دی میٹ – امریکہ میں تہذیب مشرق کا جہان حیرت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیجیے “دی میٹ” میں کھڑے ہیں اور اقبال یاد آ گئے!

مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارا

تو کہانی کچھ یوں ہے کہ ہمارا بھی دل سی پارا بلکہ پارا پارا تھا۔ پھر یک لخت خیال آیا کہ کیوں؟ ہم کس بنیاد پہ اتنے دکھی ہیں؟

یہاں تو غیروں نے ان موتیوں کو سینے سے لگا رکھا ہے، قدر افزائی بھی ہے، ستائش و دیکھ بھال بھی، شائقین کا ہجوم بھی اور پہروں دیکھ کے سر دھننےوالے بھی۔ ہم کس برتے پہ غم منائیں کہ ہم نے یہ ہیرے مٹی میں کیسےملائے ہیں اس کا حال کسی سے چھپا نہیں۔

جو کچھ ورثہ ہاتھ آیا تھا، آج تک سمجھ ہی نہیں پائے کہ گندھارا تہذیب پہ فخرکرتے ہوئے دھرتی سے ناتا جوڑیں یا حرام حلال کی کسوٹی پہ پرکھتے ہوئے، زمین کے رشتے توڑتے ہوئے سب ملیامیٹ کر دیں۔ مغل تہذیب کو اپنا مانیں یا افغان و ایران کی رنگ آمیزی کی لاحاصل بحث کے بعد سب سے کنارہ کشی کر لیں۔

ہم نیویارک کےمشہور عالم میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں تھے جو عرف عام میں “دی میٹ” کہلاتا ہے۔ میوزیم ہے یا جہان حیرت، جو ہر قدم پہ آپ کو ششدر کرتا ہے۔ ہر لحظه آنکھ کی پتلی پھیل جاتی ہے۔ گم گشتہ زمانوں کی تاریخ کےاوراق پلٹتا یہ ایک میوزیم ہی نہیں بلکہ ایک سفر ہے جو وقت کے اوراق میں کھو جانے والوں سے آپ کو متعارف کراتا ہے جن کی آوازیں شاید آج بھی ہمارے ہر طرف گونج رہی ہیں۔ وہ اپنے وقتوں کے نامور، اب نشان عبرت بنے بیٹھے ہیں۔

ہم جب بھی نیویارک جاتے ہیں یہ ہو نہیں سکتا کہ “دی میٹ”سے ملے بغیر واپس آئیں۔ آپ خود حساب لگائیے پچیس لاکھ نوادرات کو دیکھنے کے لئے کس قدر وقت درکار ہوگا اور کس قدر ٹکٹ۔ لیکن یہ جان کے آپ انتہائی حیران ہوں گے کہ ٹکٹ کی باقاعدہ قیمت تو طے ہے لیکن مانگی نہیں جاتی۔ شوقین کی صوابدید پہ ہے کہ کیا دیا جائے اور ہم جیسوں کے لئے جن کا بس چلے تو دن بھی وہیں بسر کریں اور رات بھی، اس سہولت کو جی بھر کے نہ استعمال کرنا یقیناً ظلم عظیم ہے۔

دی میٹ 1870 میں وجود میں آیا اور کرہ زمین کی مختلف تہذیبوں کے مظاہر کو ایک چھت کے نیچے اکھٹا کر کے سترہ ڈیپارٹمنٹس میں بانٹا گیا۔ نوادرات کےذخیرے میں قدیم مصر، یورپ، امریکہ، ایشیا، افریقہ ، بازنطائن، اوشنین، مسلم اور کلاسیکل دور کے نمونے شامل ہیں۔ ان تہذیبوں کے نشانات ان کی اصل سرزمین پہ تو معدوم ہو چکے لیکن انہیں “دی میٹ” نے حیات ابدی بخش دی ہے۔ ہر سال ستر لاکھ سیاح “دی میٹ” میں اپنے ذوق دید کی آبیاری کرتے ہیں اور دی میٹ دنیا کا تیسرا بڑا دیکھا جانے والا میوزیم ہے۔

“اماں! آج کس طرف چلیں؟” اندر داخل ہوتے ہوئے ہماری بیٹی نے پوچھا،

“آج ایشیا چلتے ہیں، بیٹا!”

اور کیا خوب خیال سوجھا تھا ہمیں، نیویارک کی اترتی سردیاں اور اپنی طرف کے رنگارنگ نوادرات، چاندی ہو گئی بھئی!

یہ حصہ طلسم ہوشربا کی بھول بھلیوں کی یاد دلاتا تھا لیکن ہم بھی کھو جانے کو تیار تھے۔ اور پہلا حصہ ہی برصغیر کے ان نوادرات سے سجا تھا جو ہمیں اقبال کی یاد دلا گئے تھے۔

 تخت نشین شہنشاہ، ہاتھیوں پہ جھولتے شہزادے، گھوڑوں پہ تلوار سونتے سپاہی، محمل نشین شہزادیاں، ہاتھ باندھے درباری۔ یہ ایک عروج کی داستان تھی جو کب سے خاک ہو چکی، مگر گہرے نشان اب بھی دستان طراز ہیں۔

کہیں امیر خسرو کی شاعری کے تصویری بیان دل کو چھیڑتے تھے تو کہیں جھروکہ نما دروازے ماضی سے آواز دیتے تھے۔ کہیں کندہ ہوئے شہنشاہیت کے تمام مظاہر حیران کرتے تھے، تو کہیں ملکہ اور شہزادیوں کے ذاتی سنگھار کے لوازمات مسحور کرتے تھے۔ کہیں اعلیٰ خطاطی کے نمونوں پہ ہمیں فخر محسوس ہوتا تھا، تو کہیں آئیوری کے ٹکڑوں سے بنا قلم دان ہمیں ٹھٹک جانے پہ مجبورکرتا تھا۔

یہ سب مغلیہ دور کی نشانیاں تھیں اور یہ سب دیکھ کے کچھ آنسو بہہ جانے کو تھے۔ کیسا لمبا سفر اور ہم کیا تھے اور کہاں آن پہنچے۔ علم، جاہ وحشم، قرینہ، ہنرو فن کی اوج پہ متمکن ہو کے بے ہنری اور جہالت کی پاتال میں اترنا کیا دردناک سفر ہے۔

چلیے چھوڑیے، اگلے کمرے میں چلتے ہیں جہاں کا خیالیہ ہے مغلیہ دور کا پھولوں بھرا فن کدہ ۔ پھولوں کے ڈیزائن اور رنگوں سے آرٹ کے نمونے مغل بادشاہ جہانگیر کے دور کی کرامات ہیں اور یہ فن شاہجہان کے زمانے میں اوج کمال تک پہنچا۔ وہاں محبت کے تاج محل میں پھولوں کی مینا کاری کاریگروں کے فن کا منہ بولتا ثبوت ہے اور یہاں نقشی دروازے، پھولوں کی بہار دکھاتے پردے، پھول کندہ برتنوں کی بہار دل کو گرماتی ہے۔

شمالی برصغیر یا ہمالیہ کی گود سے حاصل کردہ پشمینہ اون اور ریشم کی بنت سے پھول بھرے قالین صدیوں بعد بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان قالینوں کےلکھے گئے تعارف میں پھر لاہور کا نام نظر آیا۔ ارے بھئی، پھر لاہور!

بہت بڑے قالین زمین پر بچھا دیے گئے تھے اور اردگرد باڑ لگا دی گئی تھی۔ یونہی خیال آیا، نہ جانے ان شاہی قالینوں کو کتنے بادشاہوں کے قدموں نےروندا تھا۔ کتنے لوگ جھوٹی شان و بان سے ان پہ تن کے کھڑے ہوئے تھے۔ ان قالینوں کے ماند نہ پڑنے والے رنگوں نے کیا کچھ نہ دیکھا تھا۔

 جہانگیر اور انارکلی کی محبت، اکبر کا طنطنہ اور انارکلی کے گھسٹتے آخری قدم۔ ہم سوچتے تھے شاید ان قدموں کو آخری دفعہ محسوس کرنےوالا حصہ اپنے آنسوؤںک ی وجہ سے رنگ میں ہلکا پڑ گیا ہو، شاید اس حصے کے پھول مرجھا گئے ہوں۔ اور نیرنگئ حیات تو دیکھیے، جن کے لئے یہ قالین بنے گئے تھے وہ کب کے مٹی ہو چکے اور یہ قالین سات سمندر پار حسرت والم کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔

برصغیر کے مغلیہ حصے کی شان وشوکت دیکھنے کے بعد ہم اداس بھی تھے اورخوش بھی۔ ہم نے گئے وقتوں میں جھانکا تھا اور کچھ مانوس ناموں سے وابستہ عجائبات کا دیدار کیا تھا، اقبال کو یاد کیا تھا، اور اپنے آپ سے بہت سے سوال پوچھے تھے۔

جواب بتانے کی ذمہ داری ہم نہیں لیتے! آپ تصویریں دیکھیے اور جواب ڈھونڈیے! (اور ہاں اگر کسی تصویر کو پورے سائز میں دیکھنے کی خواہش ہو تو اسے کلک کیجئے)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •