تخلیق کار کون ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکثر دوست و احباب کا یہ سوال رہتا ہے کہ کیا کوئی بھی فن پیدائشی ہوتا ہے، معاشرے میں رہ کر سیکھا جاتا ہے، ماں باپ کی بدولت یعنی رواثتی ہوتا ہے یا پھر کسی کی زیرپرستی رہ کر حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ بحث خاصی طویل اور لاتعداد دلائل پر مبنی ہے کیونکہ کئی مشہور و معروف فنکار اعلی مقام پر پہنچ کر توجہ پانے یا کسی کو قائل کرنے کے لئے من گھڑک قصہ سنا دیتے ہیں جیسے وہ غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے یا ادھوری محبت وغیرہ وغیرہ، جس سے سننے والا اپنی شخصیت بھی اسی پیمانے سے ناپنے میں مشغول ہوجاتا ہے۔

اپنی حقیقی پہچان کو ڈھونڈنا اس دنیا میں قدرے مشکل فعل ہے کیونکہ انسانی زندگی وہ جھوٹ ہے جس کا سچ کئی ادوار سے ڈھونڈنے پر ہزاروں فلاسفرز، سائنسدان اور مذہبی علما مصروف ہیں۔ میں یہاں کسی بھی کتاب، فنکار، ماہر نفسیات یا تجربہ کار کو بطور حوالہ بالکل پیش نہیں کرونگا کیونکہ ایسا کرنے سے مزید آپ خود پر تحقیق کرنے کی بجائے اس حوالہ پر مزید غور کرنا شروع کردیں گے۔ سب سے پہلے تو آرٹ کیا ہے یہ جاننا اہم ہے۔

آرٹ ایک ایسی بنیادی قوت ہے جو ثقافتوں کو قریب لاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ایسے بنیادی معیار ات فراہم کرتی ہے جن پر معاشروں کے معیار، تخلیقی صلاحیت، آزادی اور ان کی تنقیدی بصیرت کو جانچا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے پیدا کردہ آرٹ کی رسمی اور تکنیکی جدت کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ آرٹ کسی بھی فرد کی انفرادی خوشی کی تخلیق ہوتی ہے جس سے اجتماعی طور پر پورا معاشرہ خوشی حاصل کرتا ہے البتہ انفرادی طور پر ایک کو راضی کرنا ناممکن ہے البتہ اکثریت کیا چاہ رہی ہے یہ معنی رکھتا ہے۔

آرٹ پر بہت سے تجزیات و مشاہدات کے گئے ہیں۔ لیکن سادہ الفاظ میں آرٹ کوئی بھی ایسا انوکھا کام ہے جو تخلیق کار کے ذہنی سکون کے لئے پہلے میسر ہو اور بعد از اس کے معاشی معاملات اور معاشرے کے لئے فائدہ مند ہو۔ حتی کہ معاشی معاملات کا آرٹ سے کوئی لین دین نہیں ہے لیکن اس سے بھلا کیا ہو کہ آپ کا فن ہی آپ کا پیشہ بن جائے۔

ماہرین کی ایک ریسرچ کے مطابق یہ نتائج بھی اخذ کیے گئے ہیں کہ ہر کوئی گلوکار بن سکتا ہے البتہ اگر گانے کی مناسب مشق کی جائے پھر منفرد آواز کا ہونا بھی سوفیصد قابل قبول ہے۔ دیکھ، سُن کر ہر کوئی کسی کا فن دوبارہ سے اجاگر کرسکتا ہے لیکن اپنی ذاتی پہچان کے لئے آپ کا انفرادیت پر پختہ یقین ہونا لازمی ہے۔

مشہور مثل ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اب یہ ضرورت اپنی ذہنی تسکین کے لئے بھی ہوسکتی ہے، معاشی حالات کے لئے بھی ہوسکتی ہے۔ جولاہا اپنے بیٹے کو زبردستی ہتھوڑا تھماتا ہے، ڈاکٹر اپنے بیٹے کو اپنے پیسے کی چمک دکھاتے ہوئے میڈیکل فیلڈ میں بھرتی کرتاہے کیونکہ معاشی معاملات پہلے سوچے سمجھے جاتے ہیں لیکن اس دوران بچہ آپ سے پھر بھی محبت کرتا ہے لیکن وہ اپنے آپ سے محبت کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

تخیلق کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ آپ سب سے پہلے خود کو سنیں، خود کو سننے کے لئے آپ کے اردگرد خاموشی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اتنی خاموشی کہ آپ اپنے اندر کا شور سنیں، آپ کو بے تحاشا پینٹرز کے کینوس پر چلتے برش سنائی دیں گے، آپ کو ہر طرف سے مکرر مکرر کی صدائیں سنائی دیں گی، آپ کو بے شمار گلوکاروں کا ہجوم سنائی دے گا، آپ کو بے تحاشا اڑتے صفحات کا شور سنائی دے گا اور جب یہ سب بند ہوگا تو کہیں دور آپ کو اپنا وجود کسی روشن جگہ پر ہستا دکھائی دے گا۔ آپ کو فقط اس کو گلے سے لگانا ہے۔ اپنا آپ تسلیم کرنا ہے پھر وہ وجود آپ سے ہم کلام ہوگا، آپ کو روشن سمتیں دکھائے گا۔

آگ ایجاد کرنے والا انسان بھی ممکن ہے تنہا ہی تھا جو اپنی تسکین کے لئے ایسا کرپایا۔ اگر اس کے ساتھ اس کا ساتھی ہوتا تو وہ کسی نا کسی گفتگو میں مشغول رہتے۔ آپ کا ذہن تب بولتا ہے جب آپ کے لب سی دیے گئے ہوں۔ اگر ہم خدائی وجود پر ایمان لاتے ہوئے اس پہلو پر روشنی ڈالیں تو مذہبی تارِیخ بے تحاشا آرٹ سے لبریز ہے۔ اس میں سب سے پہلے لفظ تنہائی کو ہم بلیک بورڈ پر لکھ کر اس پر دھیان دیں تو خدا آپ کو تنہا بتایا گیا ہے۔

اپنی تنہائی کو بروئے کار لاتے ہوئے اس نے کیا کیا سیارے، چرند پرند، دریا سمندر، صحرا، حیوانات، جنگل کے جنگل اور ناجانے کیا کیا، مختصرا ایک لامحدود کہکشاں کھینچ دیا اور پھر انسان کا وجود تک بناڈالا۔ اس کا ہونا یا نہ ہونا بہت بعد کی بحث ہے اول یہ دیکھنا اہم ہے کہ اس کا تنہا ہونا کتنا پائیدار ہے۔ پھر آدم اور حوا کا تنہا ہونا، غرض تنہائی میں آپ کو تخلیقی خیالات آتے ہیں جو کہ آپ کی اپنی تسکین کے لئے ہوتے ہیں۔ معاشرے میں رہتے ہوئے، گھر میں رہتے ہوئے، دوستوں میں رہتے ہوئے آپ وہی پرانے خیالات، پرانی گفتگو کی ہی مشق کرتے ہیں۔ مجھے خود گھر سے آئے چار سال ہونے کو ہیں لیکن اب تک اپنے وجود کی تلاش میں ہوں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ Solitude Is An Important Part Of Being An Artist۔

میں چند ایک تخلیق کار دوستوں سے ملا جن میں کئی معیاری ادیب، شعرا، پینٹر ہیں، ان سب کا مشترکہ جواب یہی تھا کہ بس ہاسٹل کے کمرے میں خیال آیا۔ یا یونہی فلیٹ پر بیٹھے یہ سوچا۔ ان سب میں جو مشترکہ علامت مجھے نظر آئی وہ تنہائی ہی تھی۔ اپنے بچے کو اس کے ساتھ وقت گزارنے دیں۔ جوائینٹ فیملی سسٹ٘م میں انسانوں کی بجائے روبوٹ پائے جاتے ہیں کیونکہ وہ اسی خاندانی نظام کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں۔ جم روہن نے کہا تھا ”You are the average of the five people you spend the most time with“۔

لہذا تخلیقی صلاحیت کو پرکھنے کے لئے کچھ دیر کے لئے اپنے سیارے پر جائیں جہاں کہ آدم صرف آپ ہوں۔ پورا سیارہ کاشت کریں۔ اپنا آرٹ پہچان کر متعارف کروائیں پھر یہی لوگ آپ کو سر پر بٹھائیں گے۔ جہاں آپ نے دو لوگوں کی محفل کو رد کیا ہوگا وہاں اپنی پہچان پالینے کے بعد آپ کو دس لوگ اپنی محفل کا حصہ بنانے پر رضامند کریں گے۔ آپ کا تنہا جی لینا ہی آرٹ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •