مصنفہ اِیس تیمل کوران ؔ کی کتاب ”ایک ملک کو کیسے گنوایا جاتا ہے : جمہوریت سے امریت تک کے سات اقدام“ پر ایک تبصرہ
ترکی کی مایہ ناز پاکستان میں اورحان پاموک ؔ کا ناول My Name is Red ترجمہ ہوا تو وہ یہاں کا بیسٹ سیلر بن گیا اس کے بعد ایلف شفق ؔکا ناول Forty Rules of Love ترجمہ ہوا تو وہ بھی ہاٹ کیک بن گیا۔ اب اورحان پاموک اور ایلف شفق پاکستان میں معروف نام ہیں۔ پاکستان میں ابھی اِیس ٹیمل کورانؔ (Ece Temelkuran) کا نام غیر معروف ہے لیکن انگریزی دان طبقہ میں یہ نام جانا پہچانا بنتا جا رہا ہے۔ اِیس تیمل کوران ؔ کی تازہ تصنیف How To Lose A Country: The Seven Steps From Democracy to Dictatorship سنجیدہ پڑھنے والوں میں اپنی جگہ بنا رہی ہے۔
یہ کتاب اِیس ؔ کی یادداشتوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں وہ ترکی میں حالیہ ناکام بغاوت کے بعد کے حالت کو زیر بحث لائی ہے کہ کیسے کوئی ملک ڈیموکریسی سے ڈکٹیٹر شپ کی طرف چلا جاتا ہے۔ جب ملک رہنے کے قابل نہ رہے اور لوگ یہ سوچنا شروع کر دیں کہ کیا یہ میرا ملک ہے؟ ملک ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ کتاب بہت زیادہ کرب لئے ہوئے ہے۔ یہ انسانی فطرت کا نوحہ ہے کہ جب انسان اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جائے اور جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو۔
اِیس تیمل کوران ؔ فل وقت کوروشیا ؔ کے شہر زغرب میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ اِیسؔ ترکی کے شہر ازمیرؔ میں 22 جولائی 1973 ء کو پیدا ہوئیں۔ انقرہ سے قانون کی تعلیم حاصل کی لیکن صحافت کو اپنا پیشہ بنایا۔ اِیس ٹیمل کورانؔ ایک ایسی لکھاری ہے جو توجہ مانگتی ہے وہ ایک معروف شاعرہ اور ناولسٹ ہیں لیکن یورپ میں ان کی زیادہ وجہ شہرت جنرنلزم ہے۔ اِیسؔ کی اب تک بارہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
اِیس تیمل کوران ؔنے اس کتاب میں مستقبل میں بڑھتے ہوئے فاشزم کا تجزیہ کرکے دراصل خطرے کی گھنٹی بجائی ہے۔ کوئی چیز ہے جو ہمارے ملکوں کی سیاست میں تبدیل ہو رہی ہے اور وہ ہے ”پاپولزم“ جو کہ ہر چیز کو ری ڈیفائن کر رہی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ”پاپولسٹ“ اپنے اپ کو پاپولسٹ کہلانے کے لئے تیار نہیں۔ امریکہ کے صدارتی الیکشن کی رات ہو یا بریگزٹ ریفرنڈم کا دن یا وہ وقت جب کوئی ایک مقامی پاپولسٹ حیرت انگیز طور پر ایک تقریر کر کے پورے ملک میں آگ لگا دیتا ہے جو کہ بالکل نامعقول ہوتی ہے، تب بہت سارے لوگ ایک ہی سوال اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں کہ کیا یہ میرا ملک ہے؟ کیا یہ میرے لوگ ہیں؟ ترکی میں بھی پچھلی دو دہائیوں سے یہی سوال زیر بحث ہے کہ ان کی مادر وطن کا بتدریج سیاسی اور اخلاقی انہدام ہو رہا ہے۔
اِیس تیمل کوران ؔ کے مطابق:فائٹر جیٹ طیارے اندھیرے میں جومیٹری کے بڑے بڑے ٹکڑوں کی صورت فضا میں چھید کر رہے تھے جیسے ہوا کا کوئی ٹھوس وجود ہو۔ یہ 13 جولائی 2016 ء کی رات تھی جب ترکی میں فوجی انقلاب لانے کی ایک ناکام کوشش ہوئی۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے پلوں پر بم گرائے جا رہے ہوں جب کہ جنگی طیارے سونک بم پھینک رہے تھے یعنی فائٹر جیٹ اپنے جہازوں کے انجنوں سے ایسی آوازیں پیدا کر رہے تھے جو ساونڈ بیرئیر توڑ رہے تھے لگتا تھا کہ مسلسل بم باری ہو رہی ہے اور خوف تھا جو مسلسل آسمان سے ہمارے اوپر برس رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر خبریں چل رہی تھیں کہ پارلیمنٹ ہاؤس پر بم باری کی گئی ہے۔ ایسے میں تیمل کوران ؔسوچ رہی تھی کہ ملک اور جمہوریت کا کیا ہو گا؟ اسے ایک نظم یاد آ رہی تھی :
”مینار ہماری سنگینیں ہیں /گنبد ہمارے ہلمٹ ہیں /مسجدیں ہماری بیرکیں ہیں /اور وفادار ہمارے فوجی ہیں“
یہی فوجی اب مدد مدد پکار رہے تھے اور اردگان کے حامیوں کی ہذیانی آوازوں میں اللہ اکبر کے نعروں سے آسمان گونج رہا تھا۔ اسی آسمان پر کہ جس پر ابھی جنگی جیٹ موت کا گانا گا رہے تھے۔ یہی وہ نظم تھی جسے طیب اردوان نے 1999 ء میں ایک عوامی اجتماع میں پڑھا تھا جس کے نتیجے میں اسے چا رماہ جیل کاٹنا پڑی تھی کہ یہ نظم حکمرانوں کے بقول مذہبی منافرت کو ہوا دیتی تھی اور اب اسی نظم کی آوز سے بغاوت کی رات کا آسمان گونج رہا تھا۔
ایک نیا ترکی وجود پذیر ہو رہا تھا۔ اس پاگل پن اور شور کے نیچے کہیں ایک انتہائی منظم پراپیگنڈا مشین بھی پوری شدت سے کام کر رہی تھی جو کہ پہلے سے ہی ایک نئی سیاسی قلم رو بنانے میں مصروف تھی اور صبح تک اس نئی قلم رو کا ظہور ہو چکا تھا۔ ہمیشہ سے اردوان کی حکومت کی ناقد ہونے کے ناتے جونہی صبح ہوئی یہ کرسٹل کلئیر تھا کہ ایسی جمہوریت میں ان جیسوں کے لئے اب کوئی جگہ نہیں ہے۔
اِیس تیمل کوران ؔ کا کہنا ہے کہ آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن جو کچھ ترکی میں ہو رہا ہے وہ آپ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ سیاسی پاگل پن گلوبل فی نومینا ہے۔ مندرجہ بالا کتاب میں لکھاری نے جو ساست اقدام بتائیں ہیں جن پر عمل کر کے ایک پاپولسٹ عوامی لیڈر اپنے ملک کے تمام سماج کو ہڈیوں تک کرپٹ کرتے ہوئے ایک مضحکہ خیز شخصیت سے سنجیدگی سے ڈراونے مطلق العنان حاکم میں تبدیل ہو جاتا ہے اور کوئی بھی شخص جو ڈکٹیٹر بننا چاہتا ہے ان تمام اقدامات کی پیروی کر کے بڑی آسانی سے ڈکٹیٹر بن سکتا ہے۔
اِیس ؔ کے مطابق اس بات کی ضرورت ہے کہ ایسے تمام اقدامات کی پرکھ کی جا سکے جب یہ اقدامات کیے جا رہے ہوں۔ یہ ان تمام طریقوں کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش ہے کہ جس میں ایک پاپولسٹ لیڈر سیاسی اور سماجی ڈھانچے کا استحصال کرتے ہوئے ملک کو مطلق العنان ریاست بنانے کی کوشش کرتا ہے ایک ایسی ریاست جس میں جمہوریت، آزادی رائے، انسانی حقوق اور غیر محفوظ گروہوں کی حفاظت کومطلق العنانیت کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے تا کہ ان کا لیڈر ٹاپ پر اپنی پوزیشن قائم رکھ سکے۔ اس کتاب کا فوکس انگلینڈ، امریکہ اور ترکی ہیں۔ اس میں ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان ؔ کا حوالہ بھی ہے جو 2010 ء سے ہنگری کا وزیر اعظم ہے اور اس کے دور میں ملک مسلسل مطلق العنانیت کا شکار ہو رہا ہے۔ اس کتاب میں پوٹن کے روس اور جرمنی کے حوالے بھی موجود ہیں۔
تیمل کورانؔ بتاتی ہیں کہ اب سیاست رحمدلی کی بجائے ایک سفاک عمل بن گیا ہے وہ ٹرمپ کا امریکہ ہو یا اردوان کا ترکی دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ یہ 2013 ء کی گرمیوں کا اختتام تھا اِیسؔ ایک دفعہ پھر ملک سے باہر تھی جب اس کے صحافتی دوستوں کی طرف سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی جو اسے متنبہ کر رہے تھے کہ وہ ملک میں واپس نہ آئے کہ یہ وہ دن تھے جب ”گزری پارک“ کا احتجاج چل رہا تھا اور اسے ترکی میں لوگوں کو پریشان کرنے والی ”اشتعال انگیزہ“ قرار دیا جا چکا تھا اور اِیسؔ کو اس کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جا چکا تھا۔
اِیس ؔ کا کہنا ہے کہ ترکی کا ایک بڑا طبقہ یہ محسوس کرتا ہے اور پوری طرح قائل ہے کہ وہ اپنا ملک گنوا چکے ہیں اس کی وجہ کچھ بھی ہو وہ ملک کے اندر ہوں یا باہر ہوں وہ اپنے آپ کو بے گھر محسوس کرتے ہیں۔
25 جون 2018 ء کو ترکی کے صدارتی الیکشن کے عین اگلے روز پورے ملک میں ایک عجیب ان سنی خاموشی تھی۔ اِیس ؔ دنیا بھر کے میڈیا کو سکائپ پر انٹرویو دے رہی تھی اور وہ ایک ایسے ملک میں تھی جو اس کا اپنا نہیں تھا۔
اِیس ؔ کہتی ہے کہ جنگی فوٹوگرافرز وہ مرد ہو یا عورت وہ بتاتے ہیں کہ وہ اس ”مشین“ کے ”سراب“ میں اس حد تک مبتلا ہوجاتے ہیں کہ جب تک وہ کیمرے کے ویو فائنڈر میں ٹکے ہوتے ہیں انہیں پورا یقین ہوتا ہے کہ کوئی بم یا کوئی گولی انہیں چھو ہی نہیں سکتی۔ اسی طرح لکھنے کا عمل ہے کہ جس میں حقیقت ایک فاصلے پر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اسے چاہے حوصلہ کہہ لیں دراصل یہ دھوکہ ہے سراب ہے کہ جب تک ہم اس سے جڑے رہتے ہیں، جب تک ہم لکھ نہ لیں، ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں کچھ نہیں ہو گا اور بلا شبہ جب تک کہ اسے پڑھ نہ لیا جائے اور جب ایک دفعہ یہ کام پورا ہو جاتا یہ سراب ختم ہو جاتا ہے۔
اِیس ؔ کہتی ہے کہ 2017 ء اور 2018 ء کے دوران جب وہ یہ کتاب لکھ رہی تھی ہر روز انسانیت اور سیاست کی بدترین شکل پیش کی جا رہی تھی۔ 2018 ء کی خزاں میں جب اس نے اپنی کتاب کا دوسرا باب مکمل کیا تو ایک دن صبح سویرے ایک بچے کی طرح جس کی جونہی آنکھ کھلے اور اس کے سامنے کرے اون کلر موجود ہوں، میں نے ایک پرندے کا تصور کیا، ایک ایسا پرندہ جس کی نسل ناپید ہو۔ میں چاہتی تھی کہ ہر صبح میں جاگوں تو میرے سامنے ایک اور پرندہ موجود ہو، میں نے اپنے آپ کو ا س انوکھی کتاب کے استغراق میں گم کر دیا۔
میں نے سکنڈے نیویا میں تصوراتی پرندوں کے متعلق غیر عقلی استدلال بنا لئے۔ ان پرندوں کو اکٹھا کیا تو یہ کتاب بن گئی جو کہ ترکی میں چھپنے جا رہی ہے، میری مادری زبان میں یہ کتاب چھپے گی۔ اس کتاب میں میرے خوف دفن ہیں کہ ایک دن میرا ملک ایک اجنبی جگہ بن جائے گا اور میری امید جسے میں ختم کرنا نہیں چاہتی کہ نئی نسل کے لئے میں بالکل اجنبی بن جاؤں گی اور یہ کتاب میری مادری زبان میں پیدا ہو گی لیکن ایک ایسے ملک میں ”جو میرا نہیں ہے“۔
یہ امریکہ ہو، ہنگری ہو، پولینڈ ہو، جرمنی ہو، برطانیہ عظمی ہو اور اس طرح کے اور بہت سارے ملک جہاں آج بہت سارے لوگ اپنے آپ سے کہہ رہے ہیں کہ ”اَب یہ ملک میرا نہیں رہا“۔ وہ ساکت کھڑے رہنے کے احساس سے مانوس ہو چکے ہیں لیکن وہ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین سرک چکی ہے۔ یہ ایسا ہی کہ راتوں رات آپ کے ملک کا ماسٹرپلان تبدیل ہو چکا ہو اور آپ اب اس قابل نہ رہے ہو کہ اس کے ساتھ چل سکیں۔ جب چند لوگ اس حقیقت کا ادراک کر لیں کہ عین اس لمحے جب یہ فقرہ ”یہ اب میرا ملک نہیں رہا“ کہنے سے صرف ایک شخص تبدیل نہیں ہوتا جو یہ کہہ رہا ہوتا ہے بلکہ عین اس وقت ان کا تمام ملک تبدیل ہو چکا ہوتا ہے۔
یہ کہانی کہ لوگوں کو کیا ہوا ہے جب وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کے اجنبی زمینوں پہ اجنبی بن جاتے ہیں بارہا دہرائی جا چکی ہے لیکن ایک ملک کو کیا ہوا جب اس کے شہری اسے چھوڑ جاتے ہیں اور ان کا کہیں ذکر بھی نہیں ہوتا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی ملک اس وقت تک واجب التعظیم ہے جب تک کہ اس کی قلم رو بزات خود ٹکڑوں میں تقسیم نہ ہو جائے۔ یہ مبہم سوال ہے جس کے متعلق ایرانی، افغانی اور عراقی دہائیوں پہلے دلیلیں دے چکے ہیں اور آج یہ سوال ان قوموں سے مکالمہ کرتا ہے جنہیں اس پاگل پن سے مستثنی سمجھا جاتاتھا وہ ہیں برطانیہ عظمی، امریکہ اور جرمنی۔ پھر لٹریچر کی مدد کے بغیر بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ کہانی اور اس طرح ایک ملک کی روح ناقابل تنسیخ طور پر تبدیل ہو چکی ہوتی ہے جب وہ اپنے ہی شہریوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔
اِیس ؔ کہتی ہے کہ مجھے اَب سمجھ آتی ہے کہ وہ لوگ جو دور رہتے ہیں اور جب وہ واپس اپنے پیاروں کو ملنے آتے ہیں تو خالی پن اور سرد مہری کا شکار کیوں ہوتے ہیں وہ اس لئے کہ دوبارہ ملنے کے بعد، مجھے اور دوسرے لوگوں، کو اپنے اندر وحشی پرندوں کو دوبارہ اکٹھا کرنا پڑتا ہے انہیں پرسکون کرنا ہوتا ہے اور ان کی طمانیت کو دوبارہ مستحکم کرنا ہوتاہے۔ یہ وقت طلب ہوتا ہے کہ الفاظ کے بغیر اس دنیا کی زندگی میں جایا جائے یہاں سبزہ ہو، صرف وہ جگہ جہاں پر پرندے خاموشی سے آرام کر سکیں وہ دنیا کا کنارہ ہے۔ یہاں ایک بہتر طریقہ بھی ہو سکتاہے کہ سادہ لوح پرندے بنائیں جائیں لیکن یہ تمام الفاظ کنارے پر اکیلے بیٹھے ہوئے ”میں“ سے نہیں آنے چاہئیں بلکہ ”ہم“ کی طرف سے اور اکٹھے عمل کرتے ہوئے میدان جنگ کے درمیان سے اسے ایک گلوبل اجتماع بناتے ہوئے، آنے چاہئیں۔


