کیا کپتان پویلین کی طرف لوٹ رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیگم کلثوم نواز کی بیماری کے دوران بھی ایسی ہی باتیں کی جاتی رہیں جو اب میاں محمد نواز شریف کی بیماری پر کی جارہی ہیں۔ سوشل میڈیا کے غازی اس بیماری کو بھی ایک ڈرامہ اور احتساب سے بھاگنے کا راستہ بتا رہے تھے اور اب بھی ان کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کو این آر او دیا جاچکا ہے۔ خدا جانے تب نواز شریف اور مریم نواز کو کوئی غیبی طاقت پاکستان واپس لے آئی یا انہیں یہ یقین تھا کہ انہیں این آر او مل جائے گا خیر وجہ جو بھی میاں نواز شریف اور مریم نواز اپنی زندگی کے سب سے قیمتی اثاثے کو چھوڑ کر پاکستان آگئے اور عدالتوں کا سامنا کیا اور پھر کلثوم نواز شریف خاندان کو چھوڑ کر اس دنیا سے چلی گئیں۔

میاں محمد نواز شریف کی بیماری پر بھی اسی قسم کا غیر جمہوری رویہ اختیار کیا گیا۔ حکومتی اراکین یہی چاہتے تھے کہ میاں صاحب ملک سے باہر نا جائیں لیکن عدالتی فیصلہ انہیں تسلیم کرنا ہی پڑا۔ جس پر شیخ رشید نے انکشاف کیا کہ اب لینے کے دینے پڑ رہے تھے۔ بہرحال یہ ایک الگ ہی بحث ہے کہ امیروں کا علاج بیرون ملک کیوں کرایا جاتا ہے؟ میاں صاحب واپس آئیں گے یا نہیں؟ لیکن اس وقت ملکی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو سب کے انداز بدلے بدلے نظر آتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان جنہیں عدالتوں پر مکمل اعتماد تھا، جنہیں عدالتی فیصلہ انصاف پر ہی مبنی لگا کرتے تھے انہوں نے ہزارہ موٹروے حویلیاں مانسہرہ سیکشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہناکہ موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور آئندہ چیف جسٹس گلزار احمد سے گزارش کرتا ہوں کہ انصاف کے لیے کردار ادا کریں، طاقتور لوگ فیصلے لکھواتے رہیں، ملک کو ان چیزوں سے آزاد کرائیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دونوں عظیم ججزسے قوم کی طرف سے کہتا ہوں اس تاثر کو ٹھیک کریں۔ چاہتا ہوں کہ قانون کو ٹھیک کرنا چاہیے، چاہتا ہوں کہ کمزور سے کمزور آدمی بھی طاقتور کے سامنے کھڑا ہو تو اسے یقین ہو اسے انصاف ملے گا۔

بات وزیراعظم کی حد تک محدود نہیں رہتی تحریک انصاف کی اہم اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے رہنما بھی اچانک مولانا فضل الرحمان کے گرویدہ ہوگئے ساتھ ہی انہیں ماضی کے حوالے سے اہم واقعات یاد آگئے جن کا انکشاف چوہدری پرویز الہی نے کر بھی دیا۔ بڑے چوہدری صاحب کو بھی خطرہ محسوس ہوا کہ ملکی حالات کے پیش نظر کچھ ماہ بعد کوئی ملک کا وزیراعظم تک بننے کو تیار نہیں ہوگا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے حلقوں میں بھی تحریک انصاف سے اتحاد آج کل سنجیدہ بحث کا مرکز ہے اور دھرنے کا ساتھ نہ دینے والی پیپلز پارٹی نے بھی 30 نومبر سے حکومت مخالف تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا دھرنا پلان بی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ پلان بی محض علامتی احتجاج ہے۔ مولانا کے لہجے کی نرمی بتا رہی ہے کچھ تو ایسا ہے جس سے مولانا فضل الرحمان، ان کی جماعت اور ان کے اتحادی مطمئن ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو خدانخواستہ پلان سی کا آغاز ہوسکتا ہے جس کے نتیجے می ملک کی اندرونی شاہرہیں جام کی جائیں گی، یقینی طور پر اس معاملے سے نمٹنے کے لئے اداروں کو ایکشن لینا ہی ہوگا اور ملک میں گرفتاریاں ہوں گی، حالات مزید خراب ہوں گے، عمران خان کی مخالفت میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

کپتان کی پارٹی کل تک سب کی آنکھوں کا تارا تھی لیکن اچانک سب کو کیا ہوگیا؟ اہم سوال یہ ہے کہ عمران خان کو گھر بھیجنا کتنا مشکل ہے؟ اس کا جواب یقینی طور پر یہی ہوگا کہ یہ کام بالکل بھی مشکل نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جمیعت علما اسلام ف، جماعت اسلامی اگر متحد ہوجائیں تو کپتان کی اتحادی جماعتیں اپنا رویہ مزید بدل سکتی ہیں، سیاست میں کچھ حرف آخر نہیں ہوتا۔ کیا ایسی صورتحال میں عمران خان صاحب عوامی طاقت کا استعمال کرسکتے ہیں؟

کیا عوام ان کا ساتھ دے گی تو اس کا جواب ڈالر، پیٹرول، ٹماٹر کی قیمتیں ہیں۔ وزیراعظم کے بیان کچھ بھی ہوں قوم کی اکثریت یہی سمجھتی ہے کہ موجودہ حکومت کشمیر کے معاملے میں فیل ہوچکی ہے۔ ایسی صورتحال میں وزیراعظم یا تحریک انصاف کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ پاکستانی عوام عمران خان صاحب کو رجب اردوان تصور کرے گی۔ ان کی محبت میں اپنی جان کی بازی لگا دی تو یہ ان کی غلط فہمی یا خوش فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اگر عمران خان صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک منتخب وزیراعظم ہیں ان کو بھر بھیجنا اتنا آسان نہیں تو یہ ان کی مطالعہ تاریخ کی کمی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔

اس وقت حالات نہ تو عمران خان کے حق میں ہیں نہ ہی عوام کے حق میں ہیں۔ عمران خان کو اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہوگا۔ وہ بلاول کی جتنی ہی اچھی نقل اتار لیں، جتنی اچھی تقریریں کر لیں عوام مہنگائی سے بیزار ہیں۔ عمران خان کو ناتجربہ کار کھلاڑیوں اور فلاپ کھلاڑیوں کے بجائے اپنی کابینہ میں موجود قابل افراد کو آگے لانا ہوگا، اپنے مزاج سے ”میں“ کو نکالنا ہوگا، دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب ہر وقت نشتر چلانے کے بجائے ملکی حالات کی بہتری کے لئے ان سے بھی مدد حاصل کرنا ہوگی۔

فوج ملکی حالات کی بہتری کے لئے موجودہ حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، عمران خان کا عوام کو ریلیف دینے کے لئے بیان بازیوں کے بجائے آل پارٹیز کانفرنس بلانی چاہیے، احتساب کا عمل عدالتوں کے سپرد ہی رہنا چاہیے، عمران خان کو سیاسی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، کپتان اگر اپنی اسی ٹیم کے سہارے چلتے رہے تو ملک و عوام کے حالات مزیدتشویشناک ہوسکتے ہیں جس کا فائدہ اپوزیشن کو ہوگا، اپوزیشن کی ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں کہیں کپتان کو لوٹ کر پویلین نہ جانا پڑے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •