ناروے واقعہ اور ہماری ذمہ داری


16 نومبر کو ناروے کے شہر کرسٹینڈ سینڈ میں ایک انتہائی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ جس نے امت مسلمہ کے جذبات کو مجروح کیا۔ ناروے میں اسلام مخالف تنظیم سیان (stop islamization in Norwy) کے اسی سالہ بانی تھومیر نے نعوذ با اللہ قرآن مجید کو جلانے کی ایک تقریب منعقد کی۔ جس میں تمام لوگوں کے سامنے متشدد ذہنیت کے مالک حواس باختہ تھومیر نے قرآن مجید کو جوں ہی جلایا، مجمع میں کھڑا ایک مسلم نوجوان اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور عقاب کی طرح تھومیر ملعون پر جھپٹ پڑا۔ یہ نوجوان عمر الیاس اس وقت پوری امت مسلمہ کا ہیرو بنا ہوا ہے۔

یورپ کی جانب سے اس نوع کے واقعات ماضی میں بھی منظر عام پر آ چکے ہیں۔ یورپین ممالک جب تک توہین مذہب کے حوالے سے اپنے آئین میں قانون سازی نہیں کرتے تب تک اس جیسے توہین آمیز واقعات پیش آتے رہیں گئے۔

سوال یہ پیدا ہوتا یے کہ ایسے واقعات پر امت کا رد عمل کیا ہونا چاہیے۔ اس کے کئی پہلو ہیں۔ ہر ایک کا دائرہ عمل مختلف ہے۔ ملکی سطح پر الگ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ جماعتوں کی سطح پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا جا سکتا یے۔ پرامن جلسے جلوسوں کا انعقاد بھی ایک رد عمل ہے۔ سب سے عمدہ رد عمل عمر الیاس کا ہے۔ ایک مسلمان کے سامنے یہ سب کچھ ہو رہا ہو اور مسلمان کے دل میں کوئی ارتعاش و جذبہ پیدا نہ ہو تو کجا رود مسلمانی۔ یہ ایسے مواقع ہیں جہاں حکمت و بصیرت نہیں بلکہ جذبہ مومن کی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمان کم از کم ان جیسے توہین آمیز رویوں پر کمپرومائز کسی صورت نہیں کر سکتے۔

شخصی سطح پر ردعمل کا محور الگ ہے۔ ہماری پستی کی ایک بڑی وجہ قرآن مجید سے شعوری طور پر دوری ہے۔ ہم نے قرآن مجید کو ایک مقدس کتاب تو سمجھا ہے لیکن دستور زندگی نہیں بنایا۔ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ علم کے تمام چشمے اسی کتاب الہی سے ہھوٹتے ہیں۔ قرآن مجید انقلابی کتاب ہے۔ تمام دکھوں کا مداوا اسی کتاب میں یے۔ دنیا کی معیشت اور امن کا ضامن یہ کتاب ہے۔ اب ان حوالوں سے قرآن مجید کو سمجھنے کی کتنی کوشش کی گئی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تلاوت قرآن عظیم عبارت ہے۔ جس کے ہر ہر حرف پر پڑھنے والے کو دس دا نیکیاں ملتی ہیں۔ لیکن یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ پوری زندگی میں ایک مسلمان ایک مرتبہ بھی قرآن مجید کو سمجھ کر نہ پڑھے۔ ترقی کے اس دور میں قرآن مجید کے علوم تک رسائی تو بہت ہی آسان ہو چکی ہے۔ موبائل ہر ایک کی جیب میں یے۔ پلے سٹور سے آپ تراجم اور تفاسیر بلا قیمت بآسانی ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں۔ دن میں بیس منٹ صرف قرآن مجید کو باترجمہ و باتفسیر پڑھنے سے آپ مکمل قرآن چند سالوں میں ختم کر سکتے ہیں۔

رہنمائی کے لیے بتاتا چلوں کہ موجودہ وقت میں مفتی تقی عثمانی صاحب کا ”آسان ترجمہ“ پلے سٹور پر دستیاب ہے۔ انتہائی آسان اور ہر ایک کے لیے سمجھنے میں سہل۔ اسی طرح ”تفسیر عثمانی“ از مولانا شبیر احمد عثمانی بھی ڈاون لوڈ کی جا سکتی ہے۔ تفسیر عثمانی میں با الفاظ ترجمہ بھی موجود ہے۔ بہت ہی مفید تفسیر ہے۔ islam 360 ایک ایسی ایپ ہے جس میں بہت کچھ شامل ہے۔ اسے سیکھ کر استعمال کرنے سے آپ کئی فائدے حاصل کر سکتے ہیں خصوصا قرآن و حدیث کے حوالے سے۔ یہ چند تراجم و تفاسیر کا ایک مختصر تعارف ہوا۔ ہر شخص ان تک بآسانی رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ لہذا موجودہ دور میں قرآن مجید کو سمجھنا اور بھی آسان ہو چکا ہے۔

آخر میں ایک اور اہم نقطہ عرض کرتا چلوں۔ سوشل میڈیا پر ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ خدانخواستہ جب کبھی ایسا واقعہ ہو تو ہمیں رد عمل میں قرآن و حدیث کی تعلیمات کو عام کرنا چاہیے۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد علوم اسلامیہ سے واقف ہوں۔ قرآن کی عالمگیریت عام ہو۔ دنیا کو پتہ چلے کہ قرآن مجید کسی ایک مذہب کی کتاب نہیں بلکہ عالم انسانیت کی ہدایت کا ذریعہ یے اور یہ ایک عالمگیر کتاب (Universal book) ہے۔ اللہ پاک ہمیں قرآن پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Facebook Comments HS