بذریعہ لیدر فوراً امیر ہونے کا آزمودہ نسخہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ ایک سفید پوش نوجوان ہیں جس کی خواہش ہے کہ اسے طبقہ امرا میں سے ایک سمجھا جائے تاکہ کچھ بھرم بنا رہے؟ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ جب لوگوں کے ہجوم میں جائیں تو آپ کی شخصیت، تصویر یا ویڈیو دیکھ کر سب پکاریں کہ یہ ایک برگر ہے؟ تو اپنی نوجوانی ضائع کرتے ہوئے اگلے بیس تیس برس جی جان سے محنت کرنے اور پچاس برس کی عمر میں خوشحال ہونے کا انتظار مت کریں۔ ہمارے بتائے ہوئے آزمودہ نسخے سے آپ ایک نہایت واجبی سی رقم خرچ کر کے ایک برگر بن سکتے ہیں۔

سب سے پہلے آپ کسی طریقے سے دو سے چار ہزار روپے اکٹھے کر لیں۔ اب آپ میٹرو یا سپیڈو بس میں بیٹھیں یا کسی سے لفٹ لیں اور سیدھے ایک ایسے بازار پہنچیں جہاں امپورٹڈ کپڑے اور جوتے بکتے ہیں۔ وہاں سے آپ ایک عدد لیدر جیکٹ، ایک جینز اور اوریجنل نائکی یا ایڈیڈاس وغیرہ کے جاگرز خریدیں۔ اس سامان کی کل قیمت کتنی ہو گی اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کتنی اچھی سودے بازی کر سکتے ہیں۔ آپ اگر اوسط درجے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں تو دکاندار کو آپ چار ہزار روپے دے کر یہ سب کچھ حاصل کر لیں گے۔

اس کے بعد آپ لنڈے بازار سے واپس گھر چلیں۔ بہتر ہے کہ استعمال سے پہلے لیدر جیکٹ کی تیل مالش کر لیں اور جاگرز کو واشنگ مشین میں ایک چکر دے دیں۔ اس سے وہ اجلے بھی ہو جائیں گے اور فنگس وغیرہ کا خاتمہ بھی ہو جائے گا۔

اب آپ فیس بک پر جا کر شہر میں ہونے والے ایونٹ تلاش کریں۔ اگر آپ کو فیض میلہ مل جاتا ہے تو اچھی بات ہے ورنہ لٹریری فیسٹیول وغیرہ بھی چل جائے گا کہ وہاں بھی لوگوں کا اچھا ہجوم ہوتا ہے۔ اب اپنے ہم خیال ایک دو درجن لڑکے لڑکیوں کا جتھا بنا کر وہاں پہنچ جائیں اور بلند آواز میں کوئی انقلابی ترانہ گانے لگیں۔ اگر ترانے میں سرخی کا رنگ غالب ہو تو بہت اچھا رہے گا۔ فیض اور جالب وغیرہ عموماً اچھا انتخاب ہوتے ہیں۔ اگر آپ خود لڑکی ہیں تو بہت ہی اچھا ہے ورنہ یقینی بنائیں کہ آپ کے جتھے کی پہلی صف میں دو چار لڑکیاں موجود ہیں۔ اس سے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر زیادہ کوریج یقینی بن جاتی ہے۔

اس کے بعد سکون سے گھر جا کر سو جائیں۔ اگلے دن تک آپ کی ویڈیو وائرل ہو جائے گی اور لوگ یہ اعتراض شروع کر دیں گے کہ ”مہنگی لیدر جیکٹ اور برانڈڈ جاگرز پہننے والا یہ بورژوا نوجوان کس منہ سے غریبوں اور انقلاب کی بات کر رہا ہے۔ اس کی جیکٹ تو دیکھو کم از کم بیس پچیس ہزار کی ہے اور اس کے جوتے بھی پندرہ بیس ہزار روپے سے کم کے نہیں ہیں۔ یہ برگر نوجوان کون سا انقلاب لائے گا اور اسے غریب کی بات کرنے کا حق کس نے دیا ہے؟ ان امیر زادوں کو بھلا کیا پتہ کہ غریب اور سفید پوش کیسے زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں۔ “

اب بھلا آپ کے جاننے والے لاکھ کہتے رہیں کہ یہ نوجوان تین مرلے کے گھر میں رہتا ہے اور اپنے دادا سے ورثے میں ملی ہوئی 1940 ماڈل کی سائیکل پر بیٹھ کر یونیورسٹی جاتا ہے، ان کی بات کسی نے نہیں سننی۔ سب آپ کو آپ کی لیدر جیکٹ دیکھ کر ایک بگڑا ہوا بورژوا امیرزادہ تسلیم کر چکے ہوں گے۔ یوں محض چار ہزار خرچ کر کے آپ لیدر کے زور پر طبقہ امرا میں شامل ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

فیض میلے میں ایسی ایک مثال ہم دیکھ چکے ہیں۔ اب خواہ وہ نوجوان لڑکے لڑکیاں اور ان کے دوست لاکھ چلاتے رہیں کہ وہ سفید پوش طبقے سے ہیں، لیکن سوشل میڈیا اپنا فیصلہ سنا چکا ہے کہ ان کا تعلق طبقہ امرا سے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1211 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar