عورت اور عزت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے بچے نے جب جنم لیا تو مجھے زیادہ اذیت نہیں جھیلنا پڑی مسئلہ یہ تھا کہ آنول کس چیز سے کاٹوں؟ کافی دیر میں اسی حالت میں لیٹی رہی گھر میں کوئی موجود نہ تھا میرا شوہر تو صبح ہی پگڑی باندھ کر چلا گیا تھا۔ رات میں نے ہری مرچیں کوٹ کر ان سے روٹی کھائی تھی ساری رات مجھے کڑوے ڈکار آتے رہے۔ میرے شوہر کو ایک پنچایت میں جانا تھا جہاں مُنصف کا منصب صاحبِ ثروت کے پاس ہوتا ہے اور فیصلہ رسم و رواج کے تابع ہوتا ہے۔

یہاں تو شریعت بھی طریقت کے تابع ہے پھر عدل روایات سے برتر کیسے ہو سکتا ہے؟ مُجھے درانتی نظر آئی میں نے مُشکل سسے درانتی اُٹھائی تو درد کی ٹیس اٹھی پر شاید میں عادی ہو چکی تھی میں نے درانتی سے آنوال کاٹ ڈالا۔ میرا بچہ اب مجھ سے الگ ہو گیا تھا شاید ساری زندگی کے لئے۔ مجھے لگا میں رفعِ حاجت سے فارغ ہو چُکی ہوں کُچھ دیر میں لیٹی رہی پھر اُٹھی اور ایک کپڑا اُٹھا کر اپنا خون اپنے وجود سے صاف کر لیا وہ کجھور کے پتے سے بنی چٹائی جو اب خون آلود ہو چُکی تھی میں نے دھو ڈالی۔

میں نے ایک مُذکر جنس کو جنم دیا تھا یہ جان کر مجھے خوشی ہوئی۔ مُجھے چکر آ رہے تھے میں نے بچے کو نہلایا پھر اپنی ٹانگوں کو دھو ڈالا۔ پُرانا گُڑ پڑا تھا جو اب کالا ہو چکا تھا اُس کو پانی میں گھول کر پی لیا مجھے یقین تھا کہ یہ بدن میں توانائی پیدا کرے گا اور مجھے اس پر یقین کرنا پڑا۔ میرا بچہ رو رہا تھا اور میں نے اس کو اپنی چھا تی سے لگا لیا۔

میرے خاوند کے قہقہے اور با رُعب شخصیت پنچایت میں اپنا اثرورسوخ دکھا رہے ہوں گے۔

میری عمر 21 سال تھی میرے خاوند کی عمر 43 سال ہوگی اس کی پہلی بیوی 6 سال پیلے ٹی بی سے مر گئی تھی اُس کو آٹھرہ کی بیماری تھی اس لئے جو بچہ بھی جنتی وہ مر جاتا۔ علاج کے لئے شوہر کے پاس نہ تو وقت تھا اور نہ ہی وہ عورت ذات پہ پیسہ لگانا چاہتا تھا بس وہ بیچاری ایڑیاں رگڑ رگڑ کی مر گئی۔ میرا سُسر کبھی زمیندار تھا کمہار، نائی، موچی، میراثی سب فصل پر اپنا اپنا حصہ لے جاتے تھے اور سارا سال خدمت کرتے۔ سُسر صاحب کے 6 بیٹے تھے اور 5 بیٹیاں۔ زمیندار کی آولاد کہاں پڑھتی ہے وہ تو خدمت کرواتے ہیں اور حُکم چلاتے ہیں۔ جب سُسر صاحب وصال پا گئے تو زمین کی وراثت ہوئی ساری زمین بیٹوں نے بانٹ لی اور دُکھ بیٹیوں نے۔

میرے شوہر کے حصے میں 8 ایکڑ زمین اور ایک بھینس آئی۔ شوہر نے زمین ٹھیکہ پر دے دی اور بھینس گھر میں باندھ لی۔ میرا والد ایک غریب آدمی تھا، میرے شوہر کے مُستاجر کا مُلازم، ایک دن میں بھی ماں کے ساتھ زمین پر گئی تھی تب میری عمر 16 سال تھی۔ مالکِ زمین کو مُجھ میں پتہ نہیں کیا اچھا لگا شاید وہ مُجھ کو بھی زمین کا ایک ٹُکڑا سمجھ بیٹھا تھا جس میں وہ ہل چلا کر بیج بو دینا چاہتا تھا۔ غریب کے پاس انکار کی گُنجائش نہیں ہوتی اور کسی بڑے آدمی کو انکار کرنا تو ناممکن بات ہے۔

میری رجسٹری ہو گئی اور میں 500 روپے حق مہر کے عوض اُس کے قبضے میں چلی گئی تب میری عُمر 18 سال تھی شروع کے آٹھ مہینے اچھے گُزرے جو میری زندگی کا سرمایہ تھے مجھے اپنے خاوند سے محبت ہو گئی کیونکہ اس کے سواء کوئی چارہ نہ تھا، مُجھے جنسی تسکین حاصل کرنے کا کوئی تجربہ نہ تھا اس لئے میں نے شادی کے بعد اپنے شوہر کو ہی دیوتا مان لیا۔ پہلی بار مُجھے دُکھ تب ہوا جب میرا شوہر شراب کے نشے میں دُھت میرے ساتھ آ کر سویا۔

میں نے بس اتنا کہا کہ کیوں بقاء کو فنا کرتے ہو۔ اس نے اس ذور سے ٹانگ میرے پیٹ میں ماری کہ میں برہنہ حالت میں چارپائی سے گر گئی میں پانچ ماہ سے اُمید کے ساتھ تھی میری قسمت میں جھیلنا لکھا تھا پر میرا بچہ مر گیا۔ میرے شوہر کا دل چاہتا تو گھر میں کُچھ پک جاتا ورنہ میں کبھی، پیاز، کبھی ٹماٹر اور کبھی ہری مرچوں سے پیٹ کا جہنم بھر لیتی۔ میرا شوہر مجھے کسی کے گھر نہ جانے دیتا۔ چاچی نوراں کبھی کبھار میرا حال پوچھنے آ جاتی میرے شوہر نے اس کو منع کر دیا رات کو مجھ سے پوچھتا رہا کہ یہ نوراں کس کے پیغام لے کر آتی ہے؟

اب نوراں کو میں کہیں دیکھ بھی لیتی تو راستہ بدل لیتی۔ زمین سے کتنے پیسے آتے کہاں خرچ ہوتے مُجھے ان باتوں سے کبھی آگاہ نہ کیا گیا۔ اور نہ مُجھے پوچھنے کی جُرت تھی۔ ایک جوڑا سردیوں کا اور ایک جوڑا گرمیوں کا آجاتا۔ بیمار ہو جاتی تو میرا شوہر بازار سے خود ہی دوائی لا دیتا میں نے کبھی ڈاکٹر یا ہسپتال کی شکل نہیں دیکھی۔ گھر میں جو بھینس تھی اُس کا چارہ مجھے خود کاٹ کر لانا پڑتا اس کی مجھے اجازت تھی صبح میں بھینس کا دودھ نکال لیتی تو گویا دودھ لے جاتا اُس کے پیسے ہر ماہ میرے خاوند کو مل جاتے میرے روزمرہ کے کاموں میں سب سے اہم کام یہ تھا کہ میرے خاوند کے کپڑوں پہ کوئی داغ نہ ہو گھر میں نمک مرچ چاہے نہ ہو پر کلف ہر وقت موجود رہتا۔ میرے ماں باپ کو میرے گھر آنے کی آجازت نہ تھی 6 ماہ بعد میراشوہر صبح دن چڑھے مجھے میرے میکے چھوڑ آتا اور دن ڈھلے واپس لے آتا میری حیثیت ایک ایسی مشین کی سے تھی جو دن کو گھر سنوارے اور رات کو مرد کا بستر۔ میں ایسی رنڈی تھی جس کو اس کے جسم فروشی کا مُعاوضۃ تک ادا نہیں کیا جاتا۔

کیا ہر سماج کی عورت ایسی ہے جیسے میں ہوں؟ سُنا ہے بڑے بڑے شہروں میں بڑے بڑے ٹھنڈے کمروں میں غربت کے خلاف پنچایت ہوتی ہے اور سر پنچ بڑے بڑے چوہدری ہوتے ہیں وہ بڑی کاروں پہ آتے ہیں اور لاکھوں روپے کا کھانا کھاتے ہیں غریبوں کی حالت سنوارنے کے نام پر امیروں کی ضیافت ہوتی ہے۔ بڑے شہروں میں عورتیں عورتوں کے حقوق کی بات کرتی ہیں ان کے کُتے ان کے شوہر سے زیادہ قابلِ عزت ہوتے ہیں ایسی عورتیں مردوں کا استحصال کرتی ہیں وہ کہتی ہیں عورتوں کی جنسی آزادی کے لئے باپوں کا خاتمہ ضروری ہے۔

میں کہتی ہوں مردوں کی عزت جو آکاس بیل کیطرح عورتوں کے جسموں سے لپٹی ہے اس کو الگ کر دو مرد اپنی عزت کا آپ ذمہ دار ہے، عورت کو عزت کے نیزے سے بہت داغا جا چُکا ہے، میرے باپ نے اپنی عزت کے لئے میری زندگی کا سودا کر دیا میرے خاوند نے آپنی عزت کے لئے مُجھے قید کر دیا۔ کیا عزت ہمارے گُزارے کی چیز ہے؟ ہم مڈل کلاس لوگ انسان سے زیادہ عزت کو کیوں اہمیت دیتے ہیں؟ اور عزت بھی ایسی جس کی قیمت صرف عورت ادا کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •