کیا یہ بچہ آپ کے شوہر ہی کا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ آج سے پورے اٹھائیس برس پہلے کی بات ہے۔ مجھے امریکہ آئے ہوئے ایک سال ہوا تھا۔ وہ 27 اور 28 نومبر 1991ء کی درمیانی شب تھی جب ہمارے یہاں ایک نئے مہمان کی آمد کے آثار ظاہر ہوئے۔ میں نے متعلقہ شعبے کی نرس کو فون کیا۔ اس نے کیفیت پوچھی اور فوراً اسپتال آنے کا مشورہ دیا۔ میرے پہلے دو بچوں کی پیدائش چونکہ اپنے وطن میں ہوئی تھی اس لئے مجھے امریکہ کے ہسپتال کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ یہ دن امریکہ کے دوسرے بڑے تہوار ”تھینکس گونگ“ (Thanksgiving) کا دن تھا۔

 اور ہمارے لئے یہ یوم تشکر یوں بھی ثابت ہوا کہ خدا نے ہمیں اس دن ایک اور بیٹی عطا کی۔ (یاد رہے کہ امریکہ میں سال میں صرف دو بارعام تعطیل ہوتی ہے۔ ایک ”Thanksgiving“ پر اور دوسری(Christmas)  کرسمس کے موقع پر۔ تھینکس گونگ کا تہوار ہر سال نومبر کی چوتھی جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ یوں جمعرات سے اتوار تک یعنی چار دن کی لمبی چھٹی ہوتی ہے۔ جو یہاں کے عام آدمی کے لئے عیاشی کا درجہ رکھتی ہے۔) دوسرے دن صبح کے وقت جو ڈاکٹر راؤنڈ پر آیا اس نے میرا حال پوچھا اور مسکراتے ہوئے اطلاع دی کہ آ ج کسی وقت آپ کو ڈسچارج کردیا جائے گا۔

 ڈاکٹر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آپ کی بچی بھی تندرست ہے۔ لیکن اسے ہم ابھی ڈسچارج نہیں کرسکتے۔ وجہ یہ ہے کہ نومولود بچے کے کچھ لیباریٹری ٹیسٹ لازمی ہوتے ہیں۔ چونکہ لانگ ویک اینڈ ہے اور لیباریٹری پیر کے روز ہی کھلے گی لہذا چار دن بعدہی آپ اپنا بچہ لے جا سکتے ہیں۔ ہاں آپ بچے کودیکھنے اور بحیثیت ماں اس کی کچھ فطری ضرورت پوری کرنے کے لئے جب چاہیں ہاسپٹل کی نرسری تشریف لا سکتی ہیں۔

اس خبر نے مجھے اداس کردیا۔ بھلا یہ بھی کوئی بات تھی کہ آپ گھر جائیے اوربچہ ہمیں دے جائیے۔ اپنا ملک ہوتا تو ہم مارنے مرنے کو تیار ہوجاتے۔ یہاں مرتا کیا نہ کرتا۔ اب ہم علامہ اقبال کے بلبل کے مصداق۔ بستر پہ اداس بیٹھے تھے۔ میاں نے ہماری اداسی کے پیش نظرہمیں نرسری کی سیر کی دعوت دی۔ کمرے سے نکل کر میں نے کوریڈور پر نگاہ کی تواسپتال بقول ہماری نانی اماں کے بھائیں بھائیں کررہا تھا۔ میرا امریکہ کے بڑے ہسپتال کا یہ پہلا تجربہ تھا۔

 سوچا مہذب لوگوں کا ملک ہے یہاں کے اسپتالوں میں شاید ایسا ہی سناٹا ہوتا ہوگا۔ یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ سب سے بڑے ہالی ڈے کا سناٹا ہے۔ کویڈور میں ہم آگے بڑھے تو دیوار کے اوپرلائن سے دوہرے شیشے کی ساؤنڈ پروف کھڑکیاں تھیں۔ شیشے کے اس طرف نرسری میں دو نہایت فربہ، سیاہ فام نرسوں کی نگرانی میں نومود بچے اپنے اپنے پنگوڑوں میں آرام کر رہے تھے، دودھ پی رہے تھے یا کنمنا رہے تھے۔ شیشے کے اس طرف سے میں نے دیکھا۔

 سارے نومولود بچے ایک جیسے لگ رہے تھے! حتیٰ کہ میرے لئے اپنے بچے کی شناخت مشکل تھی۔ اس پل مجھے حیرانی یہ تھی کہ ان سب کی رنگت ایک کیوں کرہے۔ ؟ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ نومولود بچوں میں گورے کالے کی تفریق مشکل ہوتی ہے۔ اس لمحے مجھے ڈر بھی لگاکہ اس طرح بچے بدل بھی توسکتے ہیں۔ ! میرے لئے یہ احساس بہت دل دکھانے والا تھا کہ مجھے اپنی بچی کو یہاں چھوڑ کر جانا پڑے گا۔ میں اپنے بیڈ پر واپس آئی تو ایک شخص ہاتھ میں ڈسچارج پیپر لئے ہوئے داخل ہوا۔

 اس نے اپنے تعارف میں نرس کا لفظ استعمال کیا۔ ہمارے ذہن میں نرس سدا سے مونث تھی، وہ مجاز کی نظم والی نرس ہو یا ہمارے ہسپتالوں کی خرانٹ نرس۔ لیکن یہاں ایک لمبا پورا مرد ہماری آنکھوں کے سامنے تھا جو خیر سے نرس تھی نہیں، تھا۔ اس نے میرے میاں کو ایک فارم بھی بھرنے کو دیا اور تاکید کی کہ فارم اچھی طرح پڑھ کر ان کے درست جواب دیے جائیں۔ وہ ہدایات دے کر چلا گیا۔ تو میں نے میاں کی طرف سوالیہ انداز سے دیکھا اور انہوں نے ہماری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ میل نرس تھا۔

 یہاں Male Nurse کی اصطلاح عام ہے۔ ابھی میں میل نرس (Male Nurse)کی اصطلاح پرغور کرہی رہی تھی کہ لنچ آگیا۔ لنچ کا ٹائم ختم ہوا تو ایک دوسرے صاحب نمودار ہوئے۔ ہم سمجھ گئے کہ یہ بھی میل نرس ہیں اور ہمیں ڈسچارج پیپر دینے اور ہم سے اپنا فارم وصول کرنے آئے ہیں۔ لیکن وہ میل نرس کے بجائے سوشل ورکر نکلے۔ جنہوں نے اس فارم کی طرف نگاہ اٹھاکر دیکھنا بھی گوارa نہ کیا جو کہ نرس صاحب ہمیں تھما گئے تھے۔

گو کہ سوشل ورکر صاحب بہت عجلت میں تھے۔ لیکن انہوں نے ہم دونوں سے باری باری مصافحہ کیا، اپنے گلے میں پڑا ہوا بلّا دکھاتے ہوئے اپنا تعارف کرایا۔ میری کلائی پر بندھے ہوئے بینڈ پر میرے نام اور میری تاریخ پیدائش کی تصدیق کی۔ یہ بھی تصدیق کی کہ میں انگریزی زبان سمجھ اور بول سکتی ہوں یا نہیں۔ اس طرف سے تسلی کر کے سوشل ورکر صاحب نے سب سے پہلے تو بچے کے والد ماجد کو کمرے سے باہر نکل جانے کا حکم دیا۔ پھرمیرے بیڈ کے گرد پردہ کھینچ کر میرے لئے مکمل تخلیہ فراہم کیا۔ یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ ہم دونوں کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ بس میں نے حیرانی کے عالم میں اتنا ہی پوچھا کہ تم نے میرے شوہر کو باہر کیوں نکال دیا۔؟ (حالانکہ میں کہنا تو یہ چاہ رہی تھی کہ اس بات پر تمہیں میرے شوہرکا ایک زور دارمّکا بھی پڑ سکتا تھا)

سوشل ورکرصاحب میرے سوال پر کمال شفقت سے مسکرائے اور فرمایا ”ہمیں آپ سے کچھ ذاتی سوال پوچھنے ہیں جوآپ کے شوہر کی موجودگی میں نہیں پوچھے جا سکتے“۔ کیا آپ جواب دینے کے لئے تیار ہیں؟ یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے وہ شخص اگاتھا کرسٹی کے کسی جاسوسی ناول کا کردار معلوم ہوا۔ وہ پہلے خوش دلی سے مسکرایا۔ پھر میرے قریب آکر سرگوشی کے انداز میں بولا۔ کیا یہ بچہ اسی آدمی کا ہے جواس وقت کمرے سے باہر ہے؟

اس کا یہ حملہ اتنا غیر متوقع تھا کہ مجھے اپنے کان میں سیٹیاں سی بجتی محسوس ہوئیں۔ میں نے بھونچکا ہوکر اسے دیکھا، بیڈ پر بالکل سیدھی بیٹھ گئی اور غّرا کر جواب دیا۔ وہ میرا شوہر ہے اور یہ فارم اسی نے بھرا ہے اور ولدیت کے خانے میں اسی کا نام لکھا ہے۔ میں نے سامنے پڑے ہوئے کاغذات کی طرف فخریہ اشارہ کیا۔

مجھے معلوم ہے، مجھے معلوم ہے۔ وہ تمہارا شوہر ہے۔ کل رات سے تمہارے پاس ہے اوراس فارم میں بچے کی ولدیت کے خانے میں اسی کا نام لکھا ہے۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تم اطمنان رکھو تمہارا شوہر اس وقت یہاں موجود نہیں ہے۔ تم بچے کے باپ کا جو بھی نام لکھوانا چاہو گی وہ  (confidential)مکمل صیغہ  راز میں رہے گا۔ تمہیں اس میں ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ریاست اس سلسلے میں تمہیں اور تمہارے بچے کو مکمل قانونی تحفظ اور راز داری کی ضمانت دیتی ہے۔ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے قلم اور کلپ بورڈ کی طرف یوں دیکھاجیسے اسے اپنے مطلوبہ جواب کا انتظار ہو۔ اس کی یہ بات سن کر مجھے بے اختیار ہنسی آگئی۔

اب وہ بستر کے ساتھ رکھے ہوئے اسٹول پر بیٹھ گیا تھا۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ میں یا تو اس کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہوں یا وہ اپنے موقف کو سمجھانے میں ناکام رہا ہے۔ اس نے مجھے سمجھانے کے انداز میں پھر کہا کہ ”وہ فارم جو تمہارے شوہر نے ہسپتال کے لئے بھرا ہے وہ اپنی جگہ ٹھیک ہے اور ہسپتال کے ریکارڈ میں وہی دکھائی دے گا۔ میرا اس اسپتال اور اسپتال کے عملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ہماری قانونی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ہم ہر ماں سے، اگر وہ بتانا پسند کرے تو، اس کے بچے کے بایو لوجیکل باپ کا نام معلوم کریں جسے مکمل صیغہ راز میں رکھا جائے۔  ماں اوربچے کے طویل تر مفاد کی خاطرریاست ماں کو یہ حق دیتی ہے۔ کیوں کہ ماں کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ بچہ کس کا ہے! چنانچہ یہ جاننا ہماری ذمہ داری بھی ہے اور فرض بھی کہ کیا یہ بچہ آپ کے شوہر ہی کا ہے؟“

میں اس کے آخری جملے پر چونک اٹھی۔ مجھے احساس ہوا کہ میں خواہ مخواہ اس سے الجھ رہی ہوں۔ میں نے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ لاتے ہوئے اس کی کارکردگی کی تعریف کی، اس کا شکریہ ادا کیا اوراسے یقین دلایا کہ میں کسی دباؤ میں نہیں ہوں۔ اس سارے مکالمے میں بمشکل پانچ سات منٹ ہی صرف ہوئے ہوں گے لیکن میں ان چند لمحوں میں ایک بہت بڑے کلچرل شاک سے گزری تھی۔

میاں کمرے میں داخل ہوئے تو میں نے انہیں وہ قصہ تفصیل سے سنایا۔ انہوں نے صبر سے میری پوری بات سنی اور اطمنان سے کہا۔ اس میں خفا ہونے کی کیا بات۔ بھئی وہ تو اپنی قانونی ذمہ داری پوری کرنے آیا تھا۔ اخلاقیات کا سبق پڑھانے تھوڑی آیا تھا۔ تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ کہیں تو انسانی حقوق کی بالا دستی ہے۔ اورخاص طور پر عورت کے حقوق کی بات ہورہی ہے۔ کمال ہے حقوق نہ ملنے پر تو عورت ناراض ہوتی ہی ہے لیکن حقوق ملنے پر اور زیادہ ناراض ہوتی ہے۔

میاں کے اس تبصرے پرمیں ذرا سا سنبھلی۔ میں نے کہا۔ آدمی ویسے بھلا تھا۔ لیکن اس نے جس طرح آپ کو کمرے سے نکالا تھا نا۔ اس پر میرا بڑا دل دکھا تھا۔ ہاں! ۔ میاں نے جواب میں کہا واقعی! ۔ اور پھر ہم دونوں دیر تک ہنستے رہے۔ ۔ آج اس بات کو پورے اٹھائیس سال ہوگئے ہیں لیکن ہر سال جب بھی تھینکس گونگ کا تہوار آتا ہے۔ تواس واقعے کو یاد کرکے میں اسی طرح حیران ہوتی ہوں۔ پھر ہم اسی طرح ہنستے ہیں۔ شاید میں ابھی تک اس کلچرل شاک سے باہر نہیں آئی ہوں۔ !

28 نومبر 1994، ہیوسٹن میں سردار جعفری اور فاطمہ جعفری کیک کاٹتے ہوئے۔ پیچھے سلطانہ چاچی (سلطانہ جعفری) اور ہم سب۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •