شخصی مفادات میں چھپا اجتمائی مفادات کا سوال!


سابق وزیر اعظم میان محمد نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت تو مل گئی اور وہ بذریعہ ایئر ایمبولنس، بیرون ملک روانہ بھی ہوگئے مگر اپنے پیچھے وہ سوالات چھوڑ کر چلے گئے ہیں، جن کے جوابات کی تلاش میں، رائج ملکی قوانین کے دوہرے معیارات کی باتیں چل نکلی ہیں، مزید براں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت مقید دیگر علیل قدیوں کے لئے بھی اس قسم کی رعایت کے مطالبات ہو رہے ہیں۔

نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت انسانی ہمدردی کے بنیادوں پر ملی ہے؟ طبی بنیادوں پر ملی ہے یا پھر کسی اور بنیاد پر معاملات طے ہوئے ہیں، بہرحال وفاق اور صوبوں کے درمیان موجود تضادات کو اچھالنے کی کوششوں میں تیزی آنے لگی ہے، مگر یہاں چند نکات انتہائی توجہ کے حامل ہیں۔

( 1 ) سچ چھپانے کے لئے جھوٹ اور جھوٹ چھپانے کے لئے ہی سچ کیوں بولا جاتا ہے؟!

( 2 ) ہزاروں لوگوں کے حقوق پائمال کرنے والوں کے حقوق کی بات کس حد تک حقی ہوسکتی ہے؟!

نواز شریف کی روانگی کے بعد پچھلے چند دنوں سے جس طرح کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں مقید دیگر بڑی شخصیات کے لئے انسانی بنیادوں پر بیرون ملک جانے کی اجازت کے مطالبات ہونے لگے ہیں، اس سے تو ایسا لگتا ہے، جیسے اس ملک میں علاج معالجے کی کوئی سہولت ہی موجود نہیں۔ جس طرح ”قومیت کارڈ“ کو کرپٹ سیاستدانوں کی رلیف کی خاطر استعمال کیا جارہا ہے، اس سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے سالوں سے چند طاقتور غاصب طبقات نے، جس طرح اپنی نا انصافیوں سے اس کارڈ کے لئے اسپیس پیدا کیا ہے، اسی طرح اس کا فائدہ اٹھانے والے لوگ بھی اب اسی کارڈ کو غاصب سیاستدانوں کے لئے استعمال کرکے، اسی کارڈ سے الٹا کام لینے لگے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس ملک میں، ہر کارڈ، ہر نعرہ اور ہر بیانیہ، بی الآخر عوام کے خلاف ہی کیوں استعمال ہوتا ہے؟

بے نامی کھاتوں سے کرپشن اور منی لانڈرنگ نے کس طرح ملک کو معاشی دلدل میں پھنسا کر، لاکھوں لوگوں کو غربت کی آگ میں جلایا ہے؟ کس طرح کرپشن ایک کاروبار اور ایک کلچر بننے کے بعد معاشرے سے میرٹ نے الوداع کیا ہے؟ کس طرح کرپشن کلچر نے معاشرے میں انصاف کو یرغمال بناکر کتنے حقوق تلف کیے ہیں! مگر ان باتوں پر باریکی سے سوچنے کے بجائے، ملک میں مذکورہ وبا پھیلانے والوں کے لئے خاص رعایت کی باتیں ہو رہی ہیں؟

یقینن قیدیوں اور مجرموں کے بھی حقوق ہوتے ہیں مگر ان حقوق کی باتیں عام قیدیوں کے لئے بھی ہونی چائییں۔ چند ہائی پروفائیل قیدیوں کے لئے اس قسم کے مطالبات بھی دوہرا معیار ہی ہے! دوسری بات یہ کہ ہمارے ہاں آخر جھوٹ چھپانے کے لئے ہی سچ کیوں بولا جاتا ہے؟ سگے اور سوتیلی کے فرق پر ضرور بات ہونی چاہیے، تاکہ نا انصافیاں ختم کرنے میں مدد مل سکے، مگر اس تضاد پر بات کا مقصد عوامی چوری کے الزامات میں قید افراد کے دفاع میں بھی تب تک استعمال نہیں ہونا چاہیے، جب تک وہ باعزت بری نہیں ہوتے۔

چند سال پہلے انسانی حقوق کی ایک معروف ہستی نے، ایک خود ساختہ جلاوطن سیاستدان کے حقوق، قوم کو یاد دلائے تھے۔ مگر نہ جانے کیوں انہیں ان عوامی حقوق کا خیال نہیں رہا، جن کی پائمالی اس سیاستدان کی وجہ سے ہی ہوئی تھی اور کراچی میں ٹارچر سیل اور ٹاگیٹ کلنگ کی وجہ سے سیکڑوں انسانوں پر عذاب کے پہاڑ گرے تھے۔

لگتا ہے ہمارے ہاں جب تک شخصی مفادات کے لئے مارکیٹنگ موجود ہے، تب تک اجتمائی مفادات کی باتیں ممنوع رہینگی۔

Facebook Comments HS