حکیم صاحب کے نادر نسخے

میرے پڑوس میں ایک حکیم صاحب رہتے ہیں۔ کچھ پرانے نسخے ان کو معلوم ہیں۔ جن کی دوائیاں بنا کر وہ لوگوں کو مفت دیتے ہیں۔ اور بغیر پوچھے نسخے بھی بتاتے رہتے ہیں۔ نہایت خدا ترس انسان ہیں۔ میرے ساتھ خصوصی شفقت کا اظہار کرتے ہیں۔ گرمیوں کی تپتی دوپہر میں جب سب لوگ سو رہے ہوتے ہیں اس وقت حکیم صاحب دوائیاں کوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارا گھر ان کے گھر سے جڑا ہوا ہے۔ دوائی کوٹنے

Read more

حکیم صاحب

میرے پڑوس میں ایک حکیم صاحب رہتے ہیں۔ کچھ پرانے نسخے ان کو معلوم ہیں۔ جن کی دوائیاں بنا کر وہ لوگوں کو مفت دیتے ہیں۔ اور بغیر پوچھے نسخے بھی بتاتے رہتے ہیں۔ نہایت خدا ترس انسان ہیں۔ میرے ساتھ خصوصی شفقت کا اظہار کرتے ہیں۔ گرمیوں کی تپتی دوپہر میں جب سب لوگ سو رہے ہوتے ہیں اس وقت حکیم صاحب دوائیاں کوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارا گھر ان کے گھر سے جڑا ہوا ہے۔ دوائی کوٹنے

Read more

بعد از تقریر

وزیراعظم پاکستان کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر بہت مناسب اور متوازن تقریر تھی۔ جتنا ممکن ہو سکتا تھا، وزیر اعظم نے کیا۔ میرے کچھ دوست فرما رہے ہیں کہ تقریروں سے کچھ نہی ہوتا۔ عزیزو! یہ اقوام متحدہ کا فورم ہے یہاں تقریر ہی ہو سکتی ہے یہاں بندوق سے فائرنگ نہیں ہو سکتی۔ اگر بالفرض عمران خان اپنی تقریر میں کشمیر کا سرسری سا ذکر کرتا تو یہی دوست کہتے کہ کشمیر بیچ آیا ہے۔ پاکستان آہستہ

Read more

ایک بلڈوزر کی آپ بیتی

میں ایک بلڈوزر ہوں۔ میرا نام Accu super Bull Dozer ہے۔ یہ میری سچی کہانی ہے۔ جو آپ کو انٹر نیٹ پر ڈھونڈنے سے مل جائے گی۔ آپ گوگل میں صرف میرا نام لکھیں۔ تو میرے متعلق بہت سی سائیٹس کھل جائیں گی۔ انٹرنیٹ پر میرے متعلق تفصیلات انگلش زبان میں ہیں۔ میں راجہ ابرار کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے میری آپ بیتی کو اردو میں منتقل کر دیا۔ میری کہانی نامکمل حسرتوں اور خواھشوں کی ایک داستان

Read more

دوستو حوصلہ رکھو

میں 1990 سے لیکر 2013 تک نواز شریف کو ووٹ دیتا رھا اور اسکی پارٹی کا ہمدرد رھا۔ درمیان میں جماعت اسلامی کا ہمدرد بھی رھا اور ووٹ بھی دیا۔ اب اگرچہ ووٹ تو جماعت اسلامی کو نہیں دیا۔ لیکن ہمدردی ہے ۔ مرحوم ارشاد احمد حقانی بھی پہلے جماعت میں تہے ۔ بعد میں نکل گئے۔ انھوں نے کسی جگہ لکھا کہ آدمی جماعت اسلامی سے نکل جاتا ہے ۔ لیکن جماعت اسلامی آدمی کے اندر سے نہیں نکلتی۔

Read more

 میری پہلی محبت: کرکٹ

دوسری جماعت سے لے کر چوتھی جماعت تک میں سرگودھا کے دو سکولوں میں زیر تعلیم رہا۔ پہلی تین جماعتیں پی اے ایف کالونی میں ماڈل سکول میں رہا۔ جبکہ چوتھی جماعت سلطان مل ہائی سکول میں پڑھی۔ یہ سکول ائیر فورس کی رہایشی کالونی سے باھر تھا۔ اور لیاقت کالونی اور انجا ٹیل ( 49 Tail) کے درمان تھا۔ یہ 1983 سے 1986 کے چار سال تھے۔ تیسری جماعت سے اپنے محلے کے دوستوں کے ساتھ ہاکی کھیلنا شروع

Read more