آئین کی اہمیت اور جمہوریت کے معنی
جدید جمہوری نظام کا بنیادی تصور ہے کہ ملک کے وسائل پہ حق ملکیت اور نظم و نسق چلانے کے لیے حق حکمرانی صرف اور صرف عوام کو حاصل ہے۔ چونکہ ملک کے تمام لوگ بیک وقت حکومت نہیں کرسکتے لہذا وہ اپنا یہ حق حکمرانی، ووٹ کے ذریعے منتخب کردہ اپنے نمائندوں کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔ عوام کے یہ نمائندے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر قانون سازی کرتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم اور عرفہ قانون کسی بھی ملک کا دستور یا آئین ہوتا ہے۔
ملک کا نظم و نسق چلانے اور ریاست کے ہر فریق کی ذمہ داریاں اور حقوق و فرائض کے تعین کے لیے ایک متفقہ دستور کی ہر قوم کو ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دستور (آئین) ریاست کے مختلف سٹیک ہولڈرز کے بیچ ایک عمرانی معاہدے کی حیثیت رکھتا ہے۔ آئین پر من و عن عملدرآمد معاشرے میں امن و استحکام کو یقینی بناتا ہے اور انتشار، بے یقینی، لاقانونیت اورخانہ جنگی سے بچاتا ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر آئین کی کسی شق سے روگردانی نہیں کی جا سکتی بلکہ آئین سے روگردانی اور اس کی خلاف ورزی ریاست سے دشمنی تصور ہوتی ہے۔
اس ملک کے آئین کے مطابق یہاں سب سے بڑا جرم غداری کا مرتکب ہونا ہے۔ اور غداری سے مراد ہے آئین توڑنا یا اس کی کسی بھی شق کی صریحا خلاف ورزی کرنا۔ کیونکہ یہ وہ آئین ہے جو عوام کو زمین پر خدا کا نائب اور اس ملک کا حقیقی مالک و وارث قرار دیتا ہے۔ وہ آئین جو اس مملکت کی حدود و قیود کا تعین کار ہے وہ آئین جو ملک کے نظم و نسق اورسلامتی کا ضابطہ کار طے کرتا اور اس ملک کے ہر فرد کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کا ضامن ہے۔ اور ملک کے 22 کروڑ عوام اپنے آئین کے محافظ اور ضامن ہیں۔
عوام اپنے اختیارات اپنی منتخب کردہ نمائندہ پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔ اگر کسی وقت آئین کی کسی شق میں تبدیلی ناگزیر ہو تو باہمی صلاح مشورے سے یہ کام پارلیمنٹ دو تہائی ارکان کی تائید سے کرتی ہے۔ پارلیمنٹ بطور عوامی نمائندہ کاروبار مملکت چلانے اور عوام کی فلاح و بہبود کے آئینی وعدے کو عملی جامع پہنانے کے لئے حکومت یعنی Executive (وزیر اعظم اور اس کی کابینہ) کا انتخاب کرتی ہے۔ اور منتخب حکومت اپنی کارکردگی کے لیے پارلیمنٹ کو جوابدہ ہوتی ہے۔
ملک کی حفاظت کے لیے حکومت ریاستی سلامتی کے مختلف ادارے بناتی ہے۔ جیسے کہ کسی بیرونی حملے سے نمٹنے، اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے فوج کا ریاستی ادارہ قائم ہے اندرونی سکیورٹی پولیس کا ذمہ ہے۔ یہ سب دفاعی ادارے اور دیگر ریاستی ادارے و سرکاری مشینری اپنے فرائض کی ادائیگی میں حکومت کو جوابدہ ہیں۔ آئین کے تحت بننے والے قوانین کی تشریح کرنے کے لیے عدلیہ کا با رسوخ ادارہ موجود ہے جو اپنے اختیارات میں خود مختار ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل اعلی عدلیہ کے ججوں کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کو مانیٹر کرتا ہے۔ بوقت ضرورت کسی جج کا محاسبہ اور مواخذہ بھی یہی کونسل کرتی ہے۔ عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرے اور آئین و قانون کا غلط استعمال روکنے میں اپنے اختیارات کو بروئے کار لائے۔
عدلیہ ریاست کے تمام اداروں کو مقررہ حدود کے اندر رہ کر کام کرنے کا پابند بناتی ہے۔ اگر کوئی ایک ادارہ اپنی آئینی حد سے تجاوز کی کوشش کرے تو عدلیہ اس کی بازپرس کرنے کی پابند ہے۔ ریاست کے یہ تینوں اہم ڈھانچے ( پارلیمنٹ، حکومت اور عدلیہ) ریاست کے تین ستون کہلاتے ہیں۔ تینوں کا بنیادی مقصد عوام کے مفادات کا تحفظ ہے۔ تمام سرکاری ادارے ان تینوں ستونوں میں سے کسی ایک ستون یا تینوں کے ماتحت اور اسے جوابدہ ہوتے ہیں۔
لیکن پاکستان میں حقیقی زمینی صورت حال ان مندرجہ بالا لکھے ہوئے خوبصورت الفاظ سے یکسر مختلف رہی ہے۔ ( مستقبل قریب میں بھی بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے ) ۔ یہاں جمہوریت کو کبھی پروان چڑھنے نہیں دیا گیا۔ آئین پر عملدرآمد کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں گیا۔ یہی سبب ہے کہ اپنا آدھا ملک، مشرقی پاکستان ہم گنوا چکے ہیں۔ 1971 سے اب تک باقی ماندہ حصے کو بھی اسی پرانی روش سے ہی چلایا جارہا ہے اور وہی غلطیاں بلکہ جرائم کا ارتکاب ڈنکے کی چوٹ پر کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے آج تک ہم ایک قوم ہی نہیں بن سکے۔ منزل تک پہنچنا تو بہت آگے کی بات ہے ابھی تک راستے کا تعین ہی نہیں ہو سکا۔ پچھلے بہتر سال سے ہم گول گول دائروں میں گھوم رہے ہیں۔ ہماری اندرونی ناچاقی اور ریاست کے مختلف ماتحت اداروں کی ہٹ دھرمی، آئینی حدود سے بیجا تجاوز، طاقت کا عدم توازن اور مفادات کا تحفظ اس ملک کو دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
اس ملک کی بہتر سالہ تاریخ میں آئین کو بار بار ثواب سمجھ کر توڑا گیا۔ عوام کے حق حکمرانی کو پاوں تلے حقارت اور تکبر سے روندا گیا۔ اور یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے۔ ہماری تاریخ میں ایسے چار بدبخت گزرے ہیں جنھوں نے اپنے آئینی اختیارات اور تفویض کردہ طاقت کا غلط استعمال کرکے ڈھٹائی اور بدمعاشی کے ذریعے ذاتی طاقت اور ہوس اقتدار کی خاطر اس مقدس دستور کی بارہا بے حرمتی کی۔ بلکہ کل ملا کر تقریبا 35 سال براہ راست اس ملک پر قبضہ کیے رکھا۔
مگر افسوس اس ملک کے عوام نے یا ان کے نمائندہ تینوں ستونوں نے ان چاروں غداروں کے خلاف کوئی کارروائی تک نہیں کی۔ ہر آئین شکن کو فوجی اعزاز و اکرام کے ساتھ نہ صرف رخصت کیا گیا بلکہ پہلے تینوں آمروں کی موت پر بھی سرکاری سوگ منایا گیا۔
اس وقت صرف ایک جرنیل کے خلاف آئین شکنی کے جرم میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ ملک کی اعلی عدلیہ کے پاس زیر سماعت ہے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ریاست اور قوم کے مجرم اس فوجی محافظ کو ایک دن بھی پابند سلاسل نہیں کیا جاسکا۔ بلکہ اس کے ادارے نے اس کی بھرپور پشت پناہی کی اور نتیجہ یہ وہ صاحب آج ملک سے مفرور ہیں۔ عدالت کے بار بار طلب کرنے کے باوجود انھیں ملک واپس نہیں لایا جاسکا۔ گویا ہماری ریاست آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے میں اتنی بے بس اور کمزور ہے کہ ایک آئین شکن قومی مجرم کو ملک واپس لا نے کی استعداد نہیں رکھتی۔ ریاست سے بڑے اور طاقت ور اس ریاستی مجرم کا نام جنرل پرویز مشرف ہے۔
سب سے پہلے آئین شکنی 1958 میں اس وقت کے صدر پاکستان میجر جنرل سکندر مرزا نے کی تھی۔ انھوں نے اس وقت کے وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کو عہدے سے زبردستی ہٹا کر افواج پاکستان کے سربراہ جنرل ایوب خان کی معاونت سے محض دو سال پہلے 1956 میں نافذ ہوئے پہلے آئین کو منسوخ کر ڈالا اور جنرل ایوب کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے کسی شہنشاہ کی طرح ملک پر حکومت کرنے کے خواب دیکھے۔ لیکن ستم ظریفی یہ کہ محظ چند دنوں بعد ہی جنرل ایوب نے سکندر مرزا سے زبردستی استعفیٰ لے کر انھیں نہ صرف دفتر سے نکال باہر کیا بلکہ ملک بدر کر دیا۔ اور خود کو صدر پاکستان اور فیلڈ مارشل مقرر کر دیا۔ وہ اس غیر آئینی حیثئت سے ملک پر گیارہ سال 1958۔ 69 تک قابض رہے۔ اس دوران 1964 میں ڈھونگ صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کو ہروا دیا۔
دوسرا غدار ملک و ملت و آئین شکن شخص جنرل آغا محمد یحیی خان ہے۔ جو ایوب خان کی رخصتی کے بعد مارچ 1969 میں اقتدار پر قابض ہوا اور تین سال تقریبا 1969۔ 1971 عوام کے بنیادی حقوق معطل کرکے ملک پر قابض رہا۔ اسی کے دور میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بنا۔ تیسری بار آئین شکنی کا سہرا ایک اور فوجی سپاہ سالار اور آمر جنرل ضیا الحق 1977۔ 1988 کے سر پہ سجتا ہے۔ جسنے منتخب حکومت کا بزور طاقت تختہ الٹا، پارلیمنٹ توڑی اور تین ماہ میں انتخابات کروانے کا وعدہ کرکے عنان اقتدار ذاتی قبضے میں لے لی اور انتخابات کروانے والے تین ماہ کبھی نہیں آئے۔ حتی کہ 11 سالہ جابرانہ اقتدار کے بعد 1988 میں اس کا طیارہ ہوا میں پھٹ گیا۔ اسی شخص نے سابقہ وزیراعظم کو ایک ایسے مقدمے میں تختہ دار پر لٹکا دیا جسے نظیر کے طور پر بھی پیش کرنے میں شرم محسوس کی جاتی ہے۔ جو آج تک ہماری عدلیہ کے ماتھے پر ایک کلنک کا دھبہ ہے۔
جنرل پرویز مشرف 1999۔ 2008 وہ بدبخت تھا جس نے قومی آئین کو دو بار توڑا۔ 1999 میں پہلی بار جب منتخب وزیر اعظم کی کنپٹی پہ بندوق رکھ کر اسے زبردستی دفتر سے نکال کر جیل میں بند کردیا خود مسند اقتدار پہ قبضہ جما لیا۔ اس وزیر اعظم کا قصور محض یہ تھا کہ اس نے اپنے آئینی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے جنرل صاحب کو عہدے سے ہٹا کر نیا آرمی چیف مقرر کر دیا تھا۔ مشرف صاحب پہ کارگل جنگ وزیر اعظم کی منظوری لیے بغیر شروع کرنے اور اس غیر ضروری مہم جوئی کے نتیجے میں سینکڑوں غریب پاک فوج کے جوانوں کی جانوں کو ضائع کرنے کا الزام تھا۔ تاہم ان الزامات کے باوجود ہوا الٹ۔
وزیر اعظم کو جیل جانا پڑا بعدا ازاں جلا وطن جبکہ جنرل مشرف ایوان اقتدار پر قابض ہوگئے کیوں کہ ان کے پاس بندوق تھی۔ وہ بندوق اور جدید اسلحہ جو اس غریب قوم نے اپنا پیٹ کاٹ کر اپنی افواج کو ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لیے فراہم کیا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ 2007 میں دوسری مرتبہ ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے ببانگ دہل آئین کو معطل کر دیا اور اعلی عدلیہ کے ججوں کو زبردستی عہدے سے ہٹا دیاگیا بعدازاں قید میں ڈال دیا۔ میڈیا چینلوں کو بند کر دیا اور سیاستدانوں، صحافیوں اور شہری حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کر دیا گیا۔ گویا تمام تر ملکی قوانین، ضابطے اور دساتیری احکام ایک بدمعاش کے آگے ہیچ ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ آیا ریاست اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کروانے میں سنجیدہ ہے بھی یا نہیں۔ اور یہ کہ کیا ریاست پاکستان میں اتنی سکت بھی نہیں ہے کہ ان ریاستی حملہ آور، بد دیانت، حلف شکن، چار عدد غداروں اور ان کے سہولت کاروں کو اس ناقابل معافی جرم کی پاداش میں آئین کے مطابق قرار واقعی سزا دے سکے؟ تاکہ ریاست کا چند افراد کے سامنے کمزور اور بے بس ہونے کا تاثر ختم ہو جو کسی بھی ریاست کے وجود اور سلامتی کے لیے زہر قاتل ہے اور دوسرا آئین و قانون پر عملدرآمد سے واضح پیغام جائے گا کہ آئندہ کسی بھی سرکاری ملازم میں جرات نہ ہو کہ وہ بطورامانت سونپے گئے، آئینی اختیارات کو اپنے ذاتی فائدے، انا اور لالچ کے لیے استعمال کر سکے کیوں کہ اسے معلوم ہوگا کہ آئین شکنی اور حلف سے روگردانی کا انجام صرف موت ہے!
Nov 22, 2019


