ایک حسینہ تھی ایک غم گسار تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا زمانہ تھا نہ فکر نہ فاقہ، بس عیش کر کاکا۔ شام چھے بجے سے لے کر صبح چار پانچ بجے تک ہم ہوتے تھے اور لاہور شہر تھا۔ ایک گھنٹا لگتا سب دوستوں کو اکٹھا کرنے میں۔ پھر یہ فیصلہ ہوتا کہ آج کہاں سے شروع کریں۔ کام تھا ہی بڑی مہارت والا۔ آخر ہر رات کو اتنی دیر لاہور میں پونڈی کرنا بھی بڑی مہارت کا درجہ رکھتا ہے۔ خیر اسی پونڈی کے چکر میں ہمیں لاہور کے کچھ چھپے ہوئے راز بھی آشکار ہوئے اور بہت حسین واقعات بھی پیش آئے۔

ایسی ہی ایک رات کو ہم تھک ہار کر پی سی لاہور آ گئے۔ روز کی لسٹ میں پی سی ایک پکا ٹھکانا تھا۔ جب کہیں کچھ نہ ملتا تو پی سی کا رخ کر لیا جاتا۔ اور وہاں بیٹھ کر کافی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا اصل کام بھی جاری رکھا جاتا۔

دور ایک ٹیبل پر ایک خوب صورت لڑکی رو رہی تھی۔ فیصلہ مشکل تھا کہ کون جائے گا۔ خیر قرعہ میرے نام نکلا۔ ہمت پکڑی اور اس دوشیزہ کے ٹیبل پر جا کر بیٹھ گیا۔ وہ رونے میں اتنی مگن تھی کہ اس نے دیکھنا تک گوارا نہ کیا۔ نشست بدلی کہ شاید غور کر لے، لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا۔ اُلٹا اس نے اور اونچا اونچا رونا شروع کر دیا۔ اب سین کچھ یوں تھا، کہ جیسے اس کو رُلانے والا میں ہوں۔ تھوڑا ڈر لگنے لگا، لیکن واپس جانے میں بہت بزتی کا مقام تھا؛ کیوں کہ سب دوستوں سے لڑ کے اپنی باری لے کے آیا تھا۔ روتی کو مخاطب کیا، کہ رو تو ٹھیک رہی ہو، لیکن سنا ہے کہ دکھ بانٹ لینے سے تھوڑا کم ہو جاتا ہے۔ جواب ملا، کہ ہو کون تم اور یہ بالکل بھی صحیح ٹائم نہیں لائن مارنے والا۔

واپس جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ ہمت باندھ کر اسے کہا کہ بی بی نیکی کا زمانہ ہی ختم ہو گیا ہے۔ میں یہاں آپ کی ہم دردی میں آیا ہوں۔ آپ اور اونچا رو کر لوگوں کو یہ بتا رہی ہو کہ میری وجہ سے رو رہی ہو۔ روتے روتے اس نے کہا، میں اپنا راستہ ناپوں۔ ڈھیٹ تو ہم بچپن سے ہیں، کہا: ”بی بی میں آپ کا نام نہیں پوچھتا اور آپ میرا نام نہ پوچھیں، میں یہاں لائن مارنے نہیں آیا بلکہ آپ کا بوجھ ہلکا کرنے آیا ہوں“۔ میرا یہ ڈائیلاگ کام کر گیا اور وہ اپنا مسئلہ بتانے لگی۔

بات بہت طویل تھی، ختم ہونے کو نہ آ رہی تھی، اور مجھے وہاں بیٹھنا پڑ رہا تھا۔ دوستوں نے اشاروں کنایوں میں بتایا کہ انٹرنیشنل فلائٹ کے آنے کا ٹائم ہو گیا ہے۔ اچھی طرح پونڈی کرنے کے لیے وہاں ٹائم پر پہنچنا ضروری ہے۔ جب کہ میں ہم دردی میں پھنسا بیٹھا تھا۔ کیوں کہ بندی کا دکھ بانٹنے لائق تھا۔ جب میں نہ اٹھا تو دوستوں نے دور سے خدا حافظ کہا، اور چلتے بنے۔ رات مشکل ہوتی جا رہی تھی، لائن مارنے کے چکر میں۔ خیر رات گزرتی گئی، وہ بولتی رہی۔ فجر تک وہ اپنا دل کا بوجھ ہلکا کر چکی تھی۔ جب اس کی بات ختم ہوئی تو محترمہ نے شکریہ ادا کیا اور کہا، وہ تو ادھر ہی ٹھہری ہے، تو آپ اپنا راستہ ناپیں۔ خاتون نا صرف دیکھنے میں اچھی تھی، بلکہ رات بھر بات کرنے کہ بعد اندازہ ہوا، وہ سیرت میں بھی بے مثال تھی۔ چوں کہ اس خاتون سے وعدہ کر لیا تھا کہ نام نہیں پوچھیں گے، دل کہتا رہا انسان بن اور نمبر مانگ، لیک دماغ کہتا رہا، راجپوت ہے اپنی زبان کا پکا رہ۔ خیر دل پر پتھر رکھ کے گھر چلا آیا۔ اس کے بعد پی سی کے بہت چکر لگائے، لیکن وہ وہاں نہیں ملی۔

جب اس کی جگہ کسی اور نے لے لی، تو ایک دن لبرٹی میں مل گئی۔ میرے ساتھ میری والدہ بھی تھیں۔ اس نے کچھ نہیں دیکھا اور سیدھا آ کر بولی، کہ عجیب آدمی ہو نہ اس دن نمبر مانگا، نہ ڈھونڈنے کی کوشش کی اور انسان کو دوبارہ کوئی مسئلہ بتانا ہو، تو آپ کہاں ملتے ہیں؟ جب تک اسے بتاتا کہ میری والدہ ساتھ ہیں، وہ سب بول چکی تھی۔ میرے سے پہلے امی بول پڑیں، کہ بیٹا یہ ہے ہی ایسا، تم میرے ساتھ گھر چلو۔ امی ان دنوں میں اپنی بہو ڈھونڈ رہی تھیں اور بندی تھی تو بہت خوب صورت۔ خیر بڑی مشکل سے دونوں کو الگ کیا، اور نمبروں کا تبادلہ کیا۔ باقی یہ کہ بات خاصی آگے تک گئی لیکن کسی سرے نہ لگ سکی۔

آج اتنے سالوں بعد ایئر پورٹ پر محترمہ اپنے بچوں اور خاوند کے ساتھ نظر آئیں اور بغیر کسی جھجک کے آ کے بولیں، کہ آج کل بھی وہ رات بھر کسی کا دکھ سننے والی سہولت میسر ہے، کہ نہیں؟ میں نے یہ کہا، کہ شادی شدہ خواتین کے لیے نہیں ہے۔ ہم دونوں اپنی اپنی فلائٹ کے لیے اپنے اپنے گیٹ کی طرف چل دیے۔ لیکن میری سوچ وہیں اٹکی رہ گئی، کہ پتا نہیں وہ کس پرابلم میں ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فرحان احمد، راولپنڈی کی دیگر تحریریں
فرحان احمد، راولپنڈی کی دیگر تحریریں