ہائے یہ طلبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طلبہ کی ایک قسم وہ ہے جو آخری لمحے تک کسی معجزے کا انتظارکرتی ہے۔ ان کے لیے کلاس کا ہر دن پہلا دن ہوتا ہے۔ جب بھی سبق یا ہوم ورک چیک کیاجائے ان کا جواب ہوتا ہے ”میں نیا آیا ہوں“۔ ان کو امتحان کا ڈر بھی نہیں ہوتا بلکہ جب کبھی امتحان کا ذکرکیا جائے تو یہ ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں ”رزم حق وباطل ہوتوفولادہے مؤمن“۔ ان کے لیے امتحان کسی میلے سے کم نہیں ہوتا۔ ان کی ایک نشانی یہ ہے کہ امتحان کے دنوں میں یہ لوگ موٹرسائیکلوں کے سائیلنسر نکلوادیتے ہیں اوردوسری نشانی یہ ہے کہ یہ کمرہ امتحان میں فرشتوں کے نزول پرنہ صرف یقین رکھتے ہیں بلکہ آخر وقت تک ان کا انتظار بھی کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ سوال کیسے تھے تو جواب دیتے ہیں ”سوال بہت ہی آسان تھے بس جواب دینے میں تھوڑی گڑبڑ ہوگئی ہے“۔

طلبہ کی قسم وہ ہوتی ہے جسے آج کل کی زبان میں ”بیک بینچر“ کہتے ہیں۔ یہ پچھلے بینچوں پر بیٹھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم خود پیچھے رہ کر دوسروں کو آگے بڑھنے کا موقع دیتے ہیں یہ ایثار نہیں تو اور کیا ہے۔ اگر کبھی ان کو آگے بلایا جائے تو ان کی حالت اس نوجوان کی سی ہوجاتی ہے جسے نکاح کے وقت مولوی صاحب نے چھ کلمے سنانے کو کہاتھا۔ یہ پچھلے بینچوں پر بیٹھ کر پوری کلاس کی نگرانی کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ سبق سنانے کے معاملے میں بھی یہ پیچھے ہی رہتے ہیں اور دوسروں کو موقع دیتے ہیں کہیں ان کا یاد کیا ہوا سبق رائیگاں نہ جائے۔

”بیک“ رہنے والے یہ طلبہ چھٹی کے وقت ”فرنٹ“ پرہوتے ہیں۔ اگر کبھی ان سے پوچھا جائے کہ کلاس میں بیک بینچر ہولیکن چھٹی یا سیر وتفریح کے معاملات میں ”فرنٹ لائینر“ کیسے بن جاتے ہو تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ کلاس ایک پرسکون جگہ ہے اور سکون ہم دوسروں کودینا چاہتے ہیں اس لیے خودپیچھے رہتے ہیں لیکن باہر کچھ بھی ہوسکتا ہے اس لیے اس محاذ پر سب سے آگے ہوتے ہیں تاکہ خطرہ پہلے ہم سے ٹکرائے اور بعد میں دوسروں تک جائے۔

کچھ سالوں سے طلبہ کی ایک اورقسم بھی دریافت ہوئی ہے جس کا نام ”ہفتہ وارئیے“ سٹوڈنٹ ہیں۔ ان کی آمد ہفتے میں ایک آدھ بارہی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ہفتے میں ایک آدھ بار کلاس میں جاکرعلم لے لیتے ہیں اور باقی چھ دن اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس قسم کے طلبہ کا مزید کہنا یہ ہے کہ ہم نے بڑے ہو کر لیڈر بننا ہے ہم کلاس میں اتنے دن ہی آئیں گے جتنے دن ایک لیڈر اسمبلی میں جاتا ہے۔ اگر ہم ہرروزکلاس میں آئیں گے تو مسائل کون حل کرے گا؟

طلبہ کی ایک قسم وہ ہے جو ہمہ وقت گراؤنڈ میں پائی جاتی ہے۔ کلاس میں ان کی موجودگی صرف حاضری کے وقت پائی جاتی ہے لیکن اس کے بعد یہ غائب ہوجاتے ہیں۔ پوچھا جائے کہ کہاں تھے تو جواب ملتا ہے کہ گراؤنڈ میں۔ ان کی کوشش ہے کہ ”غیر نصابی سرگرمیوں“ سے ”غیر“ اور ”سر“ کو ختم کردیاجائے۔ ایک مقولہ اس طرح کے طلبہ کی زبان پر ہمہ وقت سواررہتا ہے کہ ”صحت مند دماغ صحت مند جسم میں ہی پایاجاسکتا ہے“۔ لہٰذایہ قسم اپنا ساراوقت اپنے جسم کو صحت مند بنانے میں لگی رہتی ہے تاکہ اس سے ایک صحت مند دماغ جنم لے اور ملک و قوم کے کام آئے۔

طلبہ کی ایک قسم یہ ہے کہ جو کسی بھی پیریڈ کے آخری پانچ دس منٹ میں تشریف لاتی ہے۔ جونہی اگلا پیریڈ شروع ہوتا ہے تو اگلا ٹیچر کلاس میں داخل ہونے سے پہلے یہ کلاس سے باہر چلے جاتے ہیں۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اس قسم میں ”پیاس“ اور ”حاجت“ کا عارضہ بڑی شدت سے پایا جاتا ہے۔ اس طرح کے طلبہ اگر کبھی غلطی سے ہتھے چڑھ جائیں اور پوچھا جائے کہ پچھلے پیریڈ میں کہاں تھے تو ان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے ”سرجی! پیاس لگی تھی یا حاجت آئی تھی“۔

سکول میں ایک سے زیادہ واٹر کولر یا واش روم کا تصور انہی کی وجہ سے تخلیق ہوا۔ ان کو حاجت اور پیاس کا دورہ سکول کے اوقات میں ہی پڑتا ہے۔ اگر کبھی غلطی سے کلاس میں بیٹھنا پڑجائے تو بار بار گھڑی کی طرف یوں دیکھیں گے جیسے ان کی ٹرین چھوٹ رہی ہو۔ اس قسم پر بائیو کا خاص اثرہوتا ہے اور اسی وجہ سے یہ کبھی کان چھدوا لیتے ہیں اور کبھی ناخن بڑھا لیتے ہیں۔

طلبہ کی ایک قسم ”سکونی“ طلبہ ہے۔ اس قسم کے طلبہ اتنے سکون سے کلاس میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ اگر کمرے کا چھت نہ ہوتا تو پرندے ان کے سروں پر آکر بیٹھ جاتے۔ یہ کسی قسم کا رسپانس نہیں دیتے۔ بسا اوقات پڑھانے والاپریشان ہوجاتا ہے کہ یہ پڑھ رہے ہیں یا ڈیمو (Demo) لے رہے ہیں؟ اس معاملے میں ان کا کہنا ہے کہ تعلیم تسکین کا نام ہے۔ اسی لیے ہم سکون سے اس عمل کا حصہ بنتے ہیں۔ ان کے اس عمل میں صرف ان کی جماہی خلل ڈال سکتی ہے۔

ان کی طویل جماہی ہی ان کے زندہ ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔ جماہی کے علاوہ تفریح یا چھٹی کی گھنٹی سے ان کی سکونی حالت ٹوٹتی ہے۔ ورنہ ان کے سکون، تسلسل، یکتائی، یکسوئی اور بے حرکتی کا کوئی توڑ نہیں۔ ان کے سکون کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اگر کبھی اچانک موبائل وائبریٹ کرے تو ان کا ”تراہ“ نکل جاتا ہے اور بینچ سے گر پڑتے ہیں۔ وجہ پوچھنے پر اکثر ان کے بینچ کا پایہ خراب پایا جاتا ہے۔ کلاس سے باہر اگر کوئی بات کرے تو یہ اتراکر جواب دیتے ہیں ”گرتے ہیں شہسوارہی میدان جنگ میں“۔

طلبہ کی ایک اور قسم ایسی بھی ہے جو بے تکے سوال کرکے کلاس پارٹیشن کا حصہ بنتی ہے۔ یہ عموما کلاس میں آرام کے عادی ہوتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ ذہین ہیں لیکن ان پر سستی طاری ہے اور جس دن یہ سستی اتری اس دن وہ عالم ایجادات میں تھرتھلی مچادیں گے۔ ان سے اچانک کوئی سوال کردیاجائے تو جواب بھی عجیب سا دیتے ہیں۔ ایک دفعہ استاد کلاس میں بتا رہا تھا کہ پانی ابال کرپینا چاہیے تاکہ اس میں موجودجراثیم مرجائیں۔

یہ سن کر ایک سٹوڈنٹ کھڑا ہوا اورکہنے لگا ”سرجی! جراثیم مر گئے تو کیا ہوا؟ رہیں گے تو پانی کے اندرہی“۔ اب آپ خود ہی ان کی ذہانت کا اندازہ لگالیں۔ طلبہ کی اس قسم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر ان کے ہاتھ میں لیبارٹری دے دی جائے تو یہ سب سے پہلے یہ تحقیق کریں گے کہ سوراخ نہ ہوتے ہوئے بھی شیرہ جلیی کے اندر جاتا کیسے ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •