وزیراعظم صاحب کیا کہنا چاہتے ہیں؟
وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کہتے ہیں کہ ”نواز شریف جہاز دیکھ کر ٹھیک ہو گئے، کیا لندن کی ہوا لگی تو ٹھیک ہو گئے؟ پہلی بار پتہ چلا کہ پلیٹ لیٹ بھی کوئی چیز ہے، جب میں نے نواز شریف کو جہاز پر چڑھتے دیکھا تو ڈاکٹر کی رپورٹ سامنے رکھ لی، جس میں لکھا تھا کہ اتنا برا حال ہے کہ مریض کبھی بھی مر سکتا ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ نواز شریف کا علاج یہاں ہو ہی نہیں سکتا، رپورٹ میں تو 15 بیماریاں بتائی گئی تھیں“
وزیر اعظم صاحب کی ان باتوں سے چند نتائج و تضمنات پیدا ہورہے ہیں۔ کیا محترم وزیر اعظم صاحب کا مطلب واقعی یہی ہیں؟
1۔ وزیراعظم صاحب کو شک ہے کہ نواز شریف صاحب بیمار نہیں تھے۔ بلکہ وہ بیماری کے آڑ میں پورے نظام کو دھوکہ دے کر باہر چلے گئے۔
2۔ ان کی صحت اور بیماریوں کی سنگینی کے حوالے سے ڈاکٹروں کی طرف سے جاری شدہ میڈیکل سرٹیفیکٹس مبالغہ آمیز اور مشکوک ہیں۔ یوں وزیراعظم صاحب دراصل پورے ملکی نظام صحت پر شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں۔
3۔ نواز شریف صاحب پر ترس کھانے اور ان کو بیرون ملک علاج کی اجازت دینے پر وہ پچھتا رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان سے بھی دھوکہ کیا گیا ہے۔
4۔ اب ان تمام ڈاکٹروں سے بازپرس کی جائے گی جنہوں نے نواز شریف صاحب کو کئی بیماریاں لاحق ہونے کی تشخیص و تصدیق کی تھی اور ان کی بیرون ملک علاج کی سفارش کی تھی۔ علاوہ ازیں اب ان کے تمام میڈیکل سرٹیفیکٹس کی صحت کی بھی ازسرنو جانچ پڑتال کی جائے گی۔
5۔ وزیراعظم کو شاید بتایا نہیں گیا کہ نواز شریف کو بیرون ملک سفر کے قابل بنانے کے لیے دو تین روز تک سٹیرائڈز کے ہیوی ڈوز دیے گئے جن کی وجہ سے وہ سفر کے قابل ہوئے۔ انہوں نے وھیل چیئر پر بیٹھنے سے انکارکیا اور خود تھوڑا پیدل چل کر جہاز کے پاس آئے اور پھر لندن میں بھی خود آہستہ اہستہ پیدل چل کر گھر داخل ہوئے۔
6۔ علاوہ ازیں وزیراعظم صاحب نے فرمایا کہ نواز شریف صاحب کو جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھا۔ وزیر اعظم صاحب کی بات درست نہیں۔ وہ خود جہاز کی سیڑھیاں نہیں چڑھے بلکہ انہیں لفٹ کے ذریعے جہاز میں سوار کرایا گیا تھا۔
قطر سے بھیجے جانے والے قیمتی جہاز کو دیکھنے یا لندن کی ہوا محسوس کرنے سے نواز شریف صاحب کے ٹھیک ہونے کے بارے میں طنز وزیراعظم صاحب کے منصب کے شایان شان نہیں۔ اب وہ ملک کے وزیراعظم ہیں اور نواز شریف صاحب ان کے پیش رو۔ آپ ان سے اگر ہمدردی نہیں کرسکتے تو ان کا مذاق اڑانے سے اجتناب تو فرما سکتے ہیں۔
وزیراعظم صاحب کی باتوں سے پاکستان میں موجود اس ذہنیت کو تقویت ملتی ہے جو اپنے مخالفین کی بیماری کو ڈرامہ اور احتساب سے فرار کا منصوبہ سمجھتی ہے۔ یہ کوئی قابل رشک امر نہیں۔ واضح رہے اس سے پہلے بیگم کلثوم نواز مرحومہ کی بیماری کو بھی ڈرامہ بازی کہاگیا تھا۔
جناب وزیراعظم کی ان جیسی باتوں سے نہ صرف ان کا اپنا امیج خراب ہوسکتا ہے بلکہ خدشہ ہے کہ اپوزیشن ان پر سازشی نظریات نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلانے کا مقدمہ درج کروانے پر مائل ہو جائے گی۔


