تہذیبی زبوں حالی اور ہمارے بچے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر تباہ حال تہذیب جہالت اور وحشت کے قد آور درخت کا پھل ہوتی ہے جو اس کے تنے سے بہت دور جا کر گرتی ہے۔ سماج میں جب نیکی اور پاک دامنی برائی، دولت اور جرم کے سامنے سر تسلیم خم کر لے تو یقین کر لیجیے کہ وہ معاشرہ اخلاقی گراوٹ اور اقتصادی استحصال میں بہت آگے بڑھ گیا ہے اور ایک ایسی گلی کی جانب گامزن ہے جو آگے سے بند ہے اور اس گلی میں جتنے بھی گھر ہیں وہ سب کے سب تباہی کے آسیب میں جکڑے ہوئے ہیں جہاں سے مدد ملنے کا امکان عبث ہے۔

آج کا پاکستانی معاشرہ جس اخلاقی تنزلی کا شکار ہے وہ کوئی آج کا قصہ نہیں اور نہ ہی چند برسوں میں یہ گراوٹ ہمارا مقدر بنی ہے کہ چند سال کا بچہ اور قبر میں دفن عورت ہوس کا نشانہ بنائی جا رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسے اخلاق سوز واقعات کی فہرست میں دن بدن اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔ بگاڑ کہاں سے آ رہا ہے۔ ہماری خوراک میں کیا چیز شامل ہے جو ہمیں منفیت کے دائرے میں لے کر گم ہو رہی ہے۔

شروع سے دیکھا جائے تو بچوں کی کردار سازی میں اولین درس گاہ گھر ہے، گھریلو ماحول جس میں وہ ابتدائی سانس لیتے ہیں وہی انہیں عمر بھر کے لیے آکسیجن فراہم کرتی ہے۔ یہ ہوائیں جتنی ہموار اور صاف ستھری ہوں گی بچے اتنی ہی خوبصورت شخصیت کے مالک ہوں گے اور فضائیں جتنی آلودہ ہوں گی شخصیت اتنی ہی بدبودار ہو گی چاہیے تعلیم کی کتنی ہی ملمع کاری کیوں نہ کر دی جائے۔ رزق حلال بہت بڑی نیکی ہے جو ہم اپنے اور اپنے بچوں کے ساتھ کرتے ہیں کیونکہ اس کے ثمرات آلودگی سے پاک اور دیر پا ہوتے ہیں۔

ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ تعلیم یافتہ افراد کس طرح اپنے اردگرد رہنے والوں کے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ کوئی ان سے آگے نہ نکل جائے۔ ترقی نہ کر لے۔ دوسرے کی کامیابی ان کے اندر حسد اور جلن کے جذبات پیدا کر دیتی ہے پھر وہ سازشیں بھی کرتے ہیں اور کبھی کبھی صورت حال کھلی جنگ میں ڈھل جاتی ہے جہاں اچھائی کے سبھی پہلو ہؤا میں اڑا دیے جاتے ہیں جبکہ دونوں اپنے اپنے مقدر کا کھا رہے ہیں پھر دوسرے کے حصے پر اپنا حق سمجھنا چہ معنی۔

محاورہ ہے کہ دیگ کا ایک دانہ ہی دیگ کے اندر کی پوری کہانی بتا دیتا ہے اسی طرح ایک شخص کا سماجی کردار اس کے پورے خاندان کا تعین کر دیتا ہے اور حسب نسب پر سوالیہ نشان کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایسا گھریلو ماحول جس میں اچھی روایات کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اس میں پرورش پانے والے بچے بڑے ہو کر کم از کم استحصالی سوچ سے محفوظ ہوتے ہیں مگر استحصالی نظام کی چکی میں پس ضرور جاتے ہیں۔

سہنے اور برداشت کی تربیت فرد گھر سے سیکھ کر معاشرے میں نکلتا ہے۔ دوسروں کے لئے اپنے جیسا سوچنے کا درس پیدا کرنے والے دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سماج آپ کو وہی لوٹاتا ہے جو آپ اسے دیتے ہیں ماسوائے اگر آپ کی کوئی آزمائش نہ آئی ہو۔ جی گھر کا ماحول انسانیت سیکھاتا ہے اس کے بعد باری آتی ہے تعلیمی اداروں کی جہاں ذہنی تربیت استاد کرتا ہے۔ جنسی درندگی کا شکار ہر طبقے کی عورت یا بچہ ہو جاتا ہے کچھ چھپا جاتے ہیں اور کچھ سامنے لے آتے ہیں۔

اگر گھر میں بچے کو بہتر ماحول یا تربیت نہیں ملے گی کردار سازی نہیں ہو گی اس کے بچے زندگی کے ہر شعبے میں منفیت کو فروغ دیں گے منفی رویوں کو لے کر چلے گے اپنے رشتوں میں بھی وفادار نہیں ہوں گے۔ جھوٹ کثرت سے بولیں گے چاہیے اس سے دوسرے کی زندگی تباہ کیوں نہ ہو جائے اس سے ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ خود غرضی کی یہ تربیت انہیں گھر سے ملی ہوتی ہے جہاں جو اچھا لگا اسے حاصل کر لو۔ کیسے ہر ناجائز طریقے سے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ہر شخص ان جیسا نہیں ہوتا۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سچ سامنے آنے پر دوسرے کا ردعمل کیا ہوگا۔ تعلق یا رشتے کا مستقبل کیا ہو گا؟

مجھے یاد ہے کہ ہم چھوٹے تھے تو ہمیں ایک بات سمجھائی جاتی تھی کہ بچوں سچ بولنا ہے کیونکہ اس کا نقصان کوئی نہیں۔ آپ جو ہو جیسے ہو ویسے دوسروں سے ملو۔ لوگ آپ سے فاصلہ رکھتے ہیں یا تعلق یہ ان پر چھوڑ دیں۔ آپ کا دامن جھوٹ اور فریب کی آلودگی سے پاک ہونا چاہیے۔ پھر جو آپ کا ہے آپ کے لیے ہے آپ کو مل کر رہے گا اور اگر غلط سامنے آئے گا تو آپ خود ہی پیچھے ہٹ جاؤ گے۔ یعنی بات پھر گھوم پھر کر تعلیم سے زیادہ تربیت پر آ جاتی ہے جس کا مرکز گھر اور اس کا ماحول ہے۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ آج کے والدین کو تربیت کی ضرورت ہے تو غلط نہیں کیونکہ معاشی ڈور میں لگ کر وہ اپنے بچوں کو بھول گئے اور جب بچے کی تربیت ماں کی بجائے کوئی ملازم یا ملازمہ کے ہاتھوں ہو گی جن کا کام ڈائپر تبدیل کرنا ہوتا ہے تو پھر ان کی ذہنی نشوونما کیسے ہو گا ہم سمجھ سکتے ہیں۔ بعض مڈل کلاس خاندان اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں بہت محتاط ہوتے ہیں وجہ وہ جانتے ہیں کہ بگڑ گئے تو کسی کا کچھ نہیں جانا سارے خسارے ان کے حصے میں آنے ہیں۔

ہمیں یہ نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج کے بچے کو معاشی اور عملی زندگی میں جس قسم کے چیلنچز کا سامنا ہے وہ اس میں تبھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں جب ان میں صحیح اور غلط کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت ہو گی اور بلاشبہ یہ شعور آپ کو پہلے گھر والے دیں گے، معاشرہ دے گا، استاد دے گا اور سب سے اہم آپ خود بھی اپنے آپ کو یہ شعور دیں کہ گالی کھانی ہے یا دعا لینی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •