نواز شریف کو عمران خان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا
اگر آپ پچھلے پانچ سال کے دوران پاکستان کے سیاست میں ہونے والے واقعات کا یک طرفہ ہوئے بغیر تجزیہ کریں تو آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ عمران خان نے ہر مشکل موقع پر نواز شریف کی مدد کی، جس پر نواز شریف کو جانے سے پہلے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا۔
سیاست میں بند گلی میں جانے کی گنجائش نہیں ہوتی لیکن نواز شریف ہو یا عمران خان، سب ہی غلطی کر جاتے ہیں۔ ارسطو کی بوطیقا کے مطابق ہیرو اپنے کسی کرکٹر فلو character flaw کی وجہ سے کسی مصیبت میں پھنستا ہے اور ایک tragic end کی طرف بڑھتا ہے۔ لیکن کیا کریں کہ جب نواز شریف اور ان کی پارٹی کسی بڑے پروجیکٹ کی طرف بڑھنے لگتی ہے تو عمران خان ایک سپورٹنگ ایکٹر supporting actor کے طور پر سامنے آتے ہیں اور انہیں بچا لیتے ہیں۔
2013 کے الیکشن میں نون لیگ نے برتری حاصل کی اور حکومت بنانے میں کامیاب رہے۔ دوسری طرف عمران خان تحریک انصاف کو ملک کی دوسری پارٹی بنانے میں کامیاب رہے۔ پیپلزپارٹی کا میں یہاں یوں بھی تذکرہ نہیں کر رہا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ اب اس بات کو تسلیم کرچکے ہیں کہ ان کی پارٹی سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ شاید اسی لیے انہوں نے 2013 اور 2018 کے الیکشن میں سندھ حکومت ملنے کے بعد کسی دھاندلی مخالف دھرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لیا۔
2013 کے الیکشن کے بعد بھی نواز شریف کا وہی رویہ رہا جو ان کے پچھلے ادوار میں دیکھا گیا۔ نواز شریف نے خود کو بادشاہ سمجھا اور اداروں سے ٹکراؤ کو ایک فریضے کے طور پر انجام دیا۔ جو صورت حال آج ہے بالکل ایسی ہی 2014 میں نواز شریف کی حکومت کو درپیش تھی۔ وزراء اس وقت بھی اپنی ایک سالہ کارکردگی بتانے میں ناکام تھے۔ 2014 میں نواز شریف سے ان کے اپنے نمائندے اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ہی ناراض تھے۔ نون لیگ کے وزرا اور نمائندوں کی ناراضی کی وجہ نواز شریف کا ان کو ٹائم نہ دینا تھا اور دوسری طرف اداروں سے ٹکراؤ بھی نون لیگ کے لیے ایک خطرہ تھا۔ یہ خدشہ تھا کہ 2015 تک نواز شریف اپنی مقبولیت کھو دیں گے، نون لیگ میں فاروڈ بلاک بن جائیں گے، اور ملک میں مڈٹرم الیکشن ہو جائیں گے۔
لیکن عمران خان نے نواز شریف اور ان کی پارٹی کو بچانے کا ارادہ کیا اور آزادی مارچ کا اعلان کردیا۔ چار ماہ تک چلنے والا دھرنا نوں لیگ کے لیے کافی پریشان کن تو رہا لیکن اس میں ایک مثبت پہلو یہ بھی تھا کہ نواز شریف کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے اپنی پارٹی کے وزراء، قومی اور صوبائی نمائندوں سے رابطے تیز کیے اور اپنی پارٹی کو ٹوٹنے سے بچایا۔ وہ بادشاہ کی کرسی سے نیچے اترے۔ تھوڑا عوام کے قریب گئے اور تھوڑا اداروں کے۔
یہاں یہ بات بھی درست ہے کہ ”گو نواز گو“ کے نعروں نے شریف فیملی کو اسلام آباد سے لندن تک پریشان کیا۔
لیکن جناب، پاکستان کی سیاست کو سمجھنے کے لئے ہمیں حسن نثار کا یہ شعر سمجھناہوگا۔
شہر آسیب میں آنکھیں ہی ہی نہیں کافی
الٹا لٹکو گے تو پھر سیدھا دکھائی دے گا
عمران خان نے نواز شریف کی دوسری مدد 2018 کے الیکشن کے بعد کی۔ وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان نے ہر تقریر میں نواز شریف کو یاد رکھا اور ”این آر او نہیں دوں گا“ کی صدائیں لگائیں۔ نیوٹن نے کہا تھا کہ آپ کے ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے۔ جب جب عمران خان نے یہ بات کی کہ ”این آر او نہیں دوں گا“ تب میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ اس ملک میں عدالت، انصاف، سزائیں، کچھ حیثیت نہیں رکھتی اور جب چاہے کوئی نا اہل ہو سکتا ہے یا این آر او پا سکتا ہے۔
عوام کے لئے نواز شریف کی اربوں کی کرپشن کی داستان بھی تحریک انصاف کی ایک سال کی بری کارکردگی کے آگے ماند پڑ گئی۔ قرض بھی لیے گئے، نئے ٹیکس بھی لگائے گئے، لیکن مہنگائی کم نہ ہوئی اور یہ کہنے پر عوام مجبور ہوگی کہ اس سے اچھی تو ”ان چوروں کی حکومت تھی“۔
عمران خان نے اپنی تقریروں میں نواز شریف کو زندہ رکھا اور دوسری طرف بزدار نے عوام کو شہباز شریف کو یاد کرنے پر مجبور کیا۔ نواز شریف نا اہل ہوئے، سزا پائی، لیکن آج؟ وہ جیل سے رہا بی ہوئے اور ملک سے باہر چلے گئے۔ دوسری طرف 300 ارب کی داستان 50 روپے کے اسٹام پیپر پر ختم ہوئی۔
شریف فیملی کچھ سالوں میں واپس بھی آئے گی اور عوام کو یہ یقین دلانے میں شاید کامیاب بھی ہو جائے کہ نواز شریف کی نا اہلی کسی کرپشن کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک انتقامی فیصلہ تھا۔
عمران خان نے نون لیگ کے مستقبل کی تاریخی میں ایک امید کی کرن تو روشن کر دی لیکن تحریک انصاف کے مستقبل کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
اب تو چیف جسٹس سپریم کورٹ نے بھی کہہ دیا ہے
”نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت وزیراعظم نے خود دی“
جس پر میں سمجھتا ہوں نواز شریف کو عمران خان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا!


