باپ کو بیٹا اور بیٹے کو ب فارم مل گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں شناختی کارڈ کار اجراء سال 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی حکومت کے دوران شروع ہوا۔ ہم نے بھی زمانہ طلب علمی میں بڑی ہیرو نما فوٹو کے ساتھ شناختی کارڈ بنوایا۔ قانون کے مطابق ہر پاکستانی جو اٹھارہ سال سے زائد عمر کا ہو اس کیلئے شناختی کارڈ بنوانا لازم ہے۔ 18 سال سے کم عمر لوگوں کیلئے رجسٹریشن آفس میں ب فارم تیار کیا جاتا ہے۔ آج کل یہ کام نادرا کر رہی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں کبھی بھی ب فارم کی اہمیت کا احساس نہ تھا۔ یہ تو گزشتہ دنوں جب ہمارے لخت جگر زین علی کو انجییئرنگ یونیورسٹی میں داخلہ فارم ارسال کرنے کیلئے ب فارم کی ضروت محسوس ہوئی تو ہمیں پتہ چلا کہ ب فارم کس قدر اہم ہے۔

ہمارے خیال میں ہمارے گھر میں ایک ب فرم پڑا ہوا تھا۔ جس میں تمام اہل خانہ کے نام درج تھے مگر وہ فارم زین صاحب کی ضرورت پوری نہ کرتا تھا۔ کیونکہ اس پر زین صاحب کا مجوزہ شناختی کارڈ نمبر درج نہیں تھا۔ بس پھر کیا تھا، گھر میں کہرام مچ گیا۔ ہر طرف افراتفری تھی۔ ہاتھوں کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا اور کان پڑی سنائی نہیں دے رہی تھی۔ گھر میں ایک ہی نعرہ مستانہ گونج رہا تھا کہ ہائے ب فارم، ہائے ب فارم۔

میں لاہور سے لودھراں آ رہا تھا کہ دو تین مرتبہ زین کی والدہ کا بڑا ہنگامی پیغام موصول ہوا کہ ہر صورت میں ب فارم درکار ہے۔ اللہ کی بندی اس ب فارم کی وجہ سے ہمارے ساتھ اپنے سابقہ تعلقات کا بھی لحاظ نہیں کر رہی تھی۔ بہر حال خدا خدا کر کے لودھراں پہنچا۔ دفتری کام جلدی جلدی نمٹا کے بغیر پسینہ خشک کیے نادرا کے مقامی دفتر میں پہنچا، وہاں اپنا تعارف کرایا۔ انہوں نے مجھے گھبرایا ہوا دیکھ کر مشکوک سمجھا۔ مگر میرے عملہ کے دو تین افراد بشمول سرکاری گن مین ساتھ ہونے کی وجہ سے معاملہ کنٹرول میں رہا۔ خیر ٹوکن نمبر لیکر مجھے ایک محترمہ کے کاؤنٹر پر تصویر بنوانے کیلئے حاضر ہونا پڑا۔ شکل و صورت پر پہلے ہی بارہ بج رہے تھے فوٹو میں بھی کچھ اس قسم کی کیفیت تھی۔ اس کے بعد فنگر پرنٹ والے کاؤنٹر پر ایک نوجوان نے دونوں ہاتھوں کی دس انگلیوں کے پرنٹ اس طرح لیے کہ گویا میں کوئی دہشت گرد ہوں یا کسی خود کش حملہ میں ملوث رہا ہوں۔

بہر حال دفتری کارروائی مکمل کرنے کے بعد نادرا دفتر میں خوش شکل و خوش گفتار افسران نے وعدہ کیا کہ سات یوم کے اندر آپ کو ب فارم مل جائے گا۔ سات یوم کا سن کر مجھ پر بجلی سی گری۔ میں نے انہیں اپنی عزت اور سیشن جج کے وقار کا واسطہ دے کر یہ مدت تین یوم کرائی۔ اس وقت مجھے احساس ہو رہا تھا کہ ب فارم اب زندگی کا واحد نصب العین ہے۔ اور اگر یہ بروقت نہ ملا تو میرے لخت جگر کے حسین مستقبل کے تمام خواب چکنا چور ہو جائیں گے اور ہماری باقی زندگی بڑے کرب میں گزرے گی۔

ابھی میں سخت گرمی میں اس دفتر سے باہر آ رہا تھا کہ زین کی ماں کا ایک اور فون ملا کہ ب فارم نہ بھولنا۔ اب اگلے تین دین بڑے کرب اور مشکل میں گزارے۔ ہر لمحہ اللہ سے دعا کی کہ کسی طرح ب فارم مل جائے۔ ب فارم کا حصول میرے لیے جوئے شیر اور پیر تسمپ پا کے درمیان کی کوئی شے معلوم ہو رہی تھی۔ ہفتہ کی صبح مجھے لاہور روانہ ہونا تھا۔ گھر سے فون آیا کہ ب فارم کے بغیر لاہور کی حدود میں قدم نہ رکھنا بلکہ زین کی ماں نے پٹواری والا شعر تھوڑی سے پیروڈی میں اس طرح سنایا کہ

توں کاہدا سیشن جج

تے منڈا تیرا روئے ب فارم توں

اللہ کا شکر کہ زندگی میں کوئی نیکی کام آ گئی کہ اس روز ب فارم مل گیا۔ ب فارم ہاتھ میں آنے کے بعد جو راحت سکون، فرحت اور مسرت مین نے محسوس کی وہ ناقابل بیان ہے۔ ب فارم کو ایک خوبصورت فائل کور میں رکھ کر اسے بریف کیس میں رکھنے کی بجائے گاڑی کی بیک سیٹ پر اپنے برابر رکھا۔ اور تمام راستہ تھوڑے تھوڑے وقفہ سے اسے دیکھ کر اطمینان کرتا رہا کہ یہ واقعی ب فارم ہے۔ جس میں ہمارے فرزند ارجمند زین علی کا نام مع مجوزہ شناختی کارڈ نمبر درج ہے۔ جوں جوں لاہور قریب آ رہا تھا میری جذباتی کیفیت بدلتی جا رہی تھی۔ دل ایک عجیب طرح کی فاتحانہ کیفیت کا شکار تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ گاڑی کے اندر سے نعرے لگانے شروع کر دوں۔ پھر تھوڑی دیر کیلئے یہ مسرت خیز خیال دل میں جا گزیں ہوا کہ میں کتنا خوش قسمت ہوں کہ جس کے پاس اس وقت ب فارم ہے۔ اور ان لوگوں کی حالت پر رحم آنے لگا جو اس نعمت غیر مترقبہ سے ابھی تک محروم ہیں۔

اب گھر قریب آ رہا تھا اور عجیب طرح کے خیالات دل میں آ رہے تھے۔ میں خیالوں ہی خیالوں میں اپنے گھر کے باہر بڑے جشن کی توقع کر رہا تھا۔ خیر جب میں گھر پہنچا اور ب فارم زین کی والدہ کے حوالے کیا تو اس نے اتنے پیار اور شفقت سے دیکھا جیسے میں نے اسے نئے گھر کی چابی حوالہ کی ہو یا کوئی بہت بڑا خزانہ اس کے ہاتھ تھما دیا ہو۔ ب فارم زین صاحب کے ہاتھوں میں آنے کے بعد گھر میں ایک دم سکون آ گیا۔ ایسے لگا کہ ہر طرف ایک ٹھہراؤ آ گیا ہو۔ مجھے گھر میں بڑی قدرومنزلت کی نگاہ دیکھا جا رہا تھا اور میں اپنے آپ کو ایک بہت بڑا فاتح سمجھ رہا تھا جو ایک بڑی مہم سر کر کے گھر پہنچا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •