مانجھی فقیر: سندھ میں صدیوں کی بازگشت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ بھی عجیب خطہ ارض ہے جہاں ہزاروں سالوں میں سینکڑوں قابض اور مذاہب آئے مگر تاریخ گواہ ہے کہ سب اس کی اصل روح اور رنگ میں تحلیل ہوگئے۔ جین، بدہ، سناتن، اسلام، عیسائیت، رہبانیت، صوفی ازم سے لے کر سوشلزم، کمیونزم، قومپرستی، تمام مسالک سے لے کر برادریاں تک اس کی اصل روح سندھیت میں تحلیل ہوگئیں۔ دیگر اقوام اور لوگوں کو یہ بات سمجھانا جتنا مشکل ہے ایک سندھی کو یہ بات سمجھانا اتنا ہی آسان ہے، چاہے وہ کہیں سے بھی آئے اور پھر سندھ میں سندھی بن کر رہے۔

سندھ کے لوگ قربانی دینے کے اتنے درپے اور نازاں ہیں جتنے دوسرے لوگ جان بچانے کے خواہشمند۔ آسان الفاظ میں ایک سو ایک اختلافات کے باوجود جب وہ آصف علی زرداری کو معافی مانگتے یا ضمانت کی درخواست نہ دینے پر نازاں ہیں اتنا ہی وہ نواز شریف کے اچانک باہر جانے پر پریشان اور شرمندہ بھی ہیں۔ مطلب وہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف بھلے جیل میں بغیر علاج کے تڑپ تڑپ کر مرجائے مگر بھاگے نہ۔ اپنی دھرتی اپنے لوگ نہ چھوڑے بھلے جان چھوڑ دے۔

عجیب مزاج ہے اس قوم کا جو اپنے دیس کو باب اسلام ہونے پر ناز کرتی ہے مگر کسی اور مذہب کے خلاف ایک بھی لفظ سننے کو تیار نہیں، ہندوازم، بدھ مت اور جین مت خلاف تو بالکل نہیں حتاکہ یہودیت، نصرانیت، پارسیت اور قادیانیت کے خلاف بھی نہیں۔

یہ بڑی بات ہے نہ کہ سندھ کے قومی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کا یہ بیت ہر سندھی بچے کو یاد ہوتا ہے کہ

جو تم بیت سمجھتے ہو، وہ دراصل آیتیں ہیں

جو تیرے من کو محبوب کے ساتھ منسلک کرتی ہیں (ترجمہ)

دوسری طرف مرشد سچل سرمست کی ابیات کو بھی نہیں بھولتے کہ

”مذاہب نے ملک میں لوگوں کو بھول بھلیوں میں ڈال دیا

شیخی اور پیری نے بھی لوگوں کو گمراہ کردیا

دراصل وہ سارے عقل والے عشق کے قریب جو نہ آئے ” (ترجمہ)

اس پورے قصے اور قضیے کو سمجھنے کے لئے جب ہم پھر شاہ عبداللطیف بھٹائی کا ایک اور بیت پڑہتے ہیں کو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔

اَلَسۡتُ بِرَبِّڪُمۡ جَڏِھِنۡ ڪَنَ پِیومَ،

قَالُوۡ بَلا قَلَبَ سین، تڏھن تِت چیوم،

تنھین ویر ڪیومَ، وَچَنَ ویڙھیچَنَ سین۔

الست بربکم جب میرے کانوں میں گھونجا تھا

تب ہم نے دل سے ہی ”قالو بلا“ کہہ دیا تھا

اسی وقت ساتھ ہی ہم نے اپنے دھرتی کے باسیوں سے بھی محبت کا وعدہ کرلیا تھا (ترجمہ)

بات سمجھ سے باہر ہے، ایسی قوم دنیا میں اور کہاں بستی ہے۔ جو خدا کے وجود کو اپنی دھرتی اور اس کے باسیوں کے وجود سے مشروط کر کے جانتی اور مانتی ہو۔ جہاں کیس کو اپنی بات کا یقیں دلانے کے لئے دھرتی کا قسم اٹھایا جاتا ہو، جہاں بہادر حکمرانوں اور دلیر جوانوں کے نام ”دولھ دریا خان“ اپنے خوبصورت بیٹوں کے نام ”مہران“ اور لاڈلی بیٹیوں کے نام ”سندھو“ رکھا جاتا ہو۔ جہاں مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو لوری سنائیں کہ

”کاش دودو بنو، کاش دولھ بنو،

دھرتی کی رکھوالی کرو،

سندھ پر سر دیدو،

یہ ہی تیری ماں کی آس ہے،

یہ ہی تیرے باپ کی آس ہے۔ ”

اس دیس اور دھرتی پر آج کل نہ جانے کیسے مذہبی شدت پسندی کا سایہ آیا ہوا ہے، کچھ وقت سے مساجد میں بم دھماکے، امام بارگاہوں پر خودکش حملے، گھوٹکی میں مندر پر حملے اور اب سندھ کے صوفی شاعر اور گائک مانجھی فقیر کے آستانہ اور ان کی بزرگ در محمد فقیر کی درگاہ پر چند شدت پسندوں نے حملہ کردیا ہے۔

سندھ کے وائبرنٹ سوشل میڈیا اور سول سوسائٹی نے اس عمل پر انتہائی تیز رفتاری سے ردعمل کا مظاہرہ کر کے کمال کردیا۔ ایک دن کا بھی انتظار نہ کیا گیا۔ سندھ سرکار نے بھی اسی وقت وقت اقدامات اٹھالئے۔ ثقافت اور تعلیم کے صوبائی وزیر سید سردار شاہ کے ایک گھنٹے کے اندر احکامات جاری کردیئے کہ درگاہ، آستانے اور مانجھی فقیر پر حملہ سندھ کی روحانی رمز پر حملہ ہے اور شرپسندوں کو کیفر کردار پر پہنچایا جائے گا۔

دوسری طرف سوشل میڈیا پر کمپین چلی تو صبح ہوتے ہی ہزاروں کے تعداد میں لوگ مانجھی فقیر کے آستانے پر پہنچ گئے۔ جس میں صف اول دانشور، صحافی، عالم، استاد، قومپرست، سیاستدان، طلبہ، عورتیں، مرد، مزدور، ہاری حتاکہ بچے بھی شامل ہوگئے۔ سب لوگ اپنا کھانا، پانی اور چائے بھی ساتھ لائے تھے، جو نہیں لائے تھے انہوں وہاں ہر آنے والوں کی خاطر تواضع کے بندوبست پر جیب سے خرچہ کرنے لگے۔ جہان ساز اور سُر پر پابندی کی سازش کی جارہی تھی وہاں پورا دن اور پوری رات صوفی محفل جاری رہی، اس محفل کو جاری وساری رکھنے کے لئے کئی اور فنکار بھی اپنے رباب، ڈھولک، یکتاری، چپڑی اور دیگر آلات کے ساتھ پہنچ گئے۔ اور پھر جو مانجھی فقیر نے مستی اور کیف میں جو کلام سنائے تو لوگوں پر سکتہ طاری کردیا۔

آستانے پر آئے مشہور دانشور جامی چانڈیو کا کہنا تھا کہ مانجھی فقیر سندھ کہ صدیوں کی آواز کی بازگشت ہے، وہ صوفیانہ روایات کے امین ہیں، ان پر حملہ سندھ کی صوفی روایات پر حملہ ہے، ہم دلی ایمانی طور پر مسلمان ہیں، اس اسلام کے پیروکار ہیں جو تکمیل ادیاں کرتا ہے، جو سلامتی اور محبت کا درس دیتا ہے۔ اور ہماری نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب رحمت اللعالمین ہیں۔ ہم کسی بھی مذہب یا اس کے شعائر پر کسی بھی قسم کے حملے اور توہین کے خلاف ہیں مگر مذہب کی آڑ میں ایسی ملائیت اور فسطائیت کو بھی تسلیم نہیں کرتے جو باقی لوگوں کو سوچنے سے روکے اور سوال اٹھانے سے منع کرے۔

سندھ میں کسی بھی صورت مذہبی شدت پسندی، سخت گیری اور مذہب کو استعمال کرتے فسطائیت کو رائج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جامی چانڈیو کا کہنا تھا کہ سندھ کا اصل تشخص شاہ بھٹائی، سچل سرمست، سامی، شاہ عنایت شہید، مخدوم بلاول، سائیں جی ایم سید، ابراہیم جویو اور رسول بخش پلیجو ہیں۔ کوئی ملاں کوئی پنڈت کبھی سندھ کا عوامی ہیرو بن ہی نہیں سکا۔ مذہبی انتہاپسندی کا اس دھرتی کے روح اور خمیر سے کوئی تعلق نہیں۔

اس سے پہلے نامور تعلیم دان عرفانہ ملاح نے کہا کہ ہم یہاں مانجھی فقیر سے نہیں بلکہ خود اپنے آپ سے ملنے آئے ہیں، یہ اس کا انفرادی نہیں ہم سب کا اجتماعی کیس ہے۔ ملک میں مذہبی شدت پسندوں کو آگے لاکر انتہاپسندی کو پروان چڑہانے والے سندھ میں لبرل سوچ رکھنے والوں کو دوڑا دوڑا کر مارنا چاہتے ہیں مگر ان کو خبر ہو کہ ہم تھکے نہیں، ہم سندھ کی ازلی شناخت کو برقرار رکھنے کے لئے ہر وقت اور ہر حالت میں تیار ہیں۔ اس شناخت کی بقا کے لئے ہمارے پرکھوں نے قربانیاں دی ہیں، اس وقت ہم گھوٹکی سے لے کر نوابشاہ میں مانجھی فقیر کے گاؤں ”برہون“ تک سفر میں ہیں مگر ہم تھکے نہیں۔

نامور دانشور پروفیسر مشتاق میرانی کا کہنا تھا کہ انفرادی طور سندھ کے لوگوں میں سیاسی، مسلکی، کاروباری، برادری اور ذات پات کے اختلافات موجود ہیں مگر سندھ اور صوفی ازم کے معاملے پر سندھ میں کوئی اختلاف نہیں۔ پہلے افغان، پھر خیبر پختون خواہ اور بعد میں پنجاب میں لگی مذہبی شدت پسندی کی آگ کو سندھ میں بھڑکنے نہیں دیا جائے گا۔ طاقتور قوتیں ایسے تجربات کے اجتناب کریں جس سے سندھ کے تشخص کو نقصان پہنچے۔ سینیئر صحافی مہیش کمار کا کہنا تھا کہ اب یہ ہماری ذمے داری ہے کہ مانجھی فقیر کی شدت پسندی کے خلاف جنگ میں ہم ان کا ساتھ دیں۔ ہم سُر اور آواز سے اس شدت پسندوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ اب پورے سندھ میں مانجھی فقیر کے ساتھ تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا سب سے پہلے حیدرآباد میں اک شاندار پروگرام رکھا جائے گا۔ انہوں کے کہا کہ شدت پسندی کا مقابلہ صرف ساز اور آواز کے ساتھ ممکن ہے۔

اس موقع پر جیئے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض چانڈیو کا کہنا تھا کہ سندھ تاریخی طور اتنا پر امن خطہ رہا ہے کہ تاریخی موئن جو دڑو سے ایک بھی جنگی ہتھیار نہیں ملا، وقت گواہ ہے کہ اس دھرتی کے باسیوں نے کبھی کسی پڑوسی ملک یا قوم ہر حملہ نہیں کیا نا ہی کسی حملہ آور کے لئے قیمتاً یا کرائے پر دستیاب رہے۔ سندھ اپنی شناخت اور بقا کے لئے ہزاروں سالوں سے فکرمند رہی ہے، اس وقت ہم تاریخ کے مشکل دور سے گزر رہے ہیں کیونکہ جن معاملات سے ہم نبرد آزما ہیں نہ ہمارے پیدا کردہ ہیں نہ ہماری اس سے کوئی دلچسپی ہے۔

اس ایک دن مانجھی فقیر کے چھوٹے سے گاؤں میں سینکڑوں گاڑیوں پر ہزاروں لوگ پہنچے پر مانجھی فقیر کا دل اتنا بڑا ہوگیا کہ وہ خود بھی ساری رات وجد میں گاتا اور بجاتا رہا۔ جیسے وہ اعلان کرتا رہا ہو کہ

مون ڏات انوکی آندی آ

ٿی تند وڙھی تلوارن سان

ٿا تنھنجا ڀاری برج لڏن

تون ہیڻو آن ہٿیارن سان

(شیخ ایاز)

میں ہنر انوکھا لایا ہوں

اب تار لڑے گی تلواروں سے

تیرے تخت کے بھاری برج لرزنے لگے ہیں

تم تو ہتھیاروں کے ساتھ بھی ناتواں ہو (ترجمہ)

اسان جی عشق جو ڪلمو آھی انسان سان محبت،

اسان ہون رام سان راضی، رکؤن رحمان سان محبت۔

ہمارے عشق کا کلمہ

ہے انسان سے محبت

ہم ہیں رام سے راضی

ہے رحمان سے محبت

(مانجھی فقیر)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •