حکیم صاحب کے نادر نسخے
میرے پڑوس میں ایک حکیم صاحب رہتے ہیں۔ کچھ پرانے نسخے ان کو معلوم ہیں۔ جن کی دوائیاں بنا کر وہ لوگوں کو مفت دیتے ہیں۔ اور بغیر پوچھے نسخے بھی بتاتے رہتے ہیں۔ نہایت خدا ترس انسان ہیں۔ میرے ساتھ خصوصی شفقت کا اظہار کرتے ہیں۔
گرمیوں کی تپتی دوپہر میں جب سب لوگ سو رہے ہوتے ہیں اس وقت حکیم صاحب دوائیاں کوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارا گھر ان کے گھر سے جڑا ہوا ہے۔ دوائی کوٹنے کی دھمک سے بے قرار ہو کر میری بیوی اٹھ کر چارپائی پہ بیٹھ جاتی ہے۔ میں چونکہ ذرا اونچا سنتا ہوں اس لئے مزے سے سوتا رہتا ہوں۔ اس وقت مجھے اندازا ہوتا ہے کہ بہرہ ہونا بھی کتنی بڑی نعمت ہے۔
پچھلے دنوں حکیم صاحب مجھے کہنے لگے کہ میں تمھیں ایسی دوائی بنا کر دوں گا جس سے تم گھوڑوں کی طرح ہو جاؤ گے۔ میں فوراً ان کی طرف جھکا حکیم صاحب کے گھٹنے چھوئے اور کہا حکیم صاحب انسان ہوں۔ ایسی دوائی نہ دیں کہ گھوڑے جیسا ہو جاؤں۔ بلکہ ایسی دوائی دیں کہ انسان ہی رہوں حکیم صاحب کچھ ناراض سے ہوئے۔ لیکن جلد ہی میری بات کو سمجھ کر ہنسنے لگے۔
ایک بار سڑک کے کنارے ملے تو کہنے لگے۔
” آج کل ہر آدمی کو معدے کا مسئلہ ہوتا ہے۔ بھوک کم لگتی ہے اور کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ میں تمھیں ایسا نسخہ بتاتا ہوں۔ جس سے تمھیں بھوک بہت لگے گی۔ اور تم ایک وقت کی دس روٹیاں بھی کھا جاؤ گے تو دل نہیں بھرے گا“
میں وہیں رک گیا۔ بے اختیار میرے ہاتھ حکیم صاحب کے گھٹنوں کی طرف بڑھے۔ حکیم صاحب نے میرا ارادا بھانپتے ہوئے میرے ہاتھ پکڑ لئے۔ اور بولے کیا ہوا۔ میں نے منمناتے ہوئے عرض کی۔
حضور غریب آدمی ہوں۔ ایک وقت کی ایک یا دو روٹیاں ہی مجھے میسر ہوتی ہیں۔ دس روٹیاں کہاں سے لاؤں گا۔ اس لئے یہ نسخہ مجھے استعمال نہ کرائیں
میری بات سن کر حکیم صاحب چپ ہو گئے۔ لیکن ان کے چہرے پر ناراضی کے اثرات دکھائی دے رہے تھے۔
چند دن پہلے کی بات ہے۔ میں گلی میں نکلا تو دیکھا کہ کچھ آدمیوں نے حکیم کو گھیر رکھا تھا اور زور زور سے باتیں کر رہے تھے۔ حکیم صاحب بھی کافی غصے میں تھے۔ میں دور کھڑا دیکھتا رہا۔ جب وہ لوگ چلے گئے تو میں حکیم صاحب کی طرف بڑھا اور ان سے ماجرا پوچھا۔ حکیم صاحب بولے
” میاں نیکی کا زمانہ ہی نہیں رہا۔ ان آدمیوں میں سے ایک کے بیٹے کی شادی تھی۔ اور شادی سے پہلے وہ میرے پاس آیا کہ میری کچھ راہنمائی کریں۔ میں نے اپنے تجربات کی روشنی میں کہا کہ دو باتیں یاد رکھنا۔ پہلی یہ کہ ہر طرف سے تمھیں اتنے مشورے مل چکے ہوں گے کہ ایک گھٹڑی بن چکی ہو گی۔ بیوی کے کمرے میں جاتے ہوئے یہ گھٹڑی باہر پھینک کر جانا۔ اور دوسری بات یہ کہ اپنی ہونے والی بیوی پہ اپنا رعب شروع ہی سے قائم کر دینا۔ ورنہ بعد میں جب بیویاں ایک بار سر پہ سوار ہو جائیں تو پھر ساری عمر اترنے کا نام نہیں لیتیں “۔
حکیم صاحب ذرا خاموش ہوئے تو میں نے کہا۔ حکیم صاحب یہ تو کوئی ایسی بری بات نہیں تھی۔ حکیم صاحب نے کہا
” واقعی یہ بات بری نہیں تھی۔ لیکن اس لڑکے نے شادی کی سہاگ رات کو دلھن پہ اپنا رعب جمانے کے لئے اس کو مکوں اور گھونسوں سے اتنا مارا کہ وہ بے ہوش ہو گئی۔ اور صبح اٹھ کر واپس میکے چلی گئی۔ اب یہ لوگ مجھ سے الجھنے آ گئے کہ یہ مشورہ حکیم صاحب نے دیا تھا۔ اب تم ہی بتاؤ۔ بھلا میں نے یہ بات کب لڑکے کو کہی تھی “
میں بمشکل ہنسی روکتے ہوا بولا۔ حکیم صاحب آپ نے ہر گز ایسا نہیں کہا تھا۔ یہ تو اس لڑکے نے رعب جمانے کے لئے خود ہی ایسی حرکت کر دی۔ اور اس کے گھر والوں نے الزام خواہ مخواہ آپ پہ دھر دیا۔
حکیم صاحب بہت کبیدہ خاطر تھے۔ میں نے ان کو تسلی دی۔ اور کہا کہ حکیم صاحب آپ دکھی نہ ہوں۔ یہ دنیا اچھے لوگوں کی قدر نہیں کرتی۔ آج تو یہ لوگ آپ کی بے قدری کر رہے ہیں لیکن جب آپ مر جائیں گے تو آپ کا مزار بنا کر عرس منایا کریں گے۔
یہ سننا تھا کہ حکیم صاحب کا ہاتھ گھوما۔ مجھے بس اتنا یاد رہا کہ ان کے ہاتھ میں چھڑی تھی۔ اور وہ چھڑی سیدھی میرے سر میں لگی۔ اس کے بعد میرا ذہن تاریکی میں ڈوب گیا۔ اور چراغوں میں روشنی نہ رہی۔


