کوئی ’محکمہ زراعت‘ ہوتا تھا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گاؤں کے ایک چھوٹے کاشتکار سے پوچھا کہ گزشتہ کئی سالوں سے کپاس کی فصلیں کسانوں کے لیے نقصان کا باعث بن رہی ہیں تو آپ لوگ سبزیاں کاشت کیوں نہیں کرتے؟

انہوں نے بتلایا کہ اس نے پِچھلے سال یہ تجربہ بھی کر کے دیکھا تھا گوبھی وغیرہ کاشت کر کے جب فصل تیار ہوئی تو بیوپاری ’توڑے‘ کے پیسے دینے کو بھی تیار نہیں ہوئے۔ اور یوں ہوا کہ سبزی منڈی پر دھکے کھانے کے باوجود بھی فصل پر کیا جانے والا خرچہ بھی نہیں نکلا اُلٹا نقصان اُٹھانا پڑا بس پھر سبزیاں لگانے کا دل نہیں چاہا۔

اس لیے پھر کپاس ہی لگانا پڑی اس امید کے ساتھ کہ نئی حکومت آگئی ہے شاید یہ کسانوں کے بارے اچھے منصوبے رکھتی ہو، سہولیات سبسڈی کے علاوہ کوئی نِرخ مقرر کریں اور پیسٹی سائیڈ کمپنیوں کے لیے کوئی کنٹرول پالیسی مقرر ہو لیکن جب فصلوں کو نقصان ہوتا رہا نہ تو محکمہ زراعت کے لوگوں کو آتے دیکھا اور اس طرح پیسٹی سائیڈ ڈیلرز نے بھی دونوں ہاتھوں سے لوٹ لیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ موسم گندم کاشت کرنے کا ہے لیکن وہ اس بار تمباکو کاشت کرنا چاہ رہے ہیں ”

جنوبی پنجاب کے اضلاع میں سبزیاں کاشت کرنے کا رواج کم ہے، ربیع و خریف میں گندم اور کپاس کاشت کی جاتی ہے۔

پاکستان میں کوئی ایسی مخلوق ہی نہیں ہے جو گندم کے علاوہ کوئی دوسری اجناس کا سرکاری سطح پر نرخ مقرر کرے۔ گندم کا نرخ بھی کسان کے لیے معقول نہیں ہوتا اگر وہ مناسب کیا جائے تو غیرزرعی علاقوں کے لیے روٹی بھی مہنگی پڑ جائے گی۔

ہمارے علاقوں میں لوگ تمباکو کی کاشت کو ایک عرصے تک حرام و نقصان دہ سمجھتے رہے ہیں لیکن جب دوسری فصلوں کے حوالے سے مسلسل نقصانات برداشت کرنے پڑے تو آہستہ آہستہ اس فصل کی کاشت میں اضافہ ہو رہا ہے اگر حکومت نے آئندہ سالوں میں کچھ سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو کسان جو اب تمباکو کاشت کر رہے ہیں آگے چل کر پوست بھی کاشت کرلیں گے۔

تمباکو کی کاشت انتہائی مشکل اور نگہداشت والی کاشت ہوتی ہے بلکہ کاشت سے لے کر خریداری تک مسلسل زمیندار، کاشتکار کی دن رات نگرانی مانگتی ہے۔

اس کا کام انتہائی سخت ہوتا ہے اور کام کرنے والے کسان بیچارے انتہائی زہرآلودہ بدبو کو بھی ہضم کرلینے کے علاوہ ٹی بی و یرقان کی بیماریوں میں بھی چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ آگاہی و بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں بھی پہنچ جاتے ہیں، لیکن معاوضہ بہتر مل جاتا ہے اور زمیندار کو بھی فصل بیچنے کے بعد کچھ سکھ کا سانس ملتا ہے۔

اس طبقے کو نظرانداز کر کے مسلسل بحران تو پیدا کیے جا رہے ہیں لیکن اس بارے سنجیدگی بالکل بھی صفر ہے۔ حالیہ ٹماٹروں کا بحران آج کل کا نہیں ہے یہ کئی سالوں سے چلا آ رہا ہے لیکن بھلا ہو اہل اقتدار کا وہ بروقت علاج یہ کرتے ہیں کہ ٹماٹر یا دیگر اجناس باہر سے درآمد کرلیتے ہیں اس سال ایران سے ٹماٹر منگوا لیے گئے اس سے پہلے بھارت سے منگوا لیے جاتے تھے لیکن یہ نہیں سوچا کہ اس کا کوئی مستقل حل کسانوں کی معاونت کرنا ہوتا ہے۔ پنجاب میں وزٹ کریں ہزاروں ایکڑ زمینیں فری پڑی ہیں جن کو زمیندار اس مہنگائی کی وجہ سے کاشت نہیں کرنا چاہتے یا سرکاری زمینوں کو سرکار ڈی ایچ اے وغیرہ تو بنا لیتی ہے لیکن مثبت استعمال کرنے کا گُر ابھی تک ڈی ایچ اے یا بحریہ کو فروخت کرنا رکھا ہوا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •