تسمے اور جرابیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چھیرا پنجاب پولیس میں سپاہی تھا لیکن کم تنخواہ اوراخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے پارٹ ٹائم آٹورکشہ چلایا کرتا تھا۔ جب سے اس کی شادی ہوئی ضروریات زندگی روز بروز کسی پیٹو کے پیٹ کی طرح بڑھتے ہی جارہے تھے۔ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے آٹھ گھنٹے سرکاری ڈیوٹی کے ساتھ دس گھنٹے رکشہ میں گزارتا۔ چھیرا اس قدر شریف سادہ اور نیک انسان تھا کہ جس دن اس کی سہاگ رات تھی زوجیت کے بہت سارے ضروری لوازمات اس کی بیوی کو خود ہی مہیإ کرنے پڑے۔ یہاں تک کہ بیوی کے اندرونی لباس کے ہُک تک نہ کھول پایا تھا۔

پچھلی رات بارہ بجے اس نے اپنی سیکنڈ شفٹ میں ڈیوٹی مکمل کی اور اپنا آٹو نکال کر لاری اڈے پہنچ گیا۔ دن چار سے رات بارہ بجے تک مسلسل ناکہ ڈیوٹی کرنے کی وجہ سے آج چھیرا تھکان سے بے حال اور نیند سے چور تھا۔ دو چار سواریاں اٹھانے کے بعد چھیرے نے اپنا آٹو لاری اڈے کی ایک نکڑ میں لگایا اور اپنی میلی سی چادر منہ پہ اوڑھ کر آٹوکی پچھلی سیٹ پہ ہی نیم دراز ہوگیا۔ ابھی چھیرے کو اونگھ ہی آئی تھی کہ ایک نسوانی آواز نے اسے جگا دیا۔

چھیرے نے منہ سے چادر ہٹا کر دیکھا تو ایک نقاب پوش خاتون ہاتھ میں بھاری سا سفری بیگ لیے چھیرے کو دیکھ رہی تھی۔ یقیناً وہ خاتون رات کے اس پہر کوئی دور کی مسافت طے کر کے آئی تھی۔ چھیرے نے لیٹے لیٹے نیند میں ہی بڑبڑاتے ہوئے پوچھا جی باجی کہاں جانا ہے؟ ۔ تو خاتون نے کہا ”فرید نگر“۔ فرید نگر لاری اڈے سے کافی دور ایک پوش علاقے کا نام ہے جہاں امیر کبیر رئیس اور زیادہ تر بیرون ملک کاروبار کرنے والے ہی رہائش پذیر ہیں۔

فرید نگر کا نام سن کر چھیرا جھٹ سے اٹھ بیٹھا کیوں کہ فرید نگرکی سواری ملنا مطلب پوری رات کی خجالت ایک طرف اور فرید نگر کا ایک چکر ایک طرف۔ فرید نگر کی سواریاں کرایہ دیتے بحث نہیں کرتیں تھیں بلکہ بہت بار تو اضافی پیسے بھی مل جایاکرتے تھے۔ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا کہ فرید نگرجانے والی سواری ملتی۔ زیادہ تر تو فرید نگر کے لوگوں کے پاس اپنی گاڑیاں ہیں۔ چھیرے نے اٹھتے ہوئے کہا باجی پانچ سو کرایہ ہے فرید نگرکا۔

خاتون نے کہا ”اچھا یہ بیگ تو رکشے میں رکھیں۔ آپ پانچ سو ہی لے لینا“۔ چھیرے نے بیگ رکشے میں رکھا اپنی پٹرول کی بدبو والی چادر منہ پہ پھیری آنکھیں صاف کیں اور رکشے کا سوئچ لگاکر پوچھا باجی کتنے نمبر گلی میں جانا ہے؟ ۔ نقاب پوش خاتون نے کہا ”نہیں پہلے مجھے کسی گول گپے کی دکان پہ لے چلو“۔ چھیرے نے شیشے میں خاتون کی طرف دیکھ کر کہا باجی اس وقت رات کے ایک بجے گول گپے؟ خاتون نے کہا ”کیوں اس وقت دکان والے گول گپے نہیں بیچتے“؟

چھیرے نے کہا نہیں وہ تو گول گپے بیچتے ہیں لیکن آپ کا پیٹ خراب ہوسکتا ہے۔ خاتون نے ہنستے ہوئے کہا ”تم بڑے دلچسپ بندے لگتے ہو“ کیا نام ہے تمھارا؟ چھیرے نے کہا باجی میرا نام چھیرا ہے چھیرا آٹو والا۔ خاتون نے کہا ”اچھا مطلب تمھارا نام شبیر ہے“۔ ”گڈ“۔ ”اچھا یہ بتاٶ تم ہر زنانہ سواری کو باجی ہی کہتے ہو؟ “۔ چھیرے نے کہا جی بالکل میں سب عورتوں کی عزت کرتا ہوں۔ بس میرا شعبہ بدنام ہے ورنہ ہر رکشے والا برا نہیں ہوتا۔

خاتون نے کہا ”گڈ“ اچھے ط برے لوگ ہرجگہ اور ہر محکمے میں ہی پائے جاتے ہیں۔ میرا نام پروین ہے اور اس وقت میں اسلام آباد سے آرہی ہوں۔ چھیرے نے کہا جی وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس وقت آپ کو اکیلے سفر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ آپ کے شوہر کہاں ہوتے ہیں؟ پروین نے زیرلب مسکرا کے کہا ”تمھیں کیسے پتہ کہ میں شادی شدہ ہوں؟ “۔ چھیرے نے کہا بس ویسے ہی مجھے لگا آپ شادی شدہ ہیں۔ اتنے میں فروٹ چاٹ دہی بھلے اور گول گپوں کی شہر کی سب سے مشہور اور بڑی دکان کے سامنے چھیرے نے رکشہ روک دیا اور کہا پروین باجی گول گپے والی دکان آگئی۔

پروین نے کچھ پیسے شبیر کو دے کر کہا ”اب میں باہر نہیں نکل سکتی آپ گول گپے ادھر ہی لے آئیں“۔ میں رکشے میں ہی بیٹھ کر کھا لوں گی۔ شبیر جانے لگا تو پروین نے پیچھے سے آواز دے کر پوچھا۔ شبیر آپ کھاٶ گے کچھ۔ تو چھیرے نے سادگی سے کہا ( مینوں گول گپے وڈدے آ میں وی کھالوں ) مجھے گول گپے کاٹتے ہیں میں بھی کھالوں گا اور دونوں ہنسنے لگے۔ چھیرا دوپلیٹ گول گپوں کا آرڈر دے کر واپس آگیا اور رکشے کے باہر کھڑا ہوکر ویٹر کا انتظار کرنے لگا۔

پروین نے کہا ”شبیر اچھا یہ بتاٶ میں تمھیں کیسی لگی۔ “ شبیر نے ایک بار پھر انتہائی سادگی کا مظاہرہ کیا اور کہا اب مجھے کیا پتا آپ کیسی لگتی ہیں آپ نے تو نقاب کی ہوئی ہے۔ پروین نے مسکرا کے پھر سوال کیا آپ کے کتنے بچے ہیں شبیر؟ چھیرے نے کہا باجی میری چھ ماہ پہلے شادی ہوئی ہے ابھی بچہ کوئی نہیں۔ ویسے بھی دن کو ڈیوٹی کرتا ہوں رات ک رکشہ چلاتا ہوں بچے کہاں سے آئیں گے۔ ایک بار پھر دونوں ہنسنے لگے۔ پروین نے پوچھا تم رکشے کے علاوہ کیا ڈیوٹی کرتے ہو؟

چھیرے نے کہا بس چھوڑیں باجی ایک سرکاری ملازم ہوں۔ اتنے میں ویٹر گول گپے لے کر آگیا۔ گول گپوں کی پلیٹ پکڑ کر پروین نے نقاب ہٹائی، لیکن چھیرا رکشے کی اگلی سیٹ پہ بیٹھا اپنی دھن میں مگن گول گپے کھانے میں مصروف تھا، اس نے پلٹ کر بھی پروین کی طرف نہ دیکھا۔ پروین نے چھیرے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایک بار پھر پوچھا۔ شبیر اب بتاٶ میں کیسی لگتی ہوں۔ چھیرے نے مصالحے دار پانی کا گھونٹ بھرتے ہوئے پروین کو دیکھ کر کہا۔

آپ تو بڑی پیاری ہیں۔ ویسے میری بیوی بھی بہت خوبصورت ہے یہ موٹی موٹی آنکھیں گورا چٹا رنگ اس کے بال بھی بہت لمبے ہیں۔ میری بیوی میری بہت سیوہ کرتی ہے۔ میں تقریباً روز رات تین چار بجے گھر جاتا ہوں۔ میرے لیے گرم دودھ انڈا اس کے علاوہ جو میرا دل کرے فوراً بناکر دیتی ہے۔ میری تو جرابیں تک وہ خود اتارتی ہے۔ گرم پانی سے ہاتھ منہ دھلواتی ہے۔ جب زمین پر بیٹھ کر میرے جوتوں کے تسمے کھولتی ہے تو میں آسمانوں میں بیٹھے اپنے اللہ کی طرف دیکھ کر دل ہی دل میں بہت خوش ہوتا ہوں اور لاکھوں کروڑوں بار اس کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اتنا پیار کرنے والی خیال کرنے والی نیک بیوی دی بیچاری بہت خیال کرتی ہے میرا۔

شادی کے بعد میرے خرچے تو بڑھ گئے ہیں پر زندگی پرسکون ہوگئی ہے۔ باجی آپ کی سچ مچ شادی نہیں ہوئی۔ پروین نے سرد آہ بھر کے کہا شبیر میری شادی کو تین سال ہوگئے ہیں۔ میرا شوہر باہر دوسرے ملک میں جاب کرتا ہے۔ میری شادی کے چھ ماہ بعد وہ باہر چلا گیا تھا سال میں مہینے دو مہینے کے لیے آتا ہے۔ تین سال ہوگئے دفتروں کے چکر لگارہی ہوں آج بھی ویزے کے چکر میں اسلام آباد گئی تھی۔ میں نے سوچا رات کے اس پہر بوڑھے سسرکو کیاتکلیف دینی ہے رکشہ لے لیتی ہوں اور رکشے والے کی شکل میں آپ جیسے شریف انسان سے ملاقات ہوگئی۔

آپ بہت اچھے انسان ہو۔ ویسے آپ کی بیوی بہت لکی ہے۔ اس کا بہت خیال رکھا کرو۔ چھیرے نے پروین کے ہاتھ سے گول گپوں والی خالی پلیٹ پکڑتے ہوئے کہا باجی فی الحال تو وہ میرا خیال رکھتی ہے۔ میں گھر رہوں گاتو اس کا خیال رکھوں گا ناں اور گول گپہ شاپ میں برتن دینے چلاگیا۔ کچھ دیر بعد چھیرے کا رکشہ بہترین لوکیشن پہ تعمیرکیے گئے خوبصورت بنگلے کے سامنے جا رکا۔ پروین نے پرس سے چابی نکالی گیٹ کھولا اور چھیرے سے کہا شبیر بیگ اندر لے آٶ۔

گیراج کی بتی جل رہی تھی جسے پروین نے بند کردیا اور بنا شور کیے سیڑھیاں چھڑھ گئی۔ چھیرا بھی کندھے پہ بیگ لٹکائے پروین کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ ایک کمرے میں پہنچ کر چھیرے نے اجازت لینا چاہی تو پروین چھیرے کوصوفے پہ بیٹھنے کا اشارہ کرکے ایک منٹ کی اجازت لے کر دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ کچھ دیر بعد نیٹی پہن کر بال کھولے واپس آگئی اور اپنے گھنے سیاہ بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا شبیر اب بتاٶ میرے بال پیارے ہیں یا آپ کی بیوی کے۔

چھیرا کچھ بھی کہے بغیر کھڑا ہوگیا اور کہا باجی مجھے اجازت دیں میرا رکشے کا کرایہ پانچ سو بنتا ہے۔ پروین نے کرائے کی بات سنی ان سنی کرتے کہا شبیر آپ باتیں بہت اچھی کرتے ہو۔ اچھا یہ تو بتاٶ میرے بال کیسے لگے۔ اور پانچ سو کی فکر نہ کرو مل جائے گا کرایہ بھی۔ چھیرا جتنا بھی شریف یا سادہ انسان تھا بہرحال بھرپور جوان اور صحت مند مرد تھا۔

سہما سہما چھیرا گھر پہنچا اس کی بیوی نے اسے دودھ کاگرم گلاس تھما کر اس کے بوٹ اتارنے چاہے تو جوتوں کے تسمے کھلے تھے اور چھیرے نے بغیر جرابوں کے بوٹ پہن رکھے تھے۔ چھیرے کے بدن سے پٹرول کی بدبو کی جگہ ایک بھینی بھینی سی خوشبو آرہی تھی۔ چھیرے نے دودھ پی کر گلاس واپس اپنی بیوی کو دے دیا وہ کچن میں گلاس رکھ کے واپس آئی تو چھیرا کب کاسوچکا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •