وہ بھی وزیراعظم تھے اور ایک یہ وزیراعظم ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی تھا جو اس وقت تک چین سے نہیں سویا جب تک غالب آئے دشمن سے بھی اپنے ایک لاکھ قیدی نہیں چھڑوا لایا۔ اعتماد ایسا کہ شکست و ریخت کے بد ترین موسموں میں بھی شملہ مذاکرات کے دوران حد درجہ پر اعتماد اور حاوی نظر آئے اور ایک وزیراعظم یہ بھی ہے جو صبح و شام مس کالیں دے رہا ہے اور کوئی بات کر نا تک گوارا نہیں کرتا۔

ایک وزیراعظم نواز شریف نامی شخص بھی تھا جس نے کسی سفاک رات کو Over my dead bodyکا دلیر اور تاریخ ساز جملہ بولا اور پھر اسے گلی گلی ووٹ کو عزت دو تک پھیلا کر تاریخ کا دھارا موڑ دیا اور ایک وزیراعظم یہ بھی ہے جو “فوج میرے پیچھے کھڑی ہے “ کا خوفزدہ بیانیہ اٹھائے پھر رھا ہے۔

ایک الیکشن وہ بھی تھا جسے اُنیس سو اٹھاسی میں بے نظیر بھٹو اور اُنیس سو ستانوے اور دو ہزار تیرہ میں نواز شریف اسٹیبلیشمنٹ کی شدید مخالفت کے باوجود بھی بھاری اکثریت سے جیت گئے تھے اور ڈٹ کر وزیراعظم بن گئے تھے۔

اور ایک الیکشن دو ہزار اٹھارہ کا بھی تھا جو آر ٹی ایس سسٹم کی بندش کے باوجود بھی نہیں جیتا جا سکا اور بالآخر مانگے تانگے کی حکومت ہی بنی۔

ایک وزیراعظم محمد خان جونیجو نامی سیاستدان بھی تھا جو اگر چہ غیر جماعتی الیکشن کے ذریعے برسراقتدار آیا لیکن حلف اٹھانے کے بعد پہلے ہی ملاقات میں اس وقت کے ڈکٹیٹر ضیاءالحق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ جنرل صاحب بتائیے آپ مارشل لاء کب اُٹھا رہے ہیں اور پھر آگے چل کر اسی جونیجو نے اپنی ہی مرضی سے جینوا مذاکرات بھی کئے اور طاقتور روس کو پچھاڑ کر بھی رکھ دیا تھا اور اب یک وقت یہ کہ ڈیڑھ فٹ قالین اور کسی بے ثمر تقریر ہی کو بہادری اور کامیابی کی دلیل بنایا جا رہا ہے۔

وہ بھی وزیر اعظم تھے جو اندرا گاندھی سے نریندرا مودی تک مذاکرات کرتے ہوئے ان پر حاوی ہوتے اور ایک یہ وزیراعظم جو روز روز انڈین انٹر ٹینٹمنٹ میڈیا کے ایک مسخرے کے استقبال کے لئے پوری کابینہ کا لاؤ لشکر لے کر حاضر ہو جاتا ہے اور پھر اس کے بے ہنگم لطیفوں پر ہنس ہنس کر ہلکان بھی ہو جاتا ہے۔

وہ بھی وزیر اعظم تھے جو ایٹمی پلانٹ سے سٹیل مل اور موٹر وے سے سی پیک تک کے عظیم منصوبوں کی بنیادیں رکھتے رہے اور ایک یہ وزیراعظم جو انڈوں اور چوزوں سے ہوتا ہوا گائے کے چھ کلو دودھ تک معاشی فلسفہ لے کر آیا۔

وہ بھی وزیر اعظم تھے جن کے ساتھ صوبے چلانے والے (وزراء اعلی) مصطفٰے جتوئی سے مہتاب عباسی تک اور حنیف رامے سے شہباز شریف تک کے بہترین منتظم اور حد درجہ اعلٰی صلاحیت کے لوگ ہوتے تھے جبکہ موجودہ وزیراعظم کی نگاہ انتخاب بزدار سے محمود خان تک ہی ٹھری اور اگر بات پھر ان پر آ ہی گئی ہے تو سرگودھا کے ملک صاحب کی اسی بات سے رجوع کرنا ہی فہم و فراست کا راستہ ہے کہ ملکہ برطانیہ صلح ہی کر لیں۔

اس مملکت خدا داد کے وزرائے اعظم وہ بھی تھے جن کے حکومتی ترجمان کوثر نیازی، مشاھد حسین، قمر زمان کائرہ اور پرویز رشید جیسے پڑھے لکھے اور خوش گفتار لوگ ہوا کرتے تھے، جو متنازع معاملات کو بھی اپنے شیریں لب ولہجے اور الفاظ پر قدرت کے سبب ایک شہد بھری مٹھاس فراہم کرتے اور رائے عامہ کو اپنے حق میں موڑ دیتے لیکن موجودہ وزیراعظم اور حکومت کے ترجمان کون ٹہرتے ہیں ؟

فواد چودھری یا فردوس عاشق اعوان !

سو مزید کیا بحث کی جائے۔ بس نام ہی کافی ہے بلکہ کام ہی کافی ہے۔

وزیراعظم فیروز خان نون کے بارے میں سنا ہے کہ ایک ایک آرڈر بھی اپنے ہاتھ سے لکھتے اور خود ٹائپ کرتے.

ذوالفقار علی بھٹو اٹھارہ گھنٹے کام کرتے اور دس دس گھنٹے تک کابینہ کا اجلاس چلاتے۔

جونیجو ایک سیکشن افسر کو سرکاری رہائش گاہ کی الاٹمنٹ پر جنرل ضیاءالحق تک سے اُلجھ پڑے تھے جبکہ نواز شریف سفر کے دوران فائلوں کا پلندہ اُٹھاتے اور متعلقہ افسروں کو ساتھ بٹھا کر ایک ایک فائل ڈسکس کرتے اور حکم جاری کرتے۔

بے نظیر بھٹو واک کے دوران بھی پرنسپل سیکرٹری کو نوٹ بک تھما کر ساتھ لیتی جبکہ یوسف رضا گیلانی کی کوارڈینیشن اور راجہ پرویز اشرف کی یادداشت مثال بن گئے ہیں۔ لیکن موجودہ وزیراعظم یہ تک کہتے ہوئے پائے گئے کہ میری بیوی مجھے یاد دلاتی ہیں کہ آپ وزیراعظم ہیں۔ اللہ اللہ خیر صلا.

وہ بھی وزیر اعظم تھے جو اپنے منصب کے تقاضوں اور پروٹوکول سے پوری طرح آگاہ تھے اس لئے حتی الوسع مائیک سے گریز کرتے لیکن اگر با امر مجبوری ایسا کرنا بھی پڑتا تو حد درجہ سنجیدگی کے ساتھ گنے چنے الفاظ کا انتخاب کرتے اور موضوع پر فوکس کرتے۔

لیکن اب تو ایسا لگتا ہے جیسے ہر وقت مائیک اور مجمع کی تلاش ہی اولین ترجیح ہو

 ادھر مائیک ہاتھ لگا اور سامنے کیمرا یا مجمع نظر آیا تو بس پھر۔۔۔۔۔

اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھئیے کیا ہوتا ہے

یعنی انڈے چوزے مرغے کٹے بھینسیں اور گائے سے لے کر چور ڈاکو، کرپٹ جھوٹے اور گیلی شلواروں تک وہ سب کچھ مل جاتا ہے جو اب تانگوں اور ویگنوں کے اڈوں پر بھی مفقود ہو چکا ہے۔

وہ بھی وزیر اعظم تھے جو شدید تناؤ اور سیاسی مخالفت کے باوجود بھی در پیش ملکی اور قومی مسائل پر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشاورت کرتے اور انہیں اعتماد میں لیتے اور ایک وزیراعظم عمران خان ہیں جنھوں نے حال ہی میں کشمیر کے بارے ھندوستان کے ظالمانہ فیصلے پر سیاسی جماعتوں کو نہ صرف اعتماد میں لینے سے گریز کیا بلکہ اپنی توجہ اے سی اُتروانے اور گھر کا کھانا بند کروانے پر مرکوز رکھی .

وہ وزراء اعظم کوئی انٹرویو دینے سے پہلے متعلقہ صحافی یا پینل کے بارے میں نہ صرف پوری چھان بین کرتے بلکہ خود بھی انٹرویو کے لئے پوری تیاری کرتے جس سے وزیراعظم اور حکومت کا بہت اچھا تاثر بنتا لیکن اب تو کوئی بھی شخص ایک عدد مائیک اور کیمرہ اُٹھا کر وزیراعظم ھاؤس میں گھس کر الٹے سیدھے سوال کر سکتا ہے بلکہ اس سے زیادہ الٹے سیدھے جوابات سن بھی سکتا ہے۔

وہ بھی وزیر اعظم تھے جن کی ذاتی دوستیاں شاہ فیصل، یاسر عرفات، معمر قذافی، مارگریٹ تھیچر، صدر متراں، جان میجر، بل کلنٹن، نریندرا مودی اور طیب اردوان سے ہوتیں جس کا فائدہ بحیثیت مجموعی ملک و قوم کو پہنچتا لیکن اب ذاتی دوستیاں انیل مسرت سے زلفی بخاری جیسے عجیب و غریب کرداروں کے ساتھ ہیں جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے تاہم نقصانات کا تخمینہ ” فی الحال ” لگانا قدرے مشکل ہے۔

ایک وزیراعظم بے نظیر بھٹو بھی تھی، اکسفورڈ سے پڑھی لیکن اپنے سیاسی جدوجہد پڑھے لکھے چال ڈھال سنجیدہ شخصیت اور سحر انگیز گفتگو کے سبب آکسفورڈ کا بھرم بھی رکھا اور ایک وزیراعظم عمران خان بھی ہیں اسی آکسفورڈ سے پڑھے لیکن۔۔۔ بس چھوڑ ہی دیں۔ چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •