کچھ احوال حلب کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قصے کی ابتدا سن پچاس کی دہائی سے ہوتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب دوسری جنگِ عظیم سے تباہ شدہ یورپ کو اپنی تعمیرِ نو کے لیے مزدوروں کی ضرورت تھی۔ مغربی جرمنی نے اپنے دروازے ترک ”مہمان مزدوروں“ کے لیے کھول دیے تو برطانیہ عظمی نے اپنی سابق نوآبادیوں، دولت مشترکہ سے لوگوں کو آنے کے لیے ترغیبات دینا شروع کر دیں۔ سو برِ صغیر پاک و ہند سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لندن، بریڈ فورڈ، گلاسگو، مانچسٹر کی تعمیر نو اور صنعتوں کی بحالی میں حصہ لینے چل پڑے۔ کوئٹہ کے ایک نوجوان اور اس کے چند دوستوں نے، جن میں سے کچھ معمولی سرکاری ملازمتوں میں تھے، جی میں ٹھانی کہ اس ملک میں کچھ نہیں رکھا چنانچہ برطانیہ جا کر قسمت آزمائی کی جائے۔

اس دور میں ویزا وغیرہ کا جھنجھٹ آج کی نسبت کم تھا۔ صرف پاسپورٹ درکار ہوتا تھا جو بہ دقت ملتا تھا۔ ہمارے کوئٹہ کے نوجوان نے بھی تگ و دو کرکے پاسپورٹ حاصل کیا اور زمینی راہ سے بہ راستہ ایران، ترکی، مشرق وسطی ٹرین اور بس کے راستے یہ سفر اختیار کیا۔ باقی سفر تو جیسے تیسے گزر گیا، لیکن ترکی سے سوریہ یعنی شام میں داخل ہوکر جب یہ نوجوان حلب پہنچا تو شدید بیمار پڑ گیا۔ اتنا بیمار کہ اسپتال پہنچا دیا گیا اور عزرائیل کی دستک سنائی دینے لگی۔

پردیس اور شدید بیماری میں انسان یوں بھی دل ریش ہوجاتا ہے، اور پچھتاوے آ لیتے ہیں۔ یہ نوجوان اسپتال کے بستر پر پڑا روتا رہتا اور وقتِ رخصت کوئٹہ کے ریلوے سٹیشن پراپنے بوڑھے والد کی آنکھوں سے چھلکتے آنسووں کی شبیہہ اسے بے چین کر دیتی۔ اسپتال کی ایک معمر مسیحی نرس کو اس نوجوان پر ترس آ گیا اور اس کی دل جوئی کی خاطر اس سے بات چیت کرنا شروع کر دی۔ جب اس کی بپتا سنی تو اسے مشورہ دیا کہ وہ وطن لوٹ جائے اور ماں باپ کی دعاوں کے سائے میں روشن مستقبل کی تلاش کرے۔ یہ بات نوجوان کے دل میں گھر کر گئی اور اس نے برطانیہ کے چمکتے خواب کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے واپسی کا قصد کر لیا۔

یہ نوجوان اس خادم کے والدِ محترم قاضی فضل الرحمن تھے۔ اس کہانی کو سُن کر اس خادم کو اکثر خیال آتا تھا کہ اگر والد صاحب قبلہ حلب میں بیمار نہ پڑتے اور ہم درد نرس کی رہ نمائی میسر نہ آتی تو وہ تو نجانے برطانیہ میں کیسی زندگی اختیار کرتے، مگر اس خادم کا وجود عمل میں نہ آتا، اور یہ سطور نہ لکھی جا رہی ہوتیں۔ رابرٹ فراسٹ کی نظم یاد آتی ہے جس میں وہ ایک دوراہے پر پہنچنے کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے کم مانوس راستے کو اختیار کیا اور اسی نے بعد کے حالات و واقعات کا رخ بدل کررکھ دیا۔

گزشتہ ہفتے اس خادم کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں اس شہر حلب جانے کا موقع ملا جس کا اس خادم کی زندگی میں، قبل از پیدائش سے ایک کلیدی کردار ہے۔ یہاں سوریہ میں دمشق اور حلب کے بیچ چشمک زنی رہتی ہے کہ دنیا کے قدیم ترین مسلسل آباد شہر ہونے کا شرف کسے حاصل ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ و حجریات کا اندازہ ہے کہ دونوں شہر کم از کم سات ہزار سال سے آباد ہیں۔ بتایا گیا کہ دمشق سے حلب پہنچنے کا اصل راستہ تو تین چار گھنٹے کا ہے مگر مخدوش حالات کے سبب ایک لمبا چکر کاٹ کر حمص، سلمیہ، اثریہ کے راستے جانا پڑتا ہے جس میں چھے سات گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

راستے میں چند جزوا غیر آباد گاؤں نظر آئے جن میں کچے مکانوں کی گارے کی دیواریں تو اسی طرز کی تھیں جیسا کہ ہمارے پس ماندہ علاقوں میں ہیں مگر چھتیں کیڑے یا ٹین کی چادر کے بجائے گارے سے ہی، گنبد کی طرح بنائی گئی ہیں۔ ہم کاروں نے بتایا کہ یہ طرز تعمیر سخت سردی اور گرمی دونوں سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔

حلب بھی اس خطے کے دیگر اہم شہروں کے مانند قدیم اور جدید حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ پرانا شہر ایک فصیل کے اندر واقع ہے جس کے آٹھ دروازے مختلف سمتوں کو کھلتے ہیں اور فصیل کے باہر ایک مصنوعی ٹیلے پر بالا حصار کی طرز کا ایک قلعہ ہے، جس کی موجودہ شکل ایوبی دور کے نقشے پر استوار ہے۔

ہمارا وفد باب النصر سے اندر داخل ہوا تو دمشق اور طنجہ جیسا ہی تنگ اور پر پیچ گلیوں بازاروں کا سلسلہ نظر آیا لیکن فرق یہ تھا کہ حلبِ قدیم کو جنگ کے دوران کہیں زیادہ نقصان پہنچا تھا۔ اگرچہ بہت سے بازاروں سے ہمارے ادارے نے ملبہ ہٹا لیا ہے اور دکانوں کے دوبارہ کھلنے میں مدد فراہم کی ہے مگر کئی کوچے اب تک ملبے کے سبب مسدود ہیں۔ کچھ علاقے اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے نے عالمی ورثہ قرار دے رکھے ہیں چنانچہ وہاں سے ملبہ ہٹانا مزید احتیاط کا متقاضی ہے کہ کوئی قدیم پتھر بھی حتی المقدور ضایع نہ ہو اور بازار کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی بڑی تبدیلی رونما نہ ہو۔

یہ دیکھ کر دل کٹ گیا کہ ہزاروں برس پرانی مساجد، مکانات، مقابر ناقابل مرمت حد تک ضرر رسیدہ ہوچکے ہیں۔ جنگ سے پہلے کی تصاویر نے جی کو مزید بوجھل کیا کہ جن میں یہ گلیاں کوچے بازار صفائی، گہما گہمی اور بھرپور زندگی کے مناظر دکھا رہے تھے۔ ایک حصے کو آغا خان فاونڈیشن کی مدد سے پرانے طرز پر نو تعمیر کیا گیا ہے جس میں جہاں تہاں کاروبار بھی شروع ہو چکا ہے، لیکن بتایا گیا کہ وہ پہلی سی رونق اب تک نہیں لوٹی۔

قلعہ حلب ایک اونچے مصنوعی ٹیلے پر واقع ہے جس کے گردا گرد خندق ہے۔ بتایا گیا کہ قدیم دور میں اس پر لکڑی کے تختے کا ایک پُل تھا جسے بوقت جنگ سمیٹ کر قلعے کو جزیرہ بنا دیا جاتا تھا۔ کوئی سو برس پہلے اس کی جگہ پختہ، محراب دار راستہ تعمیر کردیا گیا ہے اور خندق بھی خشک پڑی ہے۔ قلعے کی ایک سمت کو جزوی نقصان پہنچا ہے لیکن اکثر عمارات اس جنگ کی زد سے بچ نکلی ہیں۔ قدیم مسجد اموی البتہ ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے، اس کا زیرِ زمین کتب خانہ ہزاروں قلمی نسخوں سمیت خاکستر ہو چکا ہے اور باغی جاتے جاتے اس کے قدیم مینار کو ڈائنا مائیٹ لگا کر، تباہ کر گئے ہیں۔

جدید شہر مزید وحشت ناک منظر پیش کرتا ہے۔ باقی شہروں میں اس خادم کا مشاہدہ ہے کہ کسی ایک محلے یا مضافات کی کسی بستی پر باغیوں کا قبضہ ہونے کے سبب وہاں نقصان زیادہ ہوا لیکن شہروں کا بڑا حصہ زیادہ تباہی سے بچا رہا۔ حلب میں تو گلی گلی لڑائی ہوئی ہے اور بلا مبالغہ ہر عمارت کا کوئی نہ کوئی حصہ زخمی ہے۔ کہیں زیادہ، کہیں کم۔ دراصل شہر کے مختلف محلے بار بار کسی ایک متحارب فریق کے قبضے میں آتے جاتے رہے۔ جنوب مغربی حصہ اب بھی باغیوں کے زیرِ تسلط ہے اور ہمارے قیام کے دوران وہ لگاتار راکٹ اور مارٹر پھینک کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے۔

اس کے علاوہ قابضین فرار ہوتے ہوئے جو چیز ہاتھ لگی اسے مال غنیمت سمجھ کر لے گئے۔ اسپتالوں کی نہ صرف عمارات متاثر ہیں بلکہ ان سے ایکس رے مشینیں، ایئر کنڈیشنر، طبی آلات، سب غائب ہیں۔ کرم القاطرجی نامی علاقے میں، جو چھوٹی گھریلو صنعت کا گڑھ ہے، اگرچہ بجلی کی بڑی لائن بحال کر دی گئی ہے لیکن تمام ٹرانسفارمر چرا لیے گئے ہیں۔ لوگ پرائیویٹ جنریٹر سے بجلی خریدنے پر مجبور ہیں جو سرکاری بجلی سے دس گنا منہگی پڑتی ہے۔ ہمارا ادارہ اس باب میں کچھ سعی کررہا ہے لیکن وہ مکمل بحالی کے لیے یک سر ناکافی ہے۔ جنگ سے قبل حلب سوریہ بلکہ تمام مشرق وسطی کا بڑا صنعتی مرکز تھا۔ یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ اہلِ حلب نے بیرونی امداد پر تکیہ کرنے کے بجائے بہت سی چھوٹی صنعت کو کسی حد تک بحال کرلیا ہے۔

حلب کا قومی عجائب گھر جنگ سے پہلے عکادی، آشوری، رومی، اموی، سیریانی، عثمانی، یونانی آثار کے خزانے کے طور پر عالمی سطح پر شہرت رکھتا تھا۔ جنگ کے دوران پالمیرا [مقامی نام تدمر] نامی شہرِ خموشاں پر داعش کا قبضہ ہوا تو انہوں نے بے دردی سے قدیم آثار میں سے کچھ کو تباہ کر کے ان کی فلم عالمی میڈیا پر دکھائی، جو یقینا بہت سے احباب نے دیکھ رکھی ہو گی۔ ہمارے ہم کاروں کا کہنا ہے کہ، کوئٹہ کے محاورے میں، اس سادگی میں بھی بہت سا سیانا پن مضمر تھا۔

یہ یہ درحقیقت دنیا بھر کے چوری کے نوادرات کی خرید و فروخت کرنے والوں کے لیے اشتہار تھا کہ پالمیرا پر داعش کا مکمل قابو ہے اور کرم فرما چاہیں تو کارِ لائقہ سے یاد فرمائیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کے اہل کاروں نے بہت سے نوادرات گھروں، کھلیانوں اور دیگر جگہوں پر چھپا دیے کہ وہ داعش یا دیگر باغیوں کے ہاتھ نہ لگیں۔ ان میں سے ایک معمر ماہر کو داعش نے ایذائیں دے کر قتل کردیا اور اس کی ویڈیو بھی بنائی مگر اس شیرِ نر نے کچھ بتا کر نہ دیا۔

حلب کے عجائب گھر کے منتظمین نے یہ حالات دیکھے تو چند مقامی طلبا و طالبات رضاکاروں کے تعاون سے نوادرات کو بکسوں میں بند کیا اور گاڑیوں میں لاد کر، گولیوں کی بارش میں جوں توں دمشق پہنچا دیا۔ اب کچھ امی جمی ہوئی ہے تو ہمارے ادارے نے حکومتِ جاپان کی مدد سے عجائب گھر کی جزوی مرمت کرکے کچھ نوادرات کو واپس پہنچا دیا ہے۔ اس پر کچھ لوگ معترض ہوتے ہیں کہ ہم گھروں، کاروبار، سڑکوں کی تباہی کے مقابلے میں کیوں کر اس کام کو اولیت دے رہے ہیں۔ ہمارے ہم کاروں کو اس تنقید کا احساس ہے لیکن ان کی رائے ہے کہ عالمی ثقافتی ورثے کی بحالی کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن لوگوں امن کی بحالی کا احساس دلانے کے لیے بھی یہ اقدام ضروری ہے۔ یہ خادم بھی ہم کاروں کی رائے سے متفق ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •