آدھے سر کا درد اور 22 کروڑ کا حق وراثت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف علاج کے لئے بیرون ملک روانہ ہو گئے۔ مولانا فضل الرحمن کا جوار بھاٹا ساحلوں کی گیلی ریت پر اپنے نشان چھوڑ گیا۔ توپ کاپی کی محل سرا میں طاقت کی صف بندی معمولی نقل و حرکت کے ساتھ طے شدہ ترتیب میں ہے۔ نظم و ضبط کا بھرم قائم ہے۔ فلک پر ستارے بدستور چمک رہے ہیں اور نیچے گلی کوچوں میں اکا دکا راہرو کے قدموں کی چاپ کے سوا سناٹے کا راج ہے۔ زور آزمائی کا پہلا مرحلہ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔  فریقین کندے اچکا اچکا کر رہ گئے۔ دست بدست معرکے کی نوبت نہیں آئی لیکن یہ طے ہے کہ کھیل کا رنگ بدل گیا ہے۔

طوفان کا زور ٹوٹتے ہی وزیر اعظم نے مانسہرہ میں گرج چمک کی جھلک دکھائی۔ بارود کی کچھ چنگاریاں خشک بھوسے کے عزت مآب احاطے میں جا گریں جس پر اگلے روز مسند عدل سے دو ٹوک جواب آیا۔ وزیر اعظم نے کمزور اور طاقتور کے لئے یکساں انصاف کی دہائی دی تھی۔ بحر اور ردیف تو مانوس ہے لیکن کچھ نئے قافیے نکالے ہیں۔ طاقتور کسے کہا؟ یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ کمزور کسے گردانا؟ یہ مضمون البتہ نیا نکالا۔

وزیر اعظم کا اشارہ پاتے ہی جان نثاروں کی سپاہ میں حرکت ہوئی اور مشاعرہ گرم ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے شمع صدر عالی مقام تک جا پہنچی۔ صدر محترم نے بھی میر مشاعرہ کی تان میں آواز بھرتے ہوئے فرمایا کہ ’اگر قوم عدلیہ اور انتظامیہ سے برابری اور مساوی سلوک کی توقع رکھتی ہے تو یہ غلط بات نہیں‘ ۔ استاد مومن خان مومن یاد آ گئے۔ کہتے تو ہیں بھلے کی ولیکن بری طرح۔

ارے بھائی، انصاف کے کواڑ مدت ہوئی، کوئی رات کے اندھیرے میں اکھاڑ کے چلتا بنا۔ چوکھٹ کو دیمک نے آ لیا۔ اللہ کی شان ہے کہ زور آوری کے کجاوے میں بیٹھ کر اقتدار کے محمل تک پہنچنے والوں کو طاقت سے گلہ ہو رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ محل سرا کی راہداریوں کا تماشا کیا ہے، کھیل کے داؤ پیچ نہیں سیکھے۔ رہ و رسم آشنائی سے ایسا کمزور تعارف ہے کہ طاقت کے حقیقی مورچے کی صحیح سمت سجھائی نہیں دے رہی۔ درباری طائفہ ایک ہی تال پر تاشے نفیریاں بجائے جا رہا ہے کہ نواز شریف گئے اور ووٹ کی عزت کا بیانیہ بھی رخصت ہوا۔ بھلا ہوا میری گاگر ٹوٹی، میں تو پانی بھرن سے چھوٹی۔ یہ تخمین و ظن کی فاش غلطی ہے۔ ووٹ کی عزت کے حقیقی وارث موجود ہیں اور وراثت کا دعویٰ ساقط نہیں ہوا۔ اس کی تفصیل بیان طلب ہے لیکن ایک ذاتی واردات کا مختصر احوال سنیے۔

رواں برس کے آغاز سے درویش کو پیشہ ورانہ فرائض کی ادائی میں ایک معزز خاتون سے واسطہ رہا ہے۔ ذاتی تعارف تفصیلی نہیں اور کار منصبی کے جھمیلوں میں اس کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ یہ معلوم ہے کہ نسبتاً کم عمر ہیں، لب و لہجہ پراعتماد ہے۔ تعلیم یافتہ ہیں اور تعلیم دفاعی مطالعات کے شعبے میں پائی ہے۔ نسبی تعلق بھی اسی منطقے کے آس پاس کا ہے۔ خاتون معظم کے معتوب اور مرغوب موضوعات کی فہرست دلچسپ ہے۔ انہیں تاریخ، سیاست اور شعر سے یک گونہ کوفت ہوتی ہے۔  کرپشن، احتساب اور قومی غلبے کے منظور شدہ نصاب سے دلی شغف ہے۔

واللہ، کیا خوب مہرے بٹھائے ہیں۔ اس بساط پر درویش کی بے بضاعتی معلوم۔ میر صاحب یاد آ گئے۔ ایک ناکسبی سپاہی دکنیوں میں گھر گیا۔ تاریخ کا ذکر چھڑے تو تقاضا ہوتا ہے کہ 2008 سے ادھر ادھر رہیے، اس سے پیچھے مت جائیے۔ اور اگر ایسا ہی آوارہ خیالی کا لپکا ہے تو ساٹھ کی دہائی میں ایوب خانی عہد کے گیت گائیے۔ اس عشرے میں مشرقی اور مغربی پاکستان کی معاشی حرکیات سے انہیں غرض نہیں۔  بارہا عرض کی کہ تاریخ کا تناظر قائم کیے بغیر آج کی صورت حال پر بات کرنا کار لاحاصل ہے۔ جو تاریخ نہیں جاننا چاہتے، ان کے حال کی بدحالی کا شکوہ بے جا ہے۔

سیاست کو گویا ایک پیشہ اور سیاست دان کو ایک خاص گروہ قرار دے رکھا ہے جس پر کفش کاری عین کار ثواب ہے۔ دست بستہ گزارش کی کہ سیاست مفادات کی مسلسل ترتیب نو کا نام ہے۔ آمریت پیوستہ مفادات کی پناہ گاہ ہے۔ مشکل یہ ہے کہ جمہوری سیاست کا متبادل پوچھتا ہوں تو جواب ندارد۔ اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں۔ ہماری تاریخ کی آستین میں تو دشنہ و خنجر کی روایت بھی مانوس ہے۔

شعر سے کدورت بھی قابل فہم ہے۔ اورنگ زیب کو بھی سرمد کی رباعی سے خوف آتا تھا۔ ہم نے اس دیس میں 72 برس شعر سے بندوق کا مقابلہ کیا ہے۔ میں ڈر رہا تھا کہ پتھر سے شیشہ ٹکرایا۔ میجر جنرل خادم حسین راجہ (مرحوم) نے شفیع الاعظم سے کہا، شیخ صاحب (مجیب الرحمن) سے کہو، جذبات کو ٹھنڈا کریں۔ شفیع نے کہا، سر آپ کے پاس بندوق ہے اور شیخ صاحب کے پاس جذبات۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ خاتون سے مکالمہ آدھے سر کا درد ہے۔ ان کے لئے میدان کھلا ہے، 22 کروڑ کے آدھے بیان پر چپ کی مہر لگی ہے۔ آرٹیکل 19 اور 6 کے تعامل میں تناقض پایا جاتا ہے۔

عزیزان محترم، ووٹ کی عزت نواز شریف یا کسی دوسرے فرد کا ذاتی استغاثہ نہیں۔ اسے تمیز الدین کا نام دیں یا بھٹو کی تصویر، اس مجادلے میں غلام محمد اور اسکندر مرزا رکھ دیں یا مولوی مشتاق اور فروغ نسیم، 22 کروڑ نفوس کا حق حکمرانی تو بیوہ ماں کا بچہ ہے۔ جو گود میں اٹھا لے، بہل جاتا ہے اور پھر زمین پر رکھ دیا جاتا ہے۔ ماں کے لئے مگر جائے فرار نہیں۔ پاکستان ہماری ماں ہے جس کی چادر پر افلاس، محرومی، بے بسی اور نا انصافی کے نشان ہیں اور اسے امروز کی بھوک اور فردا کے اندیشوں سے آدھے سر کے درد کے ساتھ لڑنا ہے۔ نواز شریف صحت پائیں، جیسے پیٹھ دکھائی ہے، ویسے ہی لوٹ کے آئیں۔ ووٹ کے 22 کروڑ وارث سلامت ہیں۔ اب بھی رات کی رات پڑی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •