شہر خموشاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی کو گر میں شہر خموشاں کہوں تو غلط نہ ہوگا۔

شہر نا پرسان حال نے ہر آپ بیتی پہ سوائے آہ و زاریوں کہ سوا آج تک کچھ نہ کیا خواہ اس پہ کیا کچھ نہ بیتا ہو۔ ہم آج تک بھولے نہیں کہ روزانہ نامعلوم افراد کے ہاتھوں لقمہ اجل بننے والوں کی تعداد بیس سے زیادہ ہوا کرتی تھی۔ مارنے والے مارنے کے اس قدر عادی ہو چلے تھے سیاسی قتل و گارت گری تو اپنی جگہ شوقیہ بھی بندہ مار دیا کرتے تھے۔

ابھی چند سال بھی نہ گزرے تھے کراچی میں معاملات و حالات زندگی کو بہتر ہوئے۔ مکمل تو نہیں مگر کافی حد تک امن امان کی صورتحال بہت بہتر تھی بلکہ قدرے بہتر تھی۔ جرائم کا گراف نیچے تھا اور مجرموں کی سرکوبی کا گراف اونچا تھا۔ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ اب ایک بار معاملات اس طرف ہی جا رہے ہیں کہ امن امان آئے دن بدتر ہوتا جا رہا ہے اور جرائم کی فضا ایک بار پھر سے سازگار ہے۔ لوگ روزانہ ڈکیتی کی وارداتوں میں اپنی چیزوں سے محروم ہورہے ہیں یہاں تک کہ ذرا سے مزاحمت انسانی جان کے لیے ہزیمت بن جاتی ہے۔

گزری ہوئی رات راقم سے ہوئی ڈکیتی کی واردات نے اس قلم کو جنبش دینے پہ مجبور کر دیا جس کی نوک راقم نے 2012 میں لیاری میں ہوئی لیبر ریلی پہ فائرنگ کے بعد توڑ دی تھی۔ ایک مصروف شاہراہ پہ دن دھاڑے نہ سہی پر سر شام راہگزیروں کو آزادانہ اسلحے کی نوک پہ لوٹنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مجرم آزاد ہیں اور عام شہری ان کی زد پر ہیں یہاں تک ایک شخص کو گولی مار کے زخمی تک کر دیا گیا۔ راقم یہ سوچنے کے ساتھ اب کہنے اور لکھنے پہ بھی مجبور ہے کہ بحیثیت محب وطن شہری ہم کیا چاہتے ہیں؟ ہم کچھ اتنا بھی زیادہ تو نہیں چاہتے بس امن اور تحفظ چاہتے ہیں۔ ہم برابری و ایمانداری چاہتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہم جان و مال سے محروم کیے جاتے رہیں۔ ہم ان کے لیے بھی باعزت روزگار کے مواقع چاہتے ہیں جو بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کہ مجرم بنتے ہیں۔

ریاست ہوگی ماں جیسی کا فلسفہ تب تک سچا اور مکمل نہیں ہوسکتا جب تک ماں حقیقی طور اپنے سارے بچوں میں قطع نظر رنگ و نسل، صوبہ، منصب یا عہدے کے انصاف نہ کرے۔ ہم دوہرے نظام میں جیتے ہیں۔ عام آدمی کی گرگاہیں مختلف ہیں جبکہ برسر اقتدار لوگوں بشمول ان کے جن کو عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس ادا کر کے اقتدار اور اداروں کی سربراہی تک پہنچاتے ہیں ان کا رہن سہن اور گزرگاہیں الگ ہیں۔

ہم عام لوگ ان کے جیسا نہ سہی ان سے کم سہی ہر بنیادی تحفظ تو چاہ ہی سکتے ہیں۔ ہم اتنا تو چاہ ہی سکتے ہیں کہ عوام کی سنوائی و داد رسی ہو جبکہ غریب عادمی اپنی شکایت درج کرانے کے لیے دھکے کھا رہا ہوتا ہے تو کہیں امرا کے درباروں میں شکایات درج کرنے والے خود پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔

ہم دو نہیں تین نہیں ایک نظام چاہتے ہیں جو مستقل اور یکساں ہو۔

میں ایک وقت کے بعد لکھنے پہ براہ راست ان کو نہیں للکارنا چاہتا کہ جو بعد میں لکھنے ہی نہ دیں پر مجھ سمیت ہر شہری اتنا ضرور چاہتا ہے کہ ریاست کے نام پہ ریاست سے کھلواڑ اب بند ہونا چاہیے۔ ریاست کو سگا سوتیلا پن ترک کہ صرف ماں کا حقیقی کردار ادا کرنے پہ توجہ دینی چاہیے۔

امن، صحت روزگار، تحفظ اور استحکام ہم سب کی بنیادی ضرورتیں ہیں یہ ہر معاشرے کے لیے بہت ضروری ہیں اگر وہ معاشرہ زندہ رہنا چاہتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).