بلیسنگ ان ڈسگائیس

ایک بار پھر لاہور سموگی ہوگیا۔ اسکولوں سے پیغامات وصول ہوئے ” گیارہ بجے تک اپنے سپوتو ں اور سپتریوں کو لے جائیں کیونکہ اسکول کی چاردیواری میں ان ننھی جانوں کی سانس خطرے میں ہے۔ “ ماں باپ اور ویگنوں رکشوں والے اپنے اپنے کام کاج چھوڑ کر بھاگے شہر بھر سے بچے اکٹھے…

Read more

مفلسی میں آٹا گیلا

شام کا وقت مسجدوں سے بلند ہوتی اذانیں، رین بسیرے کو لوٹتے پرندوں کا شور اور چولہوں سے اٹھتے دھویں کی سرمئی لکیریں جو دور آسمان تک پھیل رہی تھیں۔ گہرا سانس لینے پر سبزے، مٹّی اور روٹی کی خوشبو مشام جاں کو معطر کیے دیتی تھی۔” روٹی کی خوشبو“دنیا بھر کی قیمتی خوشبویات اور عطریات سب اس کے سامنے ہیچ ہیں۔

Read more

نیلے رنگوں میں پولیس فریش فریش فیل کرے گی

آج کی تازہ خبر ”پنجاب پولیس کی وردی ایک بار پھر تبدیل کی جارہی ہے۔ اب گہرے نیلے رنگ کی پینٹ اور ہلکے نیلے رنگ کی قمیض پہنے نظرآئے تو ”ہلکا نئی لینے کا“۔ وجہ اب کی بار بتائی جارہی ہے کہ ان رنگوں میں پولیس فریش فریش فیل کرے گی۔ ناچیز کی ایک پرانی تحریر اسی پس منظر میں پیش خدمت ہے۔”۔ ۔ بدلتی سوچ۔ “خاکی پینٹ اور کالے، نیلے، سلیٹی عجیب بے نام اور بدنام سے رنگ کی قمیض پر حزب مراتب ٹوپی لگائے، کاندھوں پر پھول سینے پر تمغے سجائے ہمارے بہت مانوس پولیس والے جیسے ہر منظر کا لازمی حصہ تھے۔ بہت کچھ فلموں، ڈراموں میں دیکھا ولن کے مدد گار کے روپ میں یا خود ہی ولن پھر ”اندھیرا اجالا“ ڈرامہ نشر ہوا (پی ٹی وی تقریباً مرحوم ) سے۔ پولیس کا بہت اچھا تاثر قائم ہوگیا ذہنوں پر۔ اخباروں، رسالوں میں پڑھا پولیس والوں کی رشوت خوری، ظلم بربریت ک بارے میں۔ گاہے کہیں ایک آدھ تعریف بھی سننے کو مل جاتی تھی۔ لیکن زیادہ تر ولن کے روپ میں ہی دیکھے گئے۔

Read more