کیا ہمارے مسائل کا حل نظام کی تبدیلی میں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب نواز شریف کے صاف بچ نکلنے کے بعد احتساب کے عمل سے مایوس قوم کو یقین دلایا جائے گا کہ سیاسی نظام کی تبدیلی اشد ضروری ہے۔ اس کے لیے کام شروع ہو چکا ہے اور اس وقت #باغی ہوں ایسے نظام کا۔ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ چل رہا ہے۔ یقین مانیے جب تک قوم کا اجتماعی شعور اپنے لیے غلط اور صحیح کا فیصلہ کر کے تبدیلی لانے کا اہل نہیں ہوتا، اوپر سے تھوپا گیا کوئی نظام بھی مطلوبہ ثمرات مہیّا نہیں کر سکتا۔ اقوامِ عالم میں اسی پارلیمانی جمہوری نظام کو اپنا کر ترقی یافتہ بننے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

ہمارا مسئلہ نظام کی تبدیلی سے زیادہ سوچ، فکر اور اپنے مجموعی روّیوں میں تبدیلی ہے۔ ہجوم کے ہاتھوں ہونے والے پرتشدد قتل اور کمسن بچوں سے زیادتی اور قتل کے واقعات ہماری معاشرتی تنزلی کے عکاس ہیں۔ کرپشن گھر کے ماحول سے سیکھی جاتی ہے اور کرپشن سے مال بنانے والوں کی اگلی نسلیں کرپشن کو برائی سمجھنے کی بصیرت سے عاری ہو جاتی ہیں۔ ایسے معاشرے میں جہاں ہر کوئی کسی نہ کسی سطح پر مال بنانے میں مصروف ہو، احتساب کے نعرے کا فقط سیاسی اہداف کے حصول کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔

قوم کا با شعور ہونا بالادست طبقے کے مفادات کے خلاف ہے۔ اس لیے صرف مستقبل قریب ہی نہیں مستقبل بعید میں بھی کوئی مثبت تبدیلی قرین از قیاس ہے۔ اس لیے چاہے صدارتی نظام اپنایا جائے یا کوئی اور نظام، قوم کی حالت بد سے بدتر ہی ہو گی۔ ایک سیدھی سی بات ہے کہ سیاسی منظر نامے میں تبدیلی کی منصوبہ بندی کرنے والا طبقہ اپنے مفادات کو ہی پیشِ نظر رکھے گا۔ عوام کے لیے وہی تبدیلی سود مند ہو سکتی ہے جس کی بنیاد عوام اپنے ہاتھوں سے اٹھائے۔

ہمارے ہاں ایسا تعلیمی نظام کبھی رائج ہونے ہی نہیں دیا گیا جو کہ طالب علموں کو سوچنے پر مائل کرے اور تعلیمی اداروں میں طلباء یونین جیسی مثبت سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے بعد نوجوان نسل زمانہء طالب علمی سے میّسر آنے والے سیاسی تربیت کے مواقع سے بھی محروم ہو گئی ہے۔ تبدیلی ہمیشہ درمیانے طبقے سے پھوٹتی ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام سرمایہ داروں کے لیے کام کرنے کی مشینیں پیدا کر رہا ہے اور ہمارا معاشی نظام متوسط طبقے کو زیادہ سے زیادہ سہولیاتِ زندگی حاصل کرنے کی دوڑ میں الجھائے ہوئے ہے۔

پڑھے لکھے طبقے کو کتب بینی اور سوچنے اور سوال اٹھانے کی ”علّت“ سے دور کر کے مذہبی عناصر کو سونپ دیا گیا ہے۔ کمال تو یہ ہے کہ مذہب پسندی اس طبقے میں انفرادی کردار کی سطح پر کوئی مثبت تبدیلی لانے میں تو ناکام رہی ہے، ریاستی سرپرستی میں پھیلائی جانے والی مخصوص مذہبی تعلیمات نے انہیں حقیقت پسندانہ سوچ سے بھی دور کر دیا۔ ویسے اگر نواز شریف واقعی کسی سمجھوتے کے ذریعے ملک سے فرار ہوئے ہیں تو جو جن طاقتوں سے سمجھوتا کیا گیا ہے، صاف ظاہر ہے کہ وہی طاقتیں نظام کی تبدیلی کے ان نعروں کی پشت پر کھڑی ہیں۔ یعنی پہلے آپ ایک سزا یافتہ سیاسی لیڈر کے ملک سے فرار کی راہ ہموار کریں، اور پھر یہ ڈھنڈورا پیٹیں کہ یہ سیاسی نظام ہی اس سب کی جڑ ہے اور اس کو لپیٹ کر ایک متبادل نظام لایا جانا چاہیے۔ جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •