تمغہ حسنِ کارکردگی حاصل کرنے والے گلوکار اور موسیقار ایس بی جون
بات سے بات نکلتی ہے، یہ کہنا بہت ضروری ہے کہ پنکج اُدھاس، ہیم لتا، محمد عزیز، شبیر کُمار اور سونو نگم کو موسیقار اوشا کھنہ نے ہی سب سے پہلے گانے کا موقع دیا تھا۔ ”اوشا سے میری بہت اچھی دعا سلام تھی۔ وہاں آشا بھونسلے کے کسی فلمی گیت کی صدابندی ہو رہی تھی۔ اتنے میں گلوکار سریش واڈیکر آ گئے۔ اوشا نے جب تعارف کرایایہ یہ ایس بی جون ہیں، پاکستان سے آئے ہیں تو رواج کے مطابق اُٹھ کر پاؤں چھوئے“ ۔
آج کل کی موسیقی کے معیار پر بات ہوئی تو ایس بی جون بھائی نے کہا: ”پہلے گانا سُنا جاتا تھا اب دیکھا جاتا ہے۔ اب فنکار، فنکار نہیں، بلکہ Entertainer یا تفریح مُہیا کرنے والا بن گیا“ ۔
جون بھائی نے اپنا مقام بنا نے کے لئے ان تھک محنت کی ہے۔ اِن کی کامیابی کئی میدانوں میں ہے۔ موسیقی اور گلوکاری میں ریڈیو، اسٹیج، فلم اور ٹیلی وژن۔ اپنے گھر میں بچوں کی پرورش اور تعلیم وتربیت۔ رزقِ حلال کے لئے ملازمت کی کیوں کہ موسیقی اور گلوکاری اُن کا معاش نہیں تھا۔ منطق کے لحاظ سے پہلے ہی فلمی گیت کی کامیابی کے بعد اُن کا اگلا قدم لاہور جانے کا ہونا چاہیے تھا جہاں کامیابی ان کی منتظر ہوتی۔ حالات کے اشارے بھی یہی کہہ رہے تھے۔ لیکن اپنی زندگی کے اس قدر اہم موڑ پر جون بھائی نے اپنے خاندان، گھر اور شہر کو ترجیح دی۔ وہ ایک بنا بنایاسیٹ اپ چھوڑ کر نئی جگہ کا رسک لینے کے لئے تیار نہ تھے۔ اُن کا یہ فیصلہ بالکل ٹھیک ثابت ہوا اور اللہ نے اسی شہر میں جون بھائی کو عزت اور مقام عطا کیا۔
باتوں باتوں میں ذکر آیا کہ ایک مرتبہ ہندوستان سے نامور ہدایت کار مہیش بھٹ ڈیفنس کراچی میں کسی کے ہاں مہمان ٹھہرے۔ اگلی صبح اُنہوں نے فرمائش کی کہ ایس بی جون کا گایا ہوا گراموفون ریکارڈ ”تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے“ درکار ہے۔ وہاں پر صدف آڈیو ویڈیو والے خالد موجود تھے۔ وہ جَون بھائی کے مداح تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر اُن سے ملاقات ہی کروا دیں تو؟ اِس پر مہیش بھٹ بہت پُرجوش ہو گئے اورجون بھائی سے ملنے اور اُن کو سننے کی درخواست کی۔ اس طرح اسی شام جون بھائی اپنے بیٹے گلین جون Glenn John کے ساتھ ڈیفنس میں موجود تھے۔ اس ملاقات کے بارے میں جون بھائی نے بتایا :
” مہیش بھٹ نے کہا کہ میری امّی آپ کا گایا ہوافلم سویرا کا گیت اکثر گنگنایا کرتی تھیں۔ پھر کہیں سے ہمارے ہاں وہ گراموفون ریکارڈ بھی آ گیا اور میں بھی وہ گیت سُنا کرتا تھا۔ آج آپ کو دیکھ رہا ہوں تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں! ۔ پھر جب گیت اور غزلوں کا دور چلا تو اس دوران کچھ نغمات گلین نے بھی سُنائے اس پر بے ساختہ مہیش بھٹ صاحب نے اُس سے کہا کہ تم اپنے والد کا گایا ہوا گیت : تو جو نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سُنا سکتے ہو؟ جب اُس نے سنایا تو ایک دم اُنہوں نے کہا کہ میں ایک فلم بنا رہا ہوں اگر آپ اجازت دیں تو گلین کی آواز میں آپ کا گیت ریکارڈ کروا کر فلم میں شامل کر لوں؟ یوں وہ گیت فلم ’وہ لمحے‘ کے لئے ریکارڈ ہوا“ ۔ مہیش بھٹ نے، مصنف اور فلمساز کی حیثیت سے فلم ’وہ لمحے‘ بنائی جو 29 ستمبر 2006 کو ہندوستان میں نمائش کے لئے پیش ہوئی۔
یہ درست ہے کہ جَون بھائی نے پلے بیک سنگنگ نہیں کی لیکن گائیکی اور دھنیں مرتب کرنے میں اپنا ایک نام بنایا۔ 1960 کی دہائی میں ہمارے ملک کے نامور موسیقار سہیل رعنا نے اپنے والد، رعنا اکبر آبادی کی لکھی ہوئی غزل : ’اُڑے ہوش اُس در پہ جانے سے پہلے۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ EMI گراموفون کمپنی آف پاکستان میں ایس۔ بی جون۔ کی آواز میں ریکارڈ کروائی۔
ریڈیو پاکستان سے ابنِ انشاء کی غزل: ’کل چودھویں کی رات تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ جَون بھائی کی آواز میں اکثر نشر ہو تی ہے۔ اِس کی دھن انہوں نے خود مرتب کی۔ میں بھی کبھی کبھار شوقیہ محفلوں میں گا لیا کرتا ہوں اور جب بھی یہ غزل سُناتا ہوں تو اِن ہی کی طرز والی سُناتا ہوں۔
احمد فرازؔ کی غزل: ’تیرے ملنے کے زمانے آئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ کی دھن جون بھائی نے بھی بنائی اور اپنی ہی آواز میں ریکارڈ کروائی۔
” میں پہلے پاکستانی، پھر عقیدہ کے لحاظ سے کرسچن ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی تھی کہ ہم کرسچن لوگوں کو آگے بڑھنے کے کم مواقع ملتے ہیں۔ میں ہمیشہ اُنہیں کہتا کہ اقلیت کو اکثریت کا مقابلہ کرنے کے لئے بہت سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں! بلکہ یہ ایک عالمی حقیقت ہے۔ فنکار کی صلاحیت اور اہلیت اسے آگے بڑھا تی ہے۔ فنکار کو اُس کے مذہب اور نام سے نہیں اُس کے کام سے واہ واہ یا ستائش ملتی ہے۔ مجھے بھی میری عمر بھر کی محنت اور کاوشوں کا صلہ 2011 میں مِلا جب صد رِ پاکستان نے مجھے تمغہ حسن کارکردگی دیا۔“
جَون بھائی ایک با عزت کر سچن گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اتنی شہرت اور عزت کے باوجود اُنہوں نے پیسے کو اوڑھنا بچھونا نہیں بنایا۔ گانے کو شوق کی حد تک رکھا اور قناعت کے ساتھ اپنے بچوں کی پرورش کی۔ اِس کے نتیجے میں اُن کی اولاد سعادت مند اور فرماں بردار نکلی۔ اب جَون بھائی ریٹائرڈ زندگی کا لطف لے رہے ہیں۔ آنا جانا کم ہو گیا ہے لیکن اُن کی محبت، خلوص اور مہمان نوازی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ سنی بینجیمن جَون المعروف ایس بی جَون پاکستان کا ایک قابلِ فخر اثاثہ ہیں، اسی کے اعتراف میں اُنہیں صدارتی ایوارڈ برائے حُسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔
1965 اور 1971 کی جنگوں کا ذکر ہوا تو ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ”ادھر شاعر گیت لکھتے اُدھر موسیقار فنکاروں کوریہرسل کروانے لگتے اور کم سے کم وقت میں ریکارڈ کرنے کی کوشش کرتے“ ۔ ریڈیو پاکستان کے سابقہ لائبریرین آفتاب بھائی (م) نے مجھے 1984 میں بتایا تھا کہ جون بھائی نے جنگِ ستمبر میں 8 گیت ریکارڈ کروائے۔
” جون بھائی 71 کی جنگ میں آپ نے بھی کچھ جنگی گیت ریکارڈ کروائے تھے۔ اِن کے بارے میں کچھ بتائیں؟“ ۔ میں نے اُن سے سوال کیا۔
” اِس جنگ کے دوران ساقی جا وید کے لکھے ہوئے ایک گیت کی بہت تاریخی حیثیت ہے۔ جس کو میں نے کمپوز کیا اور اپنی آواز میں ریکارڈ کروایا“ :
اے ارضِ وطن تو ہی بتا تیری صدا پر
کیا ہم نے کبھی فرض سے ا نکار کیا ہے
اس نغمے کے ذکر میں ایک دلچسپ بات بتلائی۔
” بھٹو صاحب کا بالکل ابتدائی دور تھا جب اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر ایک مینارٹی کانفرنس Minority منعقد ہوئی۔ بھٹو صاحب اور کوثر نیازی کے بعد مجھے روسٹرم پر بلوایا گیا۔ میں نے وہاں یہی ملی نغمہ سنایا۔ ابھی پہلا شعر ہی ادا کیا تھا کہ بھٹو صاحب نے اور دیگر حاضرین نے خوشی کا اظہار کیا اور حوصلہ بڑھایا۔ نغمہ ختم ہوا تو بھٹو صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ کس کا لکھا ہوا ہے؟ میں نے ساقیؔ جاوید کا نام لیا۔ پھر پوچھا کہ کس نے دھن بنائی تھی۔
جب میں نے کہا کہ میں نے، تو اپنے پاس بلوایا اور کہا کہ شام کے سیشن میں بھی یہ نغمہ سنانا ”۔ پھر جون بھائی نے شام کو بھی یہ نغمہ سنایا۔ گویا پاکستان کی اقلیتیں کہہ رہی ہیں کہ جنگ ہو یا امن! ہم نے اپنے فرائض نہایت ذمہ داری سے ادا کیے اور جنگوں میں اپنے وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا!“ ۔
جون بھائی نے بیشک صحیح کہا۔ اسکوارڈن لیڈر ( میجر) پیٹر کرسٹی Peter Christy جنہوں نے جنگِ ستمبر میں حصہ لیا اور 6 دسمبر 1971 کو بھارتی ائیر فورس کے بیس جام نگر کی اینٹ سے اینٹ بجا کر واپسی پر ملک اور قوم کی خاطر شہید ہو گئے۔ انہیں تمغہ جرات ( 1965 ) ، ستارہ جرات ( 1971 ) سے نوازا گیا۔ پھر سسل چوہدری کا نام بھلا کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ یہ 1965 کی جنگ میں لاہور شہر کے اوپر ڈاگ فائٹ اور 6 ستمبرہلواڑہ ایر بیس کے ”رن وے“ کی اینٹ سے اینٹ بجا کر ’ہلواڑہ پیٹنے‘ والے معرکہ کے ہیرو ہیں۔
ہم ان کے یوں بھی شکر گزار ہیں کہ ان کے وجہ سے نیا محاورہ ”ہلواڑہ پیٹنا“ وجود میں آیا۔ سسل چوہدری نے 1971 کی جنگ میں اسکورڈرن لیڈر کی حیثیت سے بھی حصہ لیا۔ انہیں 1965 کے معرکہ میں ستارہ جرت اور 1971 کی جنگ میں تمغہ جرت دیا گیا۔ جون بھائی کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ سسل چوہدری اُن کی بیٹی کے چچا سسر تھے۔ ہم ان پر جتنا بھی فخر کریں کم ہے۔ اور یقیناً یہ کرسچن برادری کے لئے بھی ایک اعزاز ہیں۔
ہم جَون بھائی کی زندگی، صحت اور عافیت کے لئے دعا گو ہیں!

