عمران خان کو میثاق جمہوریت کا حصہ بننا پڑے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میاں نواز شریف علاج کے لئے لندن پہنچ چکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اسلام آباد سے دھرنا ختم کر چکے ہیں۔ اب توعمران خان کو خوش ہونا چاہیے، شادیانے بجانے چاہیے۔ عوام کے ساتھ کیے ہوئے بلند و بانگ وعدے اور ان وعدوں سے عوام کی آسمانوں سے بلند امیدیں پوری کرنی چاہیے۔ لیکن، یہ کیا ہوا، چند دن قبل حویلیاں موٹروے کے افتتاح کے موقع پر جہاں چین سمیت دوسرے ممالک کے مہمان بھی شریک تھے، ان کی موجودگی میں وزیر اعظم نے اپنی فرسٹریشن اور پریشانی کا اظہار اس انداز سے کیا کہ لوگ ان کی کنٹینر والی ”پرفارمنس“ بھول گئے۔ انہوں نے نہ صرف مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف کے بارے میں سخت لب ولہجہ اختیار کیا بلکہ بلاول بھٹو زرداری کی نقل اتارتے ہوئے ان پر تنقید کی۔ بات یہیں ختم ہو جاتی تو ٹھیک تھا مگر انہوں نے عدلیہ کے بارے میں بھی بولتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا۔

جمہوری نظام میں ریاست ماں جیسی ہوتی ہے اور ادارے بچوں کی مانند ہوتے ہیں۔ اگر گھر میں ماں سے بچے یا بچوں کوماں سے کوئی شکایت ہو تو اس کا اظہار کوئی بھی عقلمند اور عزت دار گھرانہ سڑکوں، چوراہوں اور ٹی وی چینلز کے سامنے آ کر نہیں کر تا بلکہ اپنے تنازعات اپنی شکایات کا ازالہ مل بیٹھ کر حل کرتے ہیں، لیکن وزیر اعظم نے میڈیا پر پاکستان کے نظام قانون پر بات کرتے ہوئے موجودہ اور آنے والے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”ان دونوں سے آج میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک کوانصاف دے کر آزاد کریں۔

جو طاقتور ہے اس کو ہمارا قانون ہاتھ نہیں لگاسکتا۔ میں آج اپنی قوم کی طرف سے آپ کو کہتا ہوں کہ اس تاثر کو ٹھیک کریں ہمارا قانون ایسا ہو کہ کمزور سے کمزور آدمی جب طاقتور کے سامنے کھڑا ہو تو اس کو اعتماد ہو کہ اسے انصاف ملے گا ”۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیر اعظم کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ“ جو بھی معاشرے کے طبقے ہمارے ججوں پر اعتراضات کرتے ہیں ذرا تھوڑا سا احتیاط کریں، طاقتوروں کا طعنہ ہمیں نہ دیں۔ نوا ز شریف کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ جس مخصوص کیس کا حوالہ وزیر اعظم نے دیا ہے میں اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتالیکن ان کو پتا ہو گا کہ اس کو باہر جانے کی اجازت خود انہوں نے دی ہے۔ ہم صرف اور صرف قانون کے تحت فیصلہ کریں گے ہمارے لئے نہ کوئی بڑاہے نہ کوئی چھوٹا ہے اور نہ کوئی طاقتور ہے۔ ایک سابق چیف آف آرمی سٹاف (جنرل مشرف) کا فیصلہ ہونے کو جار ہا ہے ”۔ جن عدالتوں نے دو وزراء اعظم کے خلاف فیصلے سنائے اس عدلیہ کو کمزور کہنا سمجھ سے بالا تر ہے۔

حکومت کی بری کارکردگی، گرتی ساکھ اور نواز شریف کا عمران خان کے این آر او نہ دینے کی بڑھکوں کے باوجود لندن چلے جانے سے لگتا ہے عمران خان بے بسی میں جھنجھلا گئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن جو کہ لاکھوں افراد کا جم غفیر سکھر سے اسلام آباد لائے اوربظاہر وہ خالی ہاتھ اسلام آباد سے واپس چلے گئے لیکن انہوں نے انتہائی پر اعتماد لہجے میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ ”اب تمہاری چولیں ہل چکی ہیں تمہاری جڑیں کٹ چکی ہیں۔ تم اپنے دن گنتے جاؤ۔ ہم اسلام ا ٓباد ویسے نہیں گئے تھے اور ہم اسلام آباد سے ویسے نہیں آئے ہیں ”۔ چند مہینوں میں ایسا کیا ہو گیا کہ حکومت کے اتحادی ایک طرف کھڑے نظر آتے ہیں اور حکومت دوسری طرف ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مولانا فضل الرحمن جو کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے۔ جی ڈی اے کے سربراہ پیر پگارا کہتے ہیں، ہمیں یہ امید تھی کہ ہمیں فیڈرل گورنمنٹ کی طرف سے سپورٹ ملے گی اور ہماری جائز شکایات دور ہوگی مگر بدقسمتی سے حکومت کی طرف سے ہمیں بہت زیادہ مایوسی ہوئی۔

چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہی نے ایک پیغام میں حکومت سے تنازعات کی تردید بھی کی لیکن درپردہ انہیں وفاقی حکومت سے تحفظات بھی ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین بیماری کے باوجود وفاقی حکومت نہیں بلکہ انفرادی حیثیت سے ق لیگ کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے اپوزیشن سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ انہوں نے ٹیلی فونک رابطے میں پیر پگارا کو آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر مشاورت کے لئے لاہور آنے کی دعوت بھی دی ہے۔

مولانا فضل الرحمن کا اعتماد اتحادی جماعتوں کا حکومت پر اچانک عدم اعتماد کرنا اور عمران خان کا اپوزیشن سمیت ملکی اداروں پر مایوس کن انداز میں تنقید کرنا سیاست کے کسی بڑے طوفان کی آمد کا پیغام لگتا ہے۔ چیئر مین نیب کا فرمان بھی عمران حکومت کے لئے پریشان کن ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ”ہم سے کوئی یہ توقع نہ رکھے کہ وہ ارباب اختیار کی صف میں ہے تو نیب اس کی طرف سے آنکھیں بند رکھے گا۔ اپنے ناقدین کو یقین دلاتا ہوں کہ اب ہواوں کا رخ بدل رہا ہے“۔

لگتا ہے اب آپ کی پیاری صورت اور ہینڈسم شخصیت کسی کو بری لگنا شروع ہو چکی ہے۔ یہاں جمہوریت کی اتنی ہی کہانی ہے۔ سورج غروب ہونے کو ہے، چراغ جلا لو پھران کی روشنی میں چاہے نئے انتخابات کرا لو یا گھر کے اندر کسی اورکو بڑا بنا لو۔ آنے والے چند ماہ بہت اہم ہیں۔ عمران خان کو اپنی حیثیت کا اندازہ ہو چکا ہے جس کا اظہار ان کے تلملانے سے بخوبی ہو رہا ہے۔ عمران خان کو اگر واقعی جمہوریت کو توانا کرنا مقصود ہے تو انہیں آج یا کل ن لیگ اور پی پی پی کے میثاق جمہوریت کا حصہ بننا پڑے گا۔

جب مصیبتیں آتی ہیں تو چاروں اطراف سے گھرا ڈالتی ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے لئے فارن فنڈنگ کیس بھی گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ عمران خان کے پرانے ساتھی اکبر ایس بابرپہلے اس کیس کی پیروی کرتے رہے اب اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کی 8 جماعتوں کی درخواست پرالیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف درج فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر 26 نومبر سے سماعت کا حکم دے دیا۔ اپوزیشن کادائر کیا گیا غیر ملکی فنڈنگ کیس اگر اپنے منطقی انجام تک پہنچ گیا تو پی ٹی آئی کی حکومت میں بھونچال آ سکتا ہے۔ فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں پی ٹی آئی کی جماعت کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے جس کے ملکی سیاست پر کیا اثرات پڑیں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے تمام حکومتی وزرا ء سے التماس ہے کہ جلد از جلداِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ سے اگلی آیت کا ورد کرنا شروع کر دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •