نظریے کی قیمت 50 والا اسٹامپ پیپر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 آج کل پاکستان میں اسٹامپ پیپر کا ذکر بہت زور و شور سے جاری ہے آخر ہو بھی کیوں نہ! یہ کوئی عام اسٹامپ پیپر تھوڑی ہے جو کسی غریب کی بھوک، افلاسی کی طرح نظر انداز کر دیا جائے۔ اس اسٹامپ پیپر کے پیچھے تو اک نظریہ تھا، اک تحریک تھی، کچھ کر گزرنے کا جذبہ تھا۔ بلند و بانگ دعوی تھے۔ نیلسن منڈیلا کی طرح جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے کا جذبہ تھا۔ چی گویرا کی طرح سب کچھ لٹا دینے کی تڑپ تھی۔

جیالوں کو بھٹو ملنے کی تڑپ تھی۔ پنجاب کی دھرتی کو انقلابی سپوت ملنے کی امید تھی۔ فضل الرحمن کو زیادہ نہیں اسلام آباد میں بنگلہ ملنے کی امید تھی۔ اور تو اور جماعت اسلامی کے بھی ساڑھے پانچ سو کارکنان سپنے سجائے بیٹھے تھے۔ لیکن ملا کیا! 50 روپیہ کا اسٹامپ پیپر۔ ان لوگوں کی ساری دنیا صرف اسی ہی پیپر میں لپیٹی گئی۔ لیکن یہ لوگ اب بھی خوش ہیں اور خوش فہمی میں مبتلا ہیں جیسے ستر سالوں سے بھوک، جہالت، دہشت گردی برداشت کر کے بھی ان کے سر پر جوں تک نہ رینگی تھی اب بغض عمران میں یہ سب کچھ بھولائے بیٹھے ہیں۔

یہ بھول گئے میاں جی نے جیل میں ہی عمر گزارنے کا عزم کیا تھا۔ ضمانت نہ مانگنے کا عزم کیا تھا۔ پاکستان میں ہی علاج کروانے کا عزم کیا تھا۔ لیکن ان کو کہاں یہ سب کچھ یاد رہتا یہ تو منہ پر پڑنے والے طمانچے اور بحثیت قوم ہمارے منہ پر لگنے والی کالک کو بھی پس پشت ڈال دیا کہ اس اسٹامپ پیپر پر ضمانت دینے والا وہ شخص ہے جس کی پنجاب پر حکومت رنجیت سنگھ کے بعد سب زیادہ عرصہ قائم رہی اور جس کے لیے ضمانت دی جارہی ہے وہ شخص تین دفعہ اس مملکت خداداد کا وزیر اعظم رہا۔

معاملہ کیا ہے جی! علاج کروانے بیرون ملک جانا ہے پاکستان میں علاج کی سہولت نہیں۔ ایسے ملک میں بچوں کا کتے کے کاٹنے کی ویکسین نہ ہونے کا سبب مرنا کوئی حیرانگی کی بات نہیں۔ کیونکہ اس ملک پر ستر سال سے جانوروں کی ہی تو حکومت رہی ہے چاہے وہ جمہوریت کی شکل میں ہوں یا آمروں کی شکل میں۔ اور لوگ ہمیشہ ٹرک کی بتی کے پیچھے لگتے آئے ہیں جس طرح آج پچاس روپے کے اسٹامپ پیپر سے ملنے والی ذلت کو بھول گئے۔ بھول گئے ضمانت دینے اور لینے والے دونوں اشخاص صاحب اقتدار رہے ہیں۔

ان لوگوں کو آج یاد ہے تو عمران خان اور اس کی کے دعوے اور اس کی حکومت کا پہلا سال اور سال کے 365 دن انگلیوں پر۔ مجھے خوش ہوئی تھی چلو یہ لوگ اب سے حکومت کے اک اک دن اور لیڈران کی اک اک بات کو یاد رکھنے لگی ہے۔ لیکن جب پچاس والا اسٹامپ پیپر سامنے آیا میری یہ خوش فہمی ختم ہوگئی۔ یہ لوگ بھول چکے تھے تحریک کو نظریے کو سول سپریمسی کو نیلسن منڈیلا کو چی گویرا کو۔ بس ان کو یاد رہا عمران خان۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •