اکتوبر میں کسی آئینی انحراف کا خطرہ نہیں… دس وجوہات


\"wajahat1\"چھ اکتوبر کو روزنامہ ڈان کی خبر سامنے آئی۔ ریاست کے اہم ترین اجلاسوں کی کارروائی میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف ترکی کے دورے پر گئے تھے تو پاکستانی اخبارات میں افغانستان کے صدر اور پاکستانی وفد میں اختلافی بحث کی خبریں مارچ 2014 میں شائع ہوئی تھیں۔ دنیا بھر میں میڈیا کا تناظر تبدیل ہورہا ہے۔ پچاس برس قبل حساس نوعیت کے اجلاس جن کمروں میں منعقد ہوتے تھے ان کی دیواروں کو دبیز گدوں سے ساؤنڈ پروف بنایا جاتا تھا۔ 1948 میں برطانوی بجٹ کی اطلاعات چند گھنٹے قبل اخبارات میں شائع ہوگئیں تو وزیر خزانہ ہیو ڈالٹن کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ آج دنیا تبدیل ہو چکی ہے۔ ذرائع ابلاغ کی نوعیت بدل رہی ہے۔ سوشل میڈیا نے خبر اور بے خبری کا ایک نیا منظر کھڑا کر دیا ہے۔ خبر کی واقعاتی حقیقت کو نیا رخ دیا جاسکتا ہے۔ بے پر کا کوا اڑایا جا سکتا ہے۔ دوریاستوں میں جنگ ذرائع ابلاغ پر لڑی جا سکتی ہے۔ جو خبر اخبار میں جگہ نہیں پا سکتی، اسے ٹویٹر پر ٹرینڈ بنایا جا سکتا ہے۔ جو تصویر ٹیلی وژن پر نہیں دکھائی جا سکتی، وہ لاکھوں افراد کے موبائل فون پر ظاہر ہو سکتی ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ خواندگی بڑھ گئی ہے اور گزشتہ صدیوں کے بہت سے مفروضے اب ماضی کا قصہ ہو چکے ہیں۔ خبر اور بے خبری کے اس ہنگامے میں صرف صحافی نہیں جو خبر کے ذرائع تک رسائی رکھتا ہے۔ خبر کے پیچھے چھپے سوالات اس قدر واضح ہیں کہ عام آدمی بھی وہ سوالات جانتا ہے اور انہیں کا جواب مانگتا ہے۔ یہ درست ہے کہ کچھ صحافتی اداروں اور افراد کی ساکھ زیادہ ہوتی ہے لیکن یہ ساکھ ایک خبر کے صحیح یا غلط ثابت ہونے کی مدت کے تابع ہے۔ دس اکتوبر 2011 کو فنانشل ٹائمز میں منصور اعجاز کے ایک مضمون نے میمو گیٹ اسکینڈل کو جنم دیا تھا۔ اگر منصور اعجاز کے کی بورڈ سے صحافتی ساکھ کا ایسا ہی دریا بہہ رہا تھا تو پچھلے پانچ برس میں منصور اعجاز کہاں ہے؟ منصور اعجاز کے اس مضمون کی مدد سے پاکستانی سیاست میں عمران خان کا جلسہ چمکایا گیا۔ 2014 کے بعد سے عمران خان کی سیاسی کشتی میں اس قدر سوراخ ہوچکے ہیں کہ اب تو کسی کو شجاع پاشا اور ان کے رفقا کے نام بھی یاد نہیں۔ پڑھنے والے 2011 میں بھی جانتے تھے کہ میمو گیٹ ایک غبارہ ہے جس میں خواہش کے بحران کی ہوا بھری ہوئی ہے۔ اکتوبر 2016 میں ڈان کی خبر بھی قومی سلامتی کا مسئلہ نہیں، قومی پالیسی کا سوال ہے۔ اس خبر میں مبینہ طور پر کسی سیاسی یا عسکری رہنما سے کوئی ایسا جملہ منسوب نہیں کیا گیا جو ملکی مفاد کے منافی ہو یا پاکستان کے علانیہ ریاستی موقف کے منافی ہو۔ بنیادی بات یہ ہے کہ یہ قضیہ اس وقت کھڑا ہوا ہے جب حالیہ برسوں کی سیاسی کشمکش اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ملک میں اختیار اور فیصلہ سازی کے پتے اس وقت وزیراعظم کے ہاتھ میں ہیں۔ کشمکش یہ ہے کہ وزیراعظم آئندہ ہفتوں میں وہ پتے ظاہر کرتے ہیں جن سے کھیل جاری رہ سکے یا وہ ایک نئے منظر پر سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ اسلام آباد میں آج کل \”گیم چینجر\” کی اصطلاح بہت مقبول ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے میں میڈیا کے کچھ حصوں میں سنسنی اور ہنگامے کی صحافت ایک نئی سطح کو چھو رہی ہے۔ صرف چھ ہفتے قبل ان صحافیوں کے نزدیک قومی مسائل کا واحد حل یہ تھا کہ چند فٹ کی ایک رسی لے کر الطاف حسین کو کراچی کے کسی چوک میں لٹکا دیا جائے۔ ستمبر کے دوسرے نصف میں ان خواتین و حضرات نے پائنچے چڑھا لئے اور مکے لہراتے ہوئے مشرقی سرحد کے مورچوں کی طرف بڑھتے نظر آئے۔ ابھی ان کے نعروں کی گونج ہوا میں موجود تھی کہ صحافت کے اس جیش نے رخ بدلا اور ایک انگریزی اخبار کی طرف چل پڑا۔ صحافی سرل المیڈا کے معاملے نے طول نہیں کھینچا۔ انگریزی اخبار کے پیشہ ورانہ شہرت رکھنے والے ایک صحافی کی لوتھ پر تو غیر آئینی خوابوں کا محل کھڑا نہیں کیا جا سکتا۔ روزنامہ ڈان کی پیشہ ورانہ تاریخ 75 برس پرانی ہے۔ چنانچہ اس سیلابی ریلے کا رخ جلد یا بدیر شاہراہ آئین کی طرف مڑنا ناگزیر تھا۔ قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے بہت واضح بیان دیا ہے۔ لیکن وبا کے دنوں میں ایسے بیانات سے مزید آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے صحافتی کچھاروں سے وہ مخلوق برآمد ہوئی ہے جو جنازوں کو کندھا دینے کی شہرت رکھتی ہے۔ 1990 میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کا یہ بیان تو آپ کو یاد ہوگا کہ ہم نے نہلا دیا ہے، کفن دے دیا ہے اور اب دفن کر دیں گے۔ غلام اسحاق خان ایک پیش گوئی کرنا بھول گئے تھے کہ 1990 کے انتخابات میں جو قبر کھودی گئی تھی۔ جون 1993 میں اسے غلام اسحاق خان ہی کے جسد خاکی سے پاٹا گیا۔

اس وقت ملک میں آئینی انحراف کی افواہیں اپنے عروج پر ہیں۔ غلام مشعلیں لے کر ادھر سے ادھر دوڑتے پھر رہے ہیں۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تاہم خاطر جمع رکھئے آسمان ٹوٹ پڑنے کا کوئی امکان نہیں اور اس کی دس وجوہات ہیں۔

  1. فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے فروری میں اعلان کر دیا تھا کہ وہ مقررہ وقت پر ریٹائر ہوجائیں گے۔ ان کے عہدے کی میعاد 27 نومبر 2016 کو ختم ہونا ہے۔ یہ اس قدر حساس عہدہ ہے کہ اس کے لئے نامزدگیوں پر غور و خوض اور دیگر انتظامی پہلو کئی ہفتوں پر محیط ہوتے ہیں۔27 نومبر میں صرف چھ ہفتے باقی ہیں۔ اس مرحلے پر آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کا کوئی امکان نہیں۔ کیونکہ اب ان کے عہدے میں توسیع کی گئی تو وہ اپنا شخصی احترام اور پیشہ ورانہ ساکھ کھو بیٹھیں گے۔ ان کے بعد ممکنہ طور پر اس عہدہ جلیلہ پر فائز ہونے والے افراد جائز طور پر اپنی ترقی کی خواہش رکھتے ہیں۔ چنانچہ اس مصنوعی بحران میں سے آرمی چیف کی توسیع کا کبوتر نکالنا ممکن نہیں۔
  2. صرف ایک سیاسی جماعت اور چند طالع آزما افراد کے سوا ملک کی تمام سیاسی قوتیں آئین کے تسلسل پر متفق ہیں۔ آصف زرداری، اسفند یار ولی، مولانا فضل الرحمٰن، فاروق ستار، محمود اچکزائی، حاصل بزنجو سمیت کوئی قابل ذکر سیاسی رہنما آئین سے انحراف کا خیر مقدم نہیں کرے گا۔ آزاد کشمیر میں انتخابات کے بعد نئی حکومت قائم ہوئی ہے۔ آزاد کشمیر ایک حساس خطہ ہے جہاں کے لوگوں نے مسلم لیگ نواز کی حکومت کی حمایت کی ہے۔ آئینی اداروں یعنی پارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ میں ایسی کسی کشمکش کا کوئی امکان نہیں جو آئینی تعطل کی طرف لے جائے۔
  3. عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی تنہائی کوئی مفروضہ نہیں بلکہ ایک سیاسی حقیقت ہے جس کے معاشی زاویے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے دوران دنیا کے کسی ملک نے پاکستان کے موقف کی کھلی حمایت نہیں کی۔ پاکستان میں ایک خاص ذہن سرد جنگ کی اس صف بندی کا اسیر ہے جہاں ایک بڑی طاقت کے ساتھ معاملات بگڑنے پر دوسری سپر پاور کی چھتری تلے بیٹھنے کا رجحان تھا۔ سید مشاہد حسین کا بیان ملاحظہ فرمائیے کہ امریکہ کے ساتھ دوری کی صورت میں روس سے دوستی کا متبادل موجود ہے۔ گویا روس کو معلوم نہیں کہ ہمارے ہردے میں سرد پانیوں کے لئے محبت کیوں بیدار ہوئی ہے۔ گوا میں ہونے والی برکس کانفرنس میں بھارت نے روس کے ساتھ سولہ معاہدے کیے ہیں۔ یہ سوچنا بھی پرانی سوچ کا آئینہ دار ہے کہ امریکہ چین کو روکنے کے لئے بھارت کے ہاتھ مضبوط کرے گا۔ بھارت کی منڈی کا حجم چین کے برابر ہے اور معیشت کی شرح ترقی چین سے بہتر ہے۔ بھارت کا چین کے ساتھ تجارت کا حجم 72 ارب ڈالر ہے۔ بھارت کا امریکہ کے ساتھ تجارت کا حجم 66 ارب ڈالر ہے۔ چین اور امریکہ میں 590 ارب ڈالر کی سالانہ تجارت کی جاتی ہے۔ روس اور امریکہ میں باہم تجارت کا حجم اسی ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کے جی ڈی پی کا کل حجم 300ارب ڈالر سے زیادہ نہیں۔ ہم بڑی طاقتوں کی صف بندی میں فریق بننے سے اپنا جائز مفاد بھی کھو بیٹھیں گے۔ ہمیں تمام ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا ہیں اور کسی ایک بڑی طاقت کا طفیلی بننے سے مکمل انکار کرنا چاہئے۔ خطے کی ابھرتی ہوئی معاشی صورت حال میں پاکستان سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
  4. 8 نومبر کو امریکہ میں صدارتی انتخابات منعقد ہونا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں ہلیری کلنٹن کی کامیابی کا امکان زیادہ ہے۔ ڈانلڈ ٹرمپ کی انتہا پسند سوچ کے مقابلے میں محترمہ ہلیری کلنٹن کی عملیت پسندی کو غنیمت سمجھنا چاہئے تاہم ہلیری کلنٹن پاکستان کے ساتھ تعلقات کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ اپریل 2011 کے آخری ہفتے میں صدر باراک اوبامہ کو یہ رائے ہلیری کلنٹن ہی نے دی تھی کہ پاکستان ہماری کلائنٹ سٹیٹ ہے۔ کسی ملک کے لئے کلائنٹ سٹیٹ ہونے کا تاثر رکھنا اچھی بات نہیں اور یہ تاثر جمہوریت کے تسلسل ہی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔
  5. یہ امر واضح ہے کہ 2014 میں آپریشن ضرب عضب کے بعد سے دہشت گردی کے عفریت کو فیصلہ کن نقصان پہنچایا گیا ہے۔ امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔ فرقہ وارانہ مار دھاڑ میں کمی آئی ہے۔ کراچی میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔ آئین سے انحراف کی دہائی دینے والوں کا بیانیہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔ پاکستان میں جمہوری بندوبست کا انہدام دہشت گردوں اور دوسرے بد خواہوں کے لئے بہت اچھی خبر ہوگی۔
  6. دہشت گردی کے بیانیے پر پوری دنیا متحد ہے۔ نوے کی دہائی میں غیر ریاستی عناصر کی کھلی سرپرستی ہو یا گزشتہ پندہرہ برس میں نیمِ دروں، نیمِ بروں مراسم، یہ امر واضح ہے کہ دہشت گردی نے بطور ایک پالیسی کے پاکستان کے قومی مفاد کو آگے نہیں بڑھایا اور مستقبل میں بھی اس کی کوئی توقع نہیں کہ دہشت گردی کی کسی بھی سطح پر پشت پناہی سے کوئی مثبت ہدف حاصل کیا جاسکے۔ درحقیقت دہشت گردی کی درپردہ حمایت اور جمہوریت دشمنی کے بیانیے میں گہرا ربط ہے۔ اس مرحلے پر پاکستان میں جمہوری تسلسل میں تعطل آتا ہے تو دہشت گردی کے ضمن میں عالمی رد عمل زیادہ دو ٹوک ہوگا۔ اس ضمن میں امریکہ اور بھارت تو ایک طرف، روس اور چین سے کسی نرمی کی توقع نہیں کرنی چاہئے۔
  7. سی پیک کے مشرقی اور مغربی راستوں پر اختلافات اپنی جگہ لیکن پورے ملک میں عوام معاشی بہتری کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ توانائی کے منصوبے مکمل ہورہے ہیں۔ سی پیک کا یہ منصوبہ داخلی استحکام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اگر مذہبی دہشت گردی اور ملک کے ایک صوبے میں صوبائی خودمختاری کے نام پر بد امنی کے باعث سی پیک منصوبے کو ایک ڈویژن اضافی فوج کی ضرورت پیش آئی ہے تو جمہوری تعطل کی صورت میں ملک کے تمام صوبوں میں ایک جیسی بے چینی پیدا ہو گی۔ پنجاب میں مسلم لیگ نواز کی مقبولیت بحث سے بالا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی سندھی بولنے والے شہریوں کی نمائندہ سیاسی قوت ہے اور اردو بولنے والے شہریوں کا تجربہ پچھلے دو برس میں خوشگوار نہیں رہا۔ ایک طویل عرصے کے بعد پختوںخوا میں قوم پرست رجحانات کو تقویت ملی ہے۔ چھ برس قبل اٹھاہرویں آئینی ترمیم کے ذریعہ صوبوں کو اختیارت کی منتقلی کے بعد یہ سوچ خطرناک ہوسکتی ہے کہ انتظامی اختیارات رکھنے والی صوبائی حکومتوں پر مرکز پسند نظام مسلط کیا جا سکے۔
  8. سیاسی سطح پر نواز حکومت ختم کرنے کی آوازیں صرف صوبہ پنجاب سے سنائی دے رہی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پنجاب کا صوبہ قومی یکجہتی اور وفاقی ہم آہنگی کا نشان نہیں رہا۔ اس وقت پنجاب کے سوا دیگر صوبوں میں حکومت کے انہدام کی کوئی خواہش نہیں پائی جاتی۔ وفاق کی اکائیوں میں سیاسی رائے کی یہ تقسیم ملک کے لئے اچھا شگون نہیں ہوسکتی۔
  1. الیکٹرونک میڈیا اور بعض اخبارات میں حکومت کے خلاف پرجوش مہم کی سی کیفیت پائی جاتی ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ اہم صحافتی ادارے جمہوری تسلسل کی حمایت کر رہے ہیں۔ ملک کے قابل احترام ترین صحافی جمہوری تسلسل کے حامی ہیں۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو کا دور نہیں کہ مخالف صحافیوں کو جیل میں رکھا گیا ہو اور یہ میاں نواز شریف کا 1998 کا دور حکومت بھی نہیں کہ جب اہم ترین صحافتی ادارے اور افراد حکومت سے زچ ہوچکے تھے۔ پیشہ ور صحافت آگاہ ہے کہ صحافت کی آزادی جمہوریت کے تسلسل سے بندھی ہے۔
  2. پاکستان میں ایک مفروضہ مسلم دنیا کا تصور حالیہ عشروں کی سیاست پر حاوی رہا ہے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دوسرے علاقوں میں مسلم اکثریتی ممالک کی حکومتیں بحران کا شکار ہیں یا ہنگامی دور سے گزر رہی ہیں۔ سعودی عرب کی معیشت اور سیاست متزلزل ہے۔ عراق، شام، لیبیا اور یمن مین جنگی صورت حال ہے۔ مصر اور ترکی کے حالت دگرگوں ہیں۔ ایران ایک بڑے عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ اکتوبر 1999 کے بعد سے مسلم اکثریتی دنیا کا نقشہ تبدیل ہوچکا ہے۔

ان اسباب کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالنا قرین قیاس ہے کہ رواں اکتوبر میں پاکستان میں کسی آئینی انحراف  کا کوئی خطرہ نہیں۔

Facebook Comments HS