ کو کن محاوروں میں استعمال کرتے ہیں، یہمجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔ موجودہ ملکی حالات و واقعات میں گدھ کی مثالیں بھی با کثرت دی جا رہی ہیں۔ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ہر پہلو میں منفی رجحان کو لینا ہماری عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ گدھ کی مثالوں وطعنوں کے ساتھ کئی دنوں سے سیاسی ہنگام مچا ہوا تھا۔ حالاں کہ گدھ ماحول دوست شکاری پرندہ ہے۔ گدھ کی فطرت میں ہے کہ یہ عموماً صحت مند جانوروں پر حملہ یا شکار نہیں کرتے بلکہ بیمار اور لاغر جانوروں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔

ان میں سونگھنے کی صلاحیت یعنی قوت شامہ بہت تیز ہوتی ہے جسے بلندی پر مردار کی بو پہنچ جاتی ہے۔ اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ یہ اکیلے اپنے شکار کو نہیں کھاتے بلکہ جھنڈ کی شکل میں بلندی سے اُتر کر مردار کے اندرونی اعضا جسے آنت، جگر اور دل شوق سے کھاتے ہیں۔ گدھ کی سب سے بڑی خاصیت یا خوبی کی وجہ سے ہی ایسے صفائی کرنے والا پرندہ کہا جاتا ہے یعنی جنگلوں میں مردار جانوروں کو یہ پرندے تھوڑی دیر میں ہی چٹ کر جاتے ہیں۔ جب گدھ غذا کھا لیتا ہے تو اسے ہضم کرنے کے لیے سو جاتا ہے یا نیم خوابیدہ کی حالت میں رہتا ہے۔

اب یقیناً آپ اپنے اپنے حساب سے سوچ رہے ہوں گے کہ شاید میں گدھ کو ذومعنی استعمال کررہا ہوں، تو میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ جو کچھ آپ سوچ رہے ہیں وہ اتفاقی یا مماثلت ہی ہوسکتی ہے، میں کسی بھی حوالے سے ایسا ابہام یا قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتا، ہمیں حسن ظن سے کام لینا چاہیے۔ کالم لکھنے سے پہلے بڑی سوچ بچار کرتا ہوں کہ کس موضوع پر لکھوں۔ لیکن جب لکھنے بیٹھتا ہوں تو اپنے قرب وجوار کے حالات و واقعات سے براہ راست متاثر ہونے کے سبب ذہنی رجحان کے برعکس دوسری جانب جانا بڑا دشوار ہوجاتا ہے۔

اب اس کی جو وجوہ بھی سمجھیں لیکن درحقیقت ہم اپنے ماحول سے جڑے ہوئے ہیں اور اسی ماحول میں ہمارا واسطہ اُن گدھ سے بھی پڑتا ہے جو لاغر و بیمار جانوروں کے دل، جگر اور آنت پر نگاہیں جمائے بیٹھا ہوا ہے اور ایسے شیروں کو بھی دیکھتے ہیں جو مُردہ جانوروں کے بجائے نئے شکار کی تلاش میں ہیں۔ اب آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ میری مراد جنگل کے جانوروں سے تو ہرگز نہیں، تو یہاں آپ درست کہتے ہیں کیونکہ انسان ایک سماجی جانور بھی ہے۔ اس سماج میں ہمیں ہرطرح کے لوگ ملتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ایک جنگل کی طرح ہے لیکن اس میں جنگل کا قانون بھی نہیں ہے۔

مجھے اُس بھوکے بچے کی کہانی یاد آگئی جو ایک وقت کا کھانا بھی پیٹ بھر کر نہیں کھا سکتا تھا۔ لیکن اس کے والد کے انتقال کے بعد کسی انسان ترس نے نیاز کی دیگیں چڑھائیں اور اس دن اس بھوکے بچے نے خوب پیٹ بھر کر کھایا۔ گاؤں والوں نے تین دن تک اس گھر میں پہلے سے بجھے چولہے کو جلنے نہ دیا۔ تین دن کی رسم روایت کے بعد سب کچھ ویسا ہی ہوگیا جیسے پہلا تھا، بھوکا بچہ جو اپنے والد کے مرنے پر نہیں رویا تھا، اس باربھوک لگنے سے رونے لگا، کیونکہ وہ پیٹ بھر کھانے کے بعد بھوک کی اذیت سے بخوبی واقف ہوچکا تھا لیکن اس کی معصومیت ابھی باقی تھی۔

اس نے بالآخر پوچھ ہی لیا کہ گاؤں والے دوبارہ کب کھانا لائیں۔ والدہ نے بڑی یاس بھری نظروں سے اپنے لخت جگر کو دیکھا اور ہوک بھرکر کہا کہ جلد ہی۔ لیکن میرے لال، یہ پاپی پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے پورے گاؤں میں روز کسی نہ کسی کو مرنا ہوگا۔ گاؤں کے گاؤں ختم ہوجائیں گے لیکن پیٹ کی آگ نمرود کی جلائی گئی آتش سے بھی بھیانک ہوتی ہے۔

مجھے بتایا گیاکہ 17 نومبر 2019 کو پیرس احتجاج کو ایک برس مکمل ہوگیا ہے اور فرانس حکومت کے خلاف ”پیلی جیکٹ“ احتجاج ابھی تک جاری ہے۔ یہ عوام کا احتجاج ہے۔ پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوتا تو اس پر جو جواب دیا، وہ یہاں لکھ نہیں سکتا اس لئے آپ اپنی مرضی کے مطابق جو چاہیں سوچ سکتے ہیں۔ مجھ سے سیاسی جماعتوں کے لیڈروں اور حکومتی رویئے کے بابت بھی پوچھا گیا تو میں نے اُن کو وہی کہا جوآپ کہتے ہیں۔ یقین کیجئے کہ میں نے اپنی ذاتی رائے کو ایک طرف رکھا اور جو کچھ آپ مجھے فیڈ بیک کی شکل میں دیتے رہے ہیں، اُسے من و عن احباب کے سامنے پیش کردیتا تھا۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کیا کہتے رہتے ہیں اس لئے جگہ کی کمی کی وجہ سے لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کررہا۔ میں کالم میں وہ سب کچھ لکھنا چاہتا تھاجو آپ آج کل سوچ رہے ہیں، کوئی خوشی کے شادیانے بجا رہا تھاتو کوئی مایوسی سے گھر بیٹھ گیا۔

یقین جانیں سب کچھ قلم کی ”تیز دھار“ کے ساتھ لکھنا چاہتا تھا، لیکن زمانے کی روایات بدل چکی ہیں۔ اب مجھ سے بھی قلم کی تیز دھار استعمال نہیں ہوتی کیونکہ میں نے قلم کا استعمال چھوڑ دیا ہے۔ میں لیپ ٹاپ پر کیِ بورڈ کو پیانو سمجھتا ہوں۔ یہ بھی اچھا ہی ہے کہ پیانو بجا رہا ہوں ورنہ بانسری بجاتا تو آپ کہتے ملک جل رہا ہے اور لالہ بانسری بجا رہے تھے۔ میں نے بانو قدسیہ کے شہرہ آفاق ناول ”راجہ گدھ“ کو کئی بار پڑھنے کی کوشش کی۔

لبابہ نے مجھے سیمی اور آفتاب کی کہانی سے واقف تو ضرور کرایا لیکن اتفاق ہے کہ ابھی تک ’راجہ گدھ‘ کو نہیں پڑھ سکا شاید اپنے معاشرے میں راجہ اور گدھ کو دیکھتے دیکھتے ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ طبقاتی تفریق اور ناول کے فکر انگیز پہلوؤں کو پڑھوں، کیونکہ یہ سب کچھ مجھے اپنے ارد گرد، دیکھنے کو مل جاتاہے۔ بقول لبابہ، کہانی کئی نظریات کے محور میں گردش کرتی ہے ایک فرائیڈ کا نظریہ انسانی جبلت، جہاں انسان کی اشتہا کا کسی بھی صورت میں پایہء تکمیل ہونا ضروری ہے۔ مگر مصنفہ کہتی ہیں کہ ایسی اشتہا عشقِ لاحاصل کی جستجو ہے۔ ”مانے نہ مانے کوئی، اصل پاگل پن کی صرف ایک وجہ ہے، صرف ایک وجہ، عشق لاحاصل، عشق لاحاصل، عشق لاحاصل۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •