بلیسنگ ان ڈسگائیس


ایک بار پھر لاہور سموگی ہوگیا۔ اسکولوں سے پیغامات وصول ہوئے

” گیارہ بجے تک اپنے سپوتو ں اور سپتریوں کو لے جائیں کیونکہ اسکول کی چاردیواری میں ان ننھی جانوں کی سانس خطرے میں ہے۔ “

ماں باپ اور ویگنوں رکشوں والے اپنے اپنے کام کاج چھوڑ کر بھاگے شہر بھر سے بچے اکٹھے کیے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوال یہ ہے کیا اسکول سے چھٹی کرلینے سے بچے سموگ سے بچ جائیں گے؟

ہٙوا تو سارے شہر میں وہی ہے زہریلی اور ناک میں دم کردینے والی، کیا گھروں میں آکسیجن زیادہ مقدار میں پائی جارہی ہے؟

تو پھر پڑھائی کا نقصان کرکے ماں باپ کو پریشان کرکے کوئی فائدہ حاصل ہوا؟

ڈیٹ شیٹ بھی آگئیں، امتحانی نصاب بھی مل گیا! لیکن جب پے در پے چھٹیاں ہوں گی تو یہ نصاب پڑھائے گا کون؟

ہفتہ اتوار کی تعطیلات ملا کر ایک ماہ میں آٹھ دن تو ویسے ہی چھٹی منائی جاتی ہے پھر اچانک میچ اچانک مہمانوں کی آمد اور اچانک دھرنوں کی وجہ سے آدھی اور پوری چھٹیاں کرنے کے بعد اب ہفتے کے پانچ میں سے ڈیڑھ دو دن سموگ کی چھٹی۔ اسکولوں کی کمر توڑ فیسوں کے بوجھ کے بعد اکیڈیمیوں ٹیوشنوں کی فیسیں دینے والے بیچارے کہاں جائیں۔

بہت سے والدین نوکری یا کاروبار کرنے والے ہیں۔ ایسی اچانک چھٹی کے بعد بچوں کے لیے ان دونوں میں سے کوئی ایک کام سے چھٹی کرے گا تاکہ بچوں کو بے وقت اسکول سے لے جاکر گھر میں سنبھال سکے۔ لیکن ذرا ایک طائرانہ نظر سموگی تعطیل کے بعد شہر کی گلیوں پر کیجے ء گا ہر تیسری گلی میں بچے کرکٹ کھیلتے یا پکنک مناتے ملیں گے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ درخواست ا ٙن داتاوں کے حضور یہ ہے کہ سموگی چھٹیوں سے مزید رعایا کو نہ نوازیے حضور والا ہمیں زبردستی سڑک پار نہیں کرنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس مسئلے کا دیرپا حل چاہیے ورنہ یہ عفریت آنے والے سالوں میں اتنا بڑھ جائے گا کہ گرمی کے بعد سموگی دنوں کے ساتھ ملا کر سردیوں کی چھٹیاں ہوں گی۔ اس وقت تعلیمی سال تقریباً نو مہینے کا ہے اگر ڈھائی ماہ گرمی اور ڈھائی ماہ سردی کی تعطیات رہیں تو تعلیمی سال سات ماہ کا رہ جائے گا۔ اب اس نگوڑے ستوانسے تعلیمی نظام سے کوئی کیا توقع باندھے۔

تلخ سہی لیکن پورا سچ تو یہ ہے کہ اس ”لذت بے گناہ“ کے نگہدار اور بے سمت نظام تعلیم کے طفیل ٹیوشنوں اور گائیڈوں کی بیساکھیوں کے باوجود ایسے نتائج برآمد ہوتے ہیں کہ ماں باپ منہ چھپاتے، رشتہ دار ڈھول بجاتے اور مطلوبہ گریڈ حاصل نہ کرپانے والے نونہال خودکشی کے آسان طریقوں پر غور کرتے پائے جاتے ہیں۔

ویسے اس ساری لپا ڈگی میں فرحت کا ایک پہلو ضرور پوشیدہ ہے آخر ہم زندہ قوم ہیں گرمیوں میں پہاڑوں کی سیر اور سردیوں میں دھوپ اور صاف ہوا کی تلاش میں ریگستانوں ویرانوں کا رخ کرلیں گے۔ کیا خوب نظارہ ہوگا چولستان، تھر خاران اور تھل میں مری مال روڈ کی طرح چہل قدمی ہوا کرے گی۔ کڑاہی گوشت اور تکہ کباب کی خوشبو سے صحرا مہک اٹھیں گے۔ صحرا کی رات میں بون فائر کا تصور کیجے ء۔ چاندنی راتوں میں رانتی اور مارواڑی رقص وسنگیت ہوگا۔

رہی پانی کی قلت تو اب نتھیاگلی مری میں بھی بہت ہے۔ ٹینکروں سے پانی کی ضرورت پوری ہوجائے گی۔ قلعہ دراوڑ، فورٹ منرو اور سیتا کنڈ بیچاروں کو شمال کی خوبصورتی دیکھنے والے منہ نہیں لگاتے۔ موٹر وے تو بن گئی موہنجو داڑو تک کا سفر بھی چند ہی گھنٹوں کا رہ گیا ہے اب۔ تاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے مزید نئے مقامات مل جائیں گے۔

کوڑیوں کے مول بلکہ مفت میں زمین، کیا خوب کاروباری مواقع پیدا ہوں گے۔ اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے اور ایک کہاوت اور بھی ہے ”کبڑے کو لات راس آجانا“ تو سموگ کے بھوت سے ڈرنے کے بجائے روشن پہلو دیکھیے۔ بس رخ جنوب کی طرف موڑلیں راوی چین ہی چین لکھے گا۔

ناچیز نے تو راستہ سمجھا دیا اب جو سیانا اور مستقبل بین ہے وہ جلدی کرے اور ریگستان میں نخلستان تعمیر کرنے شروع کردے شرط لگالیجے ء ہم سموگ کے خاتمے کے لیے نہ شجر کاری کریں گے نہ ہی فضائی آلودگی کم کرنے کے مناسب اقدام ہم صرف کام اور پڑھائی سے چھٹی کرکے بغلیں بجاتے گاتے پھریں گے

آہا چھٹی

آہا چھٹی

آہا چھٹی

Facebook Comments HS