کہانی ایک ناکام ’فریب ناتمام‘ کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"zafarullah-khan-3\"

ملک کے سیاسی منظر نامے پرحب الوطنی اور غداری جیسے مباحث کا غلغلہ مسلسل جاری رہتا ہے۔ اہل علم و صفا حب الوطنی کے موضوع پر اکثر و بیشتر ہماری گوشمالی کرتے رہتے ہیں ۔ بدقسمتی سمجھ لیجیے کہ ہمارے ہاں تاریخ کی کتاب پڑھتے ہوئے کچھ پنوں سے جان کر صرف نظر کیا جاتا ہے۔ مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننا ہماری پیدائش سے پہلے کا واقع ہے۔ اسکول کے زمانے میں معاشرتی علوم کے استاد بتایا کرتے تھے کہ بنگالی غدار تھے۔ بنگالی بھارت کی ایما پر پاکستان توڑنا چاہتے تھے۔ سن شعور غالب آیا تو معلوم ہوا کہ 1970 کے الیکشن میں شیخ مجیب کی عوامی نے 160 نشستیں جیتی تھیں جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے 81 نشستیں حاصل کیں۔ حکومت سازی کے لئے قومی اسمبلی کی 300 نشستوں میں سے 151 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار تھی۔ طالب علم سمجھ سکتا ہے کہ بنگالیوں کے غداری کی کیا وجوہات رہی ہوں گی۔ غداروں کی یہ فہرست بہت طویل ہے۔ اس فہرست میں باچا خان سے لے کر، غوث بخش بزنجو، عطا اللہ مینگل، گل خان نصیر، عبدالصمد اچکزئی، مالک بلوچ، رازق بگٹی، بسم اللہ کاکڑ، عزیز اللہ ماما، ولی خان، افراسیاب خٹک، اجمل خٹک، مختار باچا۔ امام علی نازش، جی ایم سید، حیدر بخش جتوئی، شیخ مجیب، یار محمد خان، شمس الحق اور جانے کون کون شامل تھے۔ طول کلام کو چھوڑ کرموضوع کی طرف آتے ہیں۔

حال ہی یاسمین نگار نامی کسی خاتون کا ایک انٹرویو ہندوستان ٹائمز شائع ہوا جسے بی بی سی پشتو سروس نے ہندوستان ٹائمز کے حوالے سے نشر کیا۔ اس میں ایک اہم بات یہ تھی کہ یاسمین نگار نامی خاتون جو کلکتہ میں رہتی ہیں اس کو ہندوستان ٹائمز نے باچا خان کی پوتی یا نواسی لکھا تھا۔ جبکہ دوسری اہم خبر یہ تھی کہ مذکورہ خاتون آزاد پختونستان کے قیام کے لئے نریندرا مودی سے ملنا چاہتی ہیں۔ اپنے ذرائع سے اے این پی اور باچا خان کے خاندان سے مذکورہ خاتون کیے بارے میں دریافت کیا تو پتہ چلا کہ ان کی ایسی کوئی رشتہ دار نہیں ہیں اور نہ ہی اس خاتون کا تعلق ان کے خاندان سے ہے۔ بحث یہاں ختم ہو جانی چاہیے تھے لیکن بحث نے ایک اور رخ اختیار کر لیا۔ اہل مروت نے ہمیں یاد دلایا کہ باچا خان کا خاندان ہمیشہ سے اس ملک کا غدار ہا ہے۔ اس بحث میں وہ احباب بھی بڑھ چڑھ کر شامل ہو گئے جن کے اجداد پاکستان کے بننے کو گناہ سمجھ کر اس پر شکر کا برملا اظہار فرمایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ قومی سطح کے محب وطن دانشور بھی ہمیں بتانے لگے کہ کون کون غدار ہے۔ عموماً غدار ی کے یہ مباحث چلتے رہتے ہیں۔ ہم جیسے طالب علموں کے لئے Victim blaming کے سماجی تعصب کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اہم بات یہ تھی کہ ان مباحث میں صوفی جمعہ خان کی کتاب ’فریب ناتمام‘ کے حوالے آنے لگے۔ ہمیں یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ غداری کے ثبوت اس تاریخی دستاویز میں محفوظ ہیں۔

\"jumma-khan-sufi\"

صوفی جمعہ خان کی کتاب آج سے کئی سال پہلے پشتو زبان میں ’د درمسال خٹی‘ کے نام سے آئی۔ چونکہ طالب علم صوفی جمعہ خان کی پوری روداد سے واقف تھا اس لئے ردعمل کی نفسیات کے زیر اثر اس تلچھٹ کو پڑھ کر کوئی خاص اچھپنا نہیں ہوا۔ اس کے بعد یہ کتاب اردو میں آئی۔ اردو میں آنے کے ساتھ ہی اس پر غلغلہ بپا ہوا۔ کتاب کی سرسری ورق گرادنی کی تو معلوم ہوا کہ پشتو اور اردو کی کتابوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے سوائے ان حصوں کے جہاں صوفی صاحب نے ’غداروں کی غداری‘ کا ذکر کیا ہے۔ پشتو نسخے میں ان مخصوص ابواب میں صوفی صاحب نے پشتون ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے پست کلامی سے جگہ جگہ احتزاز برتا ہے جبکہ اردو میں انہی حصوں کو چٹخارے دار بنایا ہے۔ ایک خیال یہ آیا تھا کہ اس کتاب کا ایک تنقیدی جائزہ لینا چاہیے لیکن پھر دو تین وجوہات کی بنا پراس خیال کو ترک کر دیا۔

پہلا یہ کہ صوفی صاحب نے جو تاریخی دستاویز رقم کی ہے اس میں سند کے اعتبار سے حقائق کی درستی کے لئے صوفی صاحب فرماتے ہیں، ’لکھنے کی عادت کی وجہ سے میری ڈائریوں میں یہ تمام واقعات رقم ہیں۔ کتاب کی اشاعت کے بعد مخالفین اور معترضین اگر کسی بات کو جھوٹ یا بہتان قرار دینا چاہیں تو اسی زمانے کی ڈائری بطور ثبوت پیش کی جا سکے‘۔ صوفی جانے کس خیال میں سمجھ رہے ہیں کہ تاریخی واقعات جو دو ممالک کی سطح پر ہوں اور ان میں اس وقت کے ایک سپر طاقت روس کا کردار بھی ہو، اس میں حوالے کے لئے کسی شخص کی ذاتی ڈائری کو اہمیت حاصل ہو سکتی ہے یا اس کو ثبوت مانا جا سکتا ہے؟ صوفی صاحب کو شاید معلوم نہیں کہ اس ملک میں ’بازار حسن سے پارلیمنٹ‘ جیسی تاریخی دستاویزات رقم ہوتی رہی ہیں اور سیاست دانوں کو بدنام کرنے کا چلن یہاں بہت عام ہے۔ اچھے خاصے سنجیدہ نظر آنے والے احباب ملک کے وزیراعظم پر بھارتی ایجنٹ ہونے کے گمراہ کن الزامات لگا سکتے ہیں۔ ایسے میں اگر ایسی ذاتی گواہیوں کو دستاویز کے حیثیت حاصل ہونے لگے تو اس ملک میں کسی کی عزت محفوظ نہ رہے۔

تنقیدی جائزہ نہ لینے کی دوسری وجہ کتاب کے ’بیک فلیپ‘ پر رقم تاثرات ہیں۔ صوفی صاحب کے بقول وہ کمیونسٹ پارٹی کے اہم رکن تھے۔ امام علی نازش جسے لوگ ( جن کو صوفی صاحب نے کھانسنے والا ٹی بی کا مریض لکھا ہے) صوفی صاحب کے کمرے پناہ گزین ہوا کرتے تھے۔ صوفی صاحب کے بقول وہ روس میں کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے ایک وی آئی پی حیثیت سے جاتے رہتے تھے۔ افغان کے تین صدور، سردار داؤد، ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب اللہ کے گھروں تک اور ان کے ساتھ تزویراتی گہرائی کے منصوبے بنانے میں صوفی صاحب کو ایک اہم حیثیت حاصل تھی۔ پندرہ سالہ جلاوطنی کے بعد جس شخص کو روسیوں نے واپس آتے ہوئے روس میں الواداعی پارٹیاں دی ہوں۔ افغانستان کے صدر ڈاکٹر نجیب اللہ نے الوداعی تقریب منعقد کی ہو۔ اس شخص کو ایک تو ’سچ‘ لکھنے کا خیال چالیس بعد آیا ہو جب واقعات کے تمام کردار کم و پیش فوت ہو چکے ہوں۔ اور پھر اس لیفٹسٹ، نیشنلسٹ ، انقلابی اور سرکاری مطلوب غدار نے جو ’سچ‘ لکھا اس کے بیک فلیپ پر کوئی ریٹائرڈ برگیڈئر صاحب سخن آراء ہوں اور اس کو ’تاریخی دستاویز‘ اور’ریفرنس بک‘ قرار دے ہوں تو سیاست کے طالب علموں کے لئے ان ’حقائق‘ کی حیثیت متعین کرنا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔

تیسری وجہ اس کتاب میں بیان کئے گئے واقعات میں حد درجہ تضادات تھے۔ پہلی بار پڑھنے پر ہی محسوس ہو جاتا ہے کہ صاحب تحریر ردعمل میں الزام تراشیوں سے کام لے رہے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ پہلے کیا لکھا تھا۔ چونکہ صوفی صاحب کی کتاب چھ سو کے قریب صفحات کی ایک ضخیم کتاب ہے اور اسے دوبارہ پڑھنے کا یارا نہیں، اس لئے سرسری ورق گردانی کرنے پر ذرا تضادات پر ایک نظر ڈال لیجیے۔

صوفی صاحب تعارف میں پہلے صفحے پر لکھتے ہیں، ’میری جلا وطنی نیپ لیڈران کے فیصلے کے نتیجے میں اور اجمل خٹک سے قریبی روابط کے بعد ہوئی‘۔ اس کے بعد صوفی صاحب اپنی جلا وطنی کی داستان لکھتے ہیں۔ کابل پہنچنے پر صوفی صاحب جب پہلی بار اجمل خٹک کے گھر جاتے ہیں تو لکھتے ہیں، ’اگلے دن جمال مینہ میں اجمل خٹک کے گھر ان سے ملا۔ شروع میں اجمل خٹک کچھ شک میں مبتلا نظر آئے اور محتاط ہو کر بول رہے تھے لیکن جلد ہی انہیں حقیقت حال کا یقین ہوا تو مشورہ دیا کہ کچھ عرصے کے لئے کابل میں بھی پوشیدہ رہوں۔ دراصل اجمل خٹک اپنے داخلی اور خارجی ذرائع سے میرے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے‘۔

سوال یہ ہے کہ صوفی صاحب اگر نیپ کے لیڈران کے فیصلے کے نتیجے میں اور اجمل خٹک کے ساتھ قریبی روابط کی بنیاد پر جلا وطن ہونا پڑا تو اجمل خٹک کس بنیاد پر نیپ کے بھیجے گئے نمائندے اور اپنے ہی قریبی ساتھی پر شک کر رہے تھے اور ان کے بارے میں مزید کیا معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے؟ آگے دیکھیے۔ صوفی صاحب 1967 میں پہلی بار کابل جانے کا واقع لکھتے ہیں، ’روانگی سے قبل اجمل خٹک نے مجھے کئی خطوط دیے جن میں زیادہ تر ’’پرچم‘‘ کے اکابرین کے نام تھے‘۔ آگے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر نجیب اللہ کے گھر گئے۔ اجمل خٹک کے خطوط اور ان کی کتاب نجیب اللہ اور سلیمان لائق کے حوالے کیں۔ اسی دورے میں باچا خان سے بھی ملے۔ اس ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ جب باچا خان سے کچھ سوال و جواب کے موقع پر باچا خان نے ان کو کہا کہ ’’تمہارے دماغ میں تشدد بھرا ہے‘‘۔ آگے چل صوفی صاحب لکھتے ہیں، ’دوسری مرتبہ کابل جانے کا موقع 1969کے موسم گرما میں ملا۔ اس مرتبہ میں ڈاکٹر نجیب اللہ کا مہمان تھا‘۔ آگے چل کر صوفی صاحب ماسکو دورے کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں، ’1972 میں مجھے اجمل خٹک کے ذریعے حکم دیا گیا کہ میں ایک کورس کے سلسلے میں روس جاؤں‘۔ آگے چل کر وہ روس پہنچنے کا واقعہ لکھتے ہیں، ’تقریباً چھ گھنٹے کے طویل سفر کے بعد ہم ماسکو کے داخلی ائرپورٹ پر اترے۔ میں ایک اہم مہمان تھا۔ اس لئے وی آئی پی راستے سے نکلے اور بلیک ’’وولگا‘‘ کار میں بیٹھ کر سویت یونین کے کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ہوٹل گئے۔

اب سوال یہ ہے ایک طرف صوفی صاحب اجمل خٹک کے ایک اہم نمائندے کے طور پر کابل جا کر پرچم کے نمائندوں کو ان کے خطوط پہنچاتے ہیں۔ ایک سفارتی حیثیت میں روس یاترا کرتے ہیں اور دوسری جانب 1973 میں وہ لکھتے ہیں، ’اجمل کے گھر میں تور لالئی کا راج چلتا تھا۔ میری حیثیت ایک جونئیر اور ناچیز ہی کی تھی جسے ناسمجھ اور بیکار سمجھا جاتا تھاـ‘۔ مشکل مگر یہ ہے کہ یہ ناسمجھ اگلے صفحے پر لکھتا ہے کہ اجمل نے پیغام دے کر مجھے پاکستان ولی خان کے پاس بھیجا۔ اب جانے ان کی کونسی بات تسلیم کی جائے؟ بے حیثیت اور ناکارہ والی یا اہم اور قابل بھروسہ والی؟ اس طرح کے بے شمار تضادات ہیں۔ مثال کے طور پر صوفی صاحب لکھتے ہیں کہ روسیوں کے ساتھ کابل میں میں مل کر معلومات کا تبادلہ کیا کرتا تھا اور اس کے بعد لکھتے ہیں کہ اجمل خٹک اپنے اور روسیوں کے معاملات مجھ سے خفیہ رکھتا تھا۔ جیسے وہ لکھتے ہیں کہ یہ معلومات میری ڈائریوں میں لکھے ہیں۔ صوفی صاحب کے مطابق وہ 18اگست 1972 سے 24 جنوری 1973تک ماسکو میں تھے مگر اسی دورانیے میں ان کی ڈائریاں جانے کون پاکستان میں لکھتا تھا جس میں پشتون زملے کی کاروائیاں درج تھیں۔

اس طرح کے بے شمار متضاد واقعات سے صوفی صاحب کی خودنوشت بھری ہوئی ہے۔ اصل میں صورت حال یہ ہی کہ صوفی صاحب طالب علمی کے زمانے میں ایک عام اور غریب سیاسی کارکن تھے۔ کابل میں جلاوطنی کے وقت وہ اجمل خٹک کے گھر میں رہتے تھے۔ اس وجہ سے ان کی رسائی سردار داؤد، حفیظ اللہ امین، ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب اللہ کے صدارتی محلات تک ہوئی۔ وہ روسیوں سے ایک اہم نمائندے کے طور پر ملتے رہے۔ ان کے شادی افغانستان کے ایک معزز سیاسی اور ادبی خاندان میں ہوئی۔ مختصر یہ کہ اجمل خٹک کے گھر کے انچارج کے طور پر ان کو بہت کلیدی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ پاکستان واپسی پر وہ توقع کر رہے تھے کہ ان کو پارٹی میں کسی اعلی عہدے سے نوازا جائے گا مگر ایسا نہ ہو سکا۔ اس لئے صوفی صاحب خود ایک ناکام شخص تصور کرنے لگے اور دعمل کی نفسیات کا شکار ہو گئے۔ صوفی صاحب خود لکھتے ہیں کہ، ’میری زندگی ناکام رہی، میں اپنے متعین کردہ مقاصد حاصل نہ کر پایا اور ان ڈائریوں میں محض ایک ناکام شخص کی داستان ہے‘۔

\"bm-kutty\"

ایک صاحب بی ایم کٹی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ انیس سال کی عمر میں کیرالہ ( انڈیا) سے پاکستان جلاوطن ہوئے۔ اس ملک کی سیاسی تاریخ میں 60 سال کی طویل سیاسی جدوجہد کی۔ میرغوث بخش بزنجو کے دست راست رہے۔ جیلیں کاٹی۔ غداری کے فتوے برداشت کئے۔ غربت کی زندگی بسر کی۔ ساٹھ سال کی طویل سیاسی جدوجہد کے بعد اپنی خود نوشت لکھی جس کا نام رکھا (60 Years in Self-Exile: No Regrets)۔ کتاب کے پہلے پنے پر انتساب میں اپنی ماں اور اہلیہ کے ناموں کے ساتھ لکھا، ’بے نظیر بھٹو۔ ایک مسلمان ملک کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون جن کو ملک کے خدمت کے صلے میں بم اور گولیاں ملیں‘۔ دوسری طرف ایک شخص نے اپنی زندگی اجمل کے ساتھ افغانستان میں جلا وطنی میں گزری۔ صدارتی محلات تک رسائی رہی۔ صدارتی محلات اور کمیونسٹ پارٹی کے دفاتر میں سفارتی مہمان کی حیثیت حاصل رہی۔ ماسکو و لندن میں عزت و احترم ملا۔ واپس آکر چالیس سال بعد حق لکھنے کا خیال آیا جب واقعات کے سارے گواہ فوت ہو چکے ہیں۔

کتاب کی رونمائی میں ریٹائرڈ سرکاری ملازم تقاریر فرما رہے تھے۔ فلیپ پر ریٹائرڈ بریگیڈئر صاحب کی تقریظ موجود ہے۔ اہل مروت مگربضد ہیں کہ سچ وہی ہے جو صوفی صاحب نے لکھا اور جھوٹ وہ ہے جو بی ایم کٹی نے لکھا۔ اہل علم و صفا کی خدمت میں عرض ہے کہ Victim blaming کے سماجی تعصب کے سینہ چاکان چمن عادی ہیں مگر’حقائق‘ اور’تاریخی دستاویزات‘ کے لئے یاسمین نگار اور صوفی جمعہ خان سے آگے بڑھ کر کچھ اور لایئے۔ چلیں تھوڑی دیر کے لئے فرض کر لیتے ہیں کہ صوفی صاحب مکمل درست ہیں۔ ازراہ کرم یہ فرمائیے کہ غوث بخش بزنجو کی ناقدری اور غداری کا فیصلہ کس ’فریب ناتمام‘ کی روشنی کیا جاتا رہا ہے؟ نواب مصطفی خان شیفتہ نے ایسی ہی کسی کیفیت میں لکھا تھا۔

اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 183 posts and counting.See all posts by zafarullah

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments