کامیابی محنت سے ملتی ہے یا قسمت سے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کامیابی صرف چیزیں بیچنے میں مہارت، بہت زیادہ فنون اور مہارتوں پر عبور، اعتقاد کی طاقت نہیں ہے یا انتہائی مقابلے کی دوڑ والے معاشرے کی مثال ہے جو ہمارے ذہن میں بچپن سے ہی ڈال دی جاتی ہے ہنر، ذہانت، رسک لینے، سخت محنت کرنے میں نہیں ہے۔

سنیے اور جانئیے کہ ہم کاربن کی زندگی کی پیدا وار ہیں، ہمارے پاس کاربن کوئلے اور ہیرے کی مختلف شکلیں ہیں۔ سب سے بنیادی بات جو ایک زوال پذیر کاربن پر مبنی زندگی جیسے پودوں کو کوئلے میں تبدیل کرتی ہے، اسی طرح کاربن کو ایک چمکتے ہیرے میں تبدیل کرتی ہے وہ ہے دباؤ یا پریشر!

اسی طرح لوگوں اور معاشرے کا مسلسل پریشر، تناؤ اور سٹریس جو ہم ہر روز فیس کرتے ہیں اسے ہمیں اپنے آپ کو ہیرا بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ کیونکہ ہم انسان بھی کاربن کی زندگی کی پیداوار ہیں۔

کامیابی کیا ہے؟ چلئے پہلے اسے دیکھ لیتے ہیں!

سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ کامیابی مارک ذکربرگ بل گیٹس یا اسٹیو جابز بننا نہیں ہے۔ اس خام خیال کو اپنے ذہن سے نکال دیں! میں نے جو حال ہی میں اپنے امریکہ کہ دورہ کے دوران میں دیکھا کہ ہر شخص مارک یا گیٹس یا بیزوز بننا چاہتا ہے۔ وہ 7.7 ارب لوگوں میں سے گنے چنے چند ہیں۔

کامیابی یہ ہے کہ اگر آپ پڑھ سکتے ہیں مطالعہ کر سکتے ہیں، اچھا لکھ سکتے ہیں، اچھا سوچ سکتے ہیں اور عمدہ سوچ رکھتے ہیں، 7.7 بلین افراد میں سے صرف 10 ملین منفرد افراد کا حصہ بنیے جو ہر روز اپنے چند الفاظ سے انسانیت کی ثقافتی تقویت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں، اور اس کا ثمر تب ملتا ہے اور یہ اس وقت میٹیریلائز ہو جاتا ہے جب آپ ایک سپیشل خصوصیات والی ٹیم یا لوگوں کے گروپ کی راہنمائی کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

اگر آپ انسانیت کی اجتماعی دانشمندی میں کوئی لفظ شامل نہیں کرتے ہیں تو آپ کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں؟

ہماری اس منفرد اور انوکھی کائنات میں اپنی اس ممتاز اور منفرد جذباتی حیثیت کو جو کہ اس کائنات میں بے مثال ہے اس کو کیونکر مکمل ضائع کیا جائے؟ مجھے یہ بتائیے کہ آپ چپ کر کے کیوں بیٹھے ہیں؟ آپ ایک خاموش ٹرول کیوں ہیں؟ جان لیجئیے کہ یہی اصل ناکامی ہے ؛

آپ کی یہ ایک میمنے کی طرح مکمل خاموشی ہی ہے جو پہلے پہل غصے اور اس کے بعد اپنے آپ کو تباہی کی طرف لے جانے والے شدید حسد کا باعث بنتی ہے۔ آپ نے کیا وہ دروازہ کھلا چھوڑ رکھا ہے جسے کھول کر کامیابی اندر داخل ہو سکے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ سب دروازے بند کر دیں اور پھر نروان اور کامیابی کی توقع کریں؟!

کامیابی کا بنیادی اور لازمی عنصر یہ ہے کہ آپ لیڈی لک کو اپنی تخلیقی صلاحیت، اپنی انفرادیت، مثبت مجموعی سوچ، اپنی کھوج لگانے کی صلاحیت اور ایک تنقیدی فکر کو بروئے کار لاتے ہوئے خود سے تخلیق کریں۔

ایک بات یاد رکھیے کہ لیڈی لک (قسمت کی دیوی) ہر انسان کے پاس زندگی میں کبھی نا کبھی ضرور آتی ہے آتی ہے اور اگر وہ اس وقت آپ کے دروازے پر دستک دے اور آپ کو سوتا ہوا پائے تو آپ وہ سنہری موقع کھو دیتے ہیں ہمیشہ کے لیے! قسمت کی دیوی انسان پر بار بار مہربان نہیں ہوتی!

آپ متحرک اور پرجوش ہو کر اور دوسروں سے آگے بڑھ کر اپنی قسمت کے خود خالق ہیں۔ اپنے آس پاس نظر دوڑائیے کہ آپ کے اردگرد آپ کے دوست اور حلقہ احباب میں کون لوگ شامل ہیں اس سے آپ کے مستقبل اور آپ کی گروتھ کا تعین ہو جائے گا۔ جب آپ غلط جھرمٹ میں اڑان بھر رہے ہیں تو جان لیجیے کہ آپ کا کام تمام ہوچکا ہے!

آپ اپنی تقدیر کے ساتھ پیدا نہیں ہوتے ہیں بلکہ اسے خود تخلیق کرتے ہیں۔ ہم اپنے آپ پر اور اپنی ذات پر کیا اور کیسے کام کریں کہ ہم کامیاب ہو سکیں؟

1۔ ہنر، مہارت، عزم، استقامت یہ سب آہستہ آہستہ آپ کو کامیابی کی سیڑھی پر چڑھاتا ہے۔

کامیابی کی سیڑھی کو دو ستونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دو ستون آپ کی اپنی عادتوں اور حرکتوں سے پروان چڑھتے ہیں جیسے آپ کی عاجزی اور انکساری علم اور عقل ہونے کے باوجود، اعتدال پسند نظریات اور نقطہ نظر، لوگوں تک پہنچنے میں پہل کرنا، آپ خوش قسمت ہوں گے کہ آپ کو لوگ پسند بھی کریں اس کے لیے آپ کو عاجزی اور انکساری، میل ملاپ، پہل کرنے کی عادات اپنانی ہوں گی۔ اگر آپ کو ایک۔ بہت بڑی اکڑ میں اور غرور میں ہیں اور آپ کے اندر ہر وقت تفاخر کی ہوا بھری رہتی ہے اور آپ دوسروں کو حقیر سمجھتے اور جانتے ہیں تو پھر ایسا ہرگز نہیں ہو گا!

عاجزی، انکساری اور اعتدال پسندی کامیابی کے راستے کا سب سے پہلا قدم ہے۔

2۔ یہ آپ کی زندگی کی مستقل اور متواتر کوششیں ہیں جو آپ کو باکس کے باہر سے سوچنے کا موقع فراہم کرتی ہیں اور پھر آپ آگے بڑھ کر زیادہ لوگوں سے ملنا اور جاننا شروع کرتے ہیں۔ اپنی ذات کی تنہائی میں ہی نا بیٹھے رہیں بلکہ تلاش کر کے اور آگے بڑھ کر ذہین لوگوں سے ملیے۔ اپنا قیمتی وقت فضول کی بحث، غصے اور لوگوں کی برائیاں کرنے میں ضائع مت کیجئے۔ اپنے آس پاس دیکھیے اگر آپ کے اردگرد چند ذہین اور کامیاب لوگ نہیں ہیں تو پھر آپ کبھی بھی شیشے کی چھت (گلاس سیلنگ) نہیں توڑ کر اوپر نہی نکل سکتے ہیں۔ ایک ایسے شخص کے ساتھ ایک لمحہ بھی ضائع نہ کریں جو آپ کو اپنے مال و دولت کی کھلی نمائش کر کے متاثر کرنے کی کوشش کرے۔ مال و دولت دکھا کر عموماً ٹریپ کیا جاتا ہے جو کہ سب سے فضول اور بے کار بات ہے۔ ہمیشہ ذہانت سے اور عقل و حکمت سے متاثر ہوں اور آپس کے میل جول سے اپنی کلچرل خواندگی اور تربیت کریں۔

آپ جتنا زیادہ کارآمد لوگوں سے ملیں گے آپ کے امکانات اتنے ہی بہتر ہو جائیں گے کہ ان میں سے کوئی آپ کو ایسا گر یا ٹکنیک بتا دے یا سکھا دے جس سے آپ کو ایک بریک تھرو مل جائے۔

درست لوگوں سے ملنا۔ ان کے ساتھ باہمی معنی خیز بات چیت اور ڈسکشنز اس کا اگلا مرحلہ ہے۔

میرے تمام منصوبے ایک ٹیم بلڈنگ اور نئے لوگوں سے ملنے سے آتے ہیں، جب آپ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو یہ یقینی بناتے ہیں کہ آپ ایک دوسرے سے سیکھ رہے ہیں اور صحیح وقت پر صحیح شخص سے ملنا کی بہت اہم ہے۔ ہر ایک فرد جس سے آپ ملتے ہیں وہ کوئی نا کوئی ایسی بات، معلومات یا ہنر ضرور جانتا ہے جو آپ نہی جانتے۔ چین میں رہنے والا ایک پانچ سالہ بچہ مجھے مانڈرین (چائنیز زبان) کی تعلیم دے سکتا ہے۔ زندگی صرف آپ کے بارے میں نہیں ہے یہ بہت وسیع اور جامع اور اس میں اور لوگوں کو شامل ہونے دیجیے، ان سے ملیے آپ جن بھی لوگوں سے ملیں ان کو ثابت کریں کہ آپ ان کے ساتھ پرخلوص ہیں اور یہ آپ انہیں اپنی پوری توجہ دے سکتے ہیں۔ اپنے اردگرد ہجوم نا پالیں نا اس کی حوصلہ افضائی کریں۔ صحیح اور عمدہ، ذہین دماغوں کا انتخاب کریں اور ان پر توجہ دیں۔ صرف چند اچھے لوگ!

”علیحدگی کی چھ ڈگری“ وہ آئیڈیا ہے جس کو میں اکثر فروغ دیتا ہوں اور ہر ایک کو تجویز کرتا ہوں، 6 افراد کے سماجی رابطے (سوشل سرکل) جس کو 6 ہینڈ شیک کہتے ہیں یہ اصول ہے کہ کسی بھی دو افراد کو زیادہ سے زیادہ چھ سٹیپس میں جوڑنے کے لئے ”کسی دوست کا دوست“ (فرینڈ آف فرینڈ) کی زنجیر بنائی جاسکتی ہے۔ ایک وقت میں آپ کو زمین پر موجود 7.7 بلین افراد میں سے زیادہ سے زیادہ چھ افراد سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں۔ 4 ہوں تو بہتر ہے!

3۔ جب ایک بار آپ کے دماغ اور آپ کے گھر کا دروازہ کھل گیا تو اب اپنا دائرہ وسیع کیجیے اسے منظم کرنے کے بعد آپ نے خود اپنے افق کو بڑھانا ہو گا اور اس پر آپ مزید کام کرنا شروع کردیں گے۔

کامیاب ترین لوگوں کی کلچرل لٹریسی سیکھیے کہ وہ اپنی شخصیت کیسے بناتے ہیں، آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے ایسے آداب اور طریقہ کار سیکھیے جو کامیاب لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی عادات اور اطوار کو اپنانے کی کوشش لیجئیے۔ نی زبانیں سیکھیے۔ لوگوں کی پیٹھ پیچھے برائیاں مت کیجئیے۔

ہمیشہ آئیڈیا پر بات کریں نا کہ لوگوں کے متعلق۔ کامیاب لوگ ہمیشہ نظریوں پر تبادلہ خیال کرتے ہیں نا کہ شخصیات پر، آپ کو کرکٹ کے علاؤہ بھی ”گیم“ جاننے کی ضرورت ہے! آپ کو ایک کتاب سے آگے بڑھ کر اور کتابیں پڑھنے کی بھی ضرورت ہے، مشرق اور مغرب کے دس بہترین مصنفین کا انتخاب کر لیجیے اور ان کی کتابیں پڑھ ڈالیے ان سے سیکھیے، نئی زبانیں آن لائن سیکھیں، اپنے ارد گرد کے ذہنوں اور ذہین لوگوں کو اپنی طرف متوجہ اور اٹریکٹ کرنے کے لیے خوبصورت الفاظ اور جملے ”ایک لائنر“ سیکھیں، لفظ ’اگر‘ کو تو خاص دل سے سیکھیں، اپنی حکمت اور مہارت کو تعمیر اور تیز کرتے رہیں اور نئی حکمتین اور مہارتیں اپنے پورٹ فولیو میں شامل کرتے رہیے۔ ۔

4۔ زیادہ سے دینا شروع کریں اور خیرات کریں زیادہ دینے سے مثبت جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ فراخ دل بنیں، چھوٹے دل اور چھوٹے خیالات کہ مالک نا بنیں، اپنی سوچ وسیع کریں، محدود سوچ نا رکھیں!

5۔ اور آخری مگر اہم بات یہ ہے کہ اپنے آپ کو بے جا غرور، جھوٹے فخر، اپنے ذاتی نمود و و نمائش اور اپنی پرستش کے اعلیٰ گھوڑے سے اتر جائیے ہمیشہ پوچھیے، پہل کیجیے، آپ کو انکار بھی ہو سکتا ہے اور آپ شدید طرح سے ٹھکرائے بھی جا سکتے ہیں لیکن وہ انکار اور ٹھکرائے جانا آپ کو صحیح راستہ اور طریقہ سکھا جائے گا اگلی بار کے لیے تاکہ اس کو صحیح طریقے سے کیسے حاصل کیا جائے۔

ٹھکرائے جانے اور مسترد ہونے میں بھی ایک گہری حکمت چھپی ہے آپ میں مسترد ہو کر یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک دن میں ضرور آپ لوگوں کو کو غلط ثابت کر کے دکھاوں گا جب آپ مجھے مسترد اور رد نا کر سکیں۔

میرے راستے میں جب بھی ایسی چیز آتی ہے کہ جب مجھے مکمل مسترد کر دیا جاتا ہے اور تو میں ایسے لوگوں سے لڑائی

یا جنگ نہیں کرتا بلکہ مزید ہمت کرتا ہوں اور زیادہ سے زیادہ کوشش کرتا ہوں کہ اسے حاصل کر سکوں۔ مسترد ہونا اور رد کیا جانا ایک ایسی مخالف ہوا ہے جو آپ کو اونچی اڑان میں بہت مدد کرسکتی ہے اگر آپ اسے اس زاویے سے مثبت طور پر دیکھیں تو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •