ہمارے محافظوں کا اللہ ہی حافظ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا کے مہذب معاشروں میں پولیس کا نام سنتے ہی احساس تحفظ اور جرائم پیشہ افراد میں گرفتاری کا خوف پیدا ہو جاتا ہے۔ مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیائے فانی میں ایک ایسا ملک ہے جہاں یہ فطری نظام بالکل الٹ دکھائی دیتا ہے۔ جس معاشرے میں ہم پروان چڑھے ہیں اس میں شریف اور عزت دار آدمی آج بھی تھانے کے نام سے ڈر، خوف اور بے عزتی محسوس کرتا ہے۔ ایک بار اندازہ لگائیں کہ آپ کو کسی جائز کام کے لئے تھانے جانے کا کہا جائے تو تھانے داخل ہونے سے پہلے کوئی مضبوط سفارش آپ کی اولین ترجیح ہو گی۔ اور اس کے بعد تھانے دار صاحب جائز کام بھی احسان سمجھ کر کریں گے۔ جبکہ دوسری جانب معاشرے کے جرائم پیشہ اور مفاد پرست افراد انہی تھانوں میں دندناتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے لہجوں میں اطمینان اور غرور بھی موجود رہتا ہے۔

ہو بھی کیوں نہ ”تھانے دار سے یاری سب پر بھاری“ یہ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ زندگی بھر ہم اپنے محافظوں کو غریب پر ظلم اور طاقتوروں کی حفاظت کرتے دیکھتے آئے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج تھانے دار کا نام ذہن میں آتے ہی موصوف کا خاکہ کچھ یوں تیار ہوتا ہے کہ کوئی بڑی بڑی مونچھوں اور لال آنکھوں والا ساڑھے سات فٹ کا ایک خوفناک ترین شخص ہو گا جو دیکھتے ہی ہمیں یا تو اندر دے مارے گا یا پھر ہو سکتا ہے کہ جان سے ہی مار دے۔

یہ سوچ بچپن ہی ہماری نسوں میں بھر جا چکی ہے اور اس کا ذمہ دار جتنا محکمہ پولیس ہے اتنا ہی معاشرے کا ہر فرد بھی۔ محکمہ پولیس میں موجود کالی بھیڑوں نے ایسی ایسی مثالیں پیش کی ہیں کہ روح تک کانپ جاتی ہے۔ اگر ہم ماضی قریب کی ہی مثال لین تو پولیس کے ہاتھوں مثال بننے والے صلاح الدین نام سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے۔ جو اے ٹی ایم مشین سے چھیڑ چھاڑ کے دوران اس میں لگے سیکیورٹی کیمرے سے چھپنے کی بجائے اس کی طرف رخ کر کے منہ چڑاتا تھا۔ لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ اس بے ضمیر معاشرے میں اس کی یہ حرکت اسے موت کی دہلیز پر پہنچا دے گی۔ قصہ مختصر یہ کہ صلاح الدین رحیم یار خان میں ہجوم کے ہاتھوں پکڑا گیا۔ اور ہجوم کے انصاف سے گزرتا ہوا یہ پنجاب پولیس کے نرغے میں آ گیا۔

پنجاب پولیس کے شیر جوانوں نے اس کی زبان کھلوانے کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا۔ اور اس غریب پر اتنا تشدد کیا کہ یہ حوالات میں ہی زندگی کی بازی ہار گیا۔ اپنی فرعونیت پر ماتم کرنے کی بچائے یہ وقت کے خدا صلاح الدین کی موت کو دل کا دورہ قرار دیتے رہے۔ صلاح الدین اس بے حس معاشرے کی اس حقیقت پر مہر لگا گیا کہ پاکستان میں قابل سزا صرف غریب ہی ہوتا ہے۔ چاہے اس نے ڈبل روٹی ہی کیوں نہ چرائی ہو۔ ہمارے شیر جوان پولیس اہلکار امیر اور طاقتور کو کبھی ہتھکڑی لگانے کی جرات اور کمزور اور غریب پر رحم کی غلطی نہیں کر سکتے۔

ایک اور واقعہ بھی ملاحظہ فرمالیں جہاں لاہور کے تھانہ شمالی چھاؤنی میں تھانیداروں کے تشدد نے نوجوان عامر مسیح کو بھی موت کی وادی میں پہنچا دیا جس پر اس کے مالک نے موبائل چوری کا الزام لگایا تھا۔ مگر اتفاق سے پولیس کے مطابق اسے بھی دل کا دورہ ہی پڑا جبکہ نا جانے کیوں عامر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ تشدد آئی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے نظام پر ماتم کرنے کی بجائے اور کیا کیا جا سکتا ہے جہاں وڈیروں کی ڈالی ہوئی ہڈیاں کھانے کے بعد جعلی پولیس مقابلوں میں غریب کو پار لگا دیا جاتا ہے۔

ایسے واقعات کو دیکھنے اور سننے کے بعد افسوس کیا جاتا ہے کہ ہم ایسے بدبو زدہ معاشرے کا حصہ ہیں جہاں ہمیں خود کا اور اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کا کوئی اندازہ ہی نہیں۔ اگر معاشرے کی بات کی جائے تو معاف کیجئے گا ہمارے معاشرے کا تو کوئی سر پیر ہے ہی نہیں۔ بات جب ہم پر آتی ہے تو ہمیں اس کا درد محسوس ہوتا ہے اور اگر دوسرے کو اسی درد میں دیکھیں تو ایک اچھا تماشا دیکھنے کو مل جاتا ہے۔

ایسے معاشرے میں پھر ایسے ہی دل کے دورے پرا کرتے ہیں۔ کیوں کہ پولیس کو بدلنا تو اب ایک خواب ہی لگتا ہے۔ موجودہ حکومت جو کہ تبدیلی اور خاص کر پولیس کی تبدیلی کا نام لے کر اقتدار میں آئی تھی وہی آج اس ناکامیوں کی پستیوں میں دکھائی دیتی ہے۔ کیونکہ محکمہ پولیس کے ہاتھوں انسانیت کی موت کے عظیم واقعات اسی حکومت کے ماتھے کا جھومر ہے۔ جس میں سانحہ ساہیوال سرفہرست ہے۔ جبکہ صلاح الدین اور عامر مسیح تو مختلف تمغوں میں سے ایک تمغہ ہے۔

موجودہ حکومت نے تھانہ اور تھانے دار کلچر تبدیل کرنے کی انتھک کوشش کی مگر پولیس اصلاحات کے لیے جن کا نام سنتے کان تھکتے تھے موصوف ناصر خان درانی صاحب کام شروع کرنے سے پہلی ہے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ جس کی وجہ آئی جی پنجاب محمد طاہر خان کو عہدے سے ہٹانا بنی۔ محمد طاہر خان بزدار حکومت کے پہلے تعینات کردہ آئی جی تھے جنہیں محض دوماہ بعد ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جس کے ساتھ ہی ناصر خان درانی کا پولیس ریفامز اور اصلاحات کا سفر بھی شروع ہونے سے پہلے اختتام پذیر ہو گیا۔

خیر کوئی نہیں محمد طاہر خان کے بعد امجد جاوید سلیمی کو آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا پولیس سربراہ نے محکمہ کو سر سے پاؤں تک بدلنے کے عزم کا اظہار کیا جس سے پنجاب پولیس کے ساڑھے تین لاکھ اہلکار اور افسران بھی انتہائی خوش دکھائی دیے کیوں کہ امجد جاوید سلیمی کا پہلا اقدام اہلکاروں کو ان کے ضلع میں ہی تعینات کرنا اور اہلکاروں کے اوقات کار کی پابندی پر عمل درآّمد کروانا تھا مگر چند روز بعد انہیں بھی تبدیل کر کے نئے آئی جی عارف نوازخان کو پنجاب پولیس کا سربراہ تعینات کر دیا گیا۔

اور پھر محکمہ پولیس کے رفارمز اور تبدیلی کے غبارے سے ایسی ہوا نکلی کہ یہ تبدیلی اب محض ٹرانسفر پوسٹنگ تک محدود ہو کر رہ چکی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ تنقید کرنا آسان ہے مگر تنقید وہیں کی جاتی ہے جہاں خامیاں دکھائی دیں۔ آئی جی پنجاب عارف نواز بھی بحثیت سربراہ پنجاب پولیس محکمے کا قبلہ درست کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات تھانوں کے چکر لگاتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ مگر اصل اصلاحات تھانوں میں چکر لگانے سے نہیں بلکہ تھانے دار کی نفسیات سمجھنے سے مشروط ہے۔

پولیس فنڈز کے درست استعمال کی ضرورت ہے تا کہ اس سے انویسٹیگیشن اور آپریشن کے اخراجات پورے ہو سکیں اور کیس کی تفتیش کا بوجھ غریب مدعی پر نہ ڈالا جائے۔ اہلکاروں کی ڈیوٹی آٹھ گھنٹے کرنے کی ضرورت ہے تا کہ وہ حاضر دماغی کے ساتھ ڈیوٹی کے دوران سائیلین سے اچھے اخلاق سے پیش آئیں“ پولیس اہلکاروں کی سزا اور جزا کے عمل کو شفاف اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تا کہ انہیں جزا کی امید اور سزا کا خوف موجود رہے۔ دوسری جانب معاشرے کے ہر فرد کو بھی اپنے حقوق اور فرائض سے واقف ہونا پڑے گا۔ اسی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شمار بھی مہذب معاشروں میں ہو سکے گا“ ہمارا آج کا عمل ہمارے بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرے گا۔ ورنہ سانحہ ساہیوال، صلاح الدین اور عامر مسیح جیسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
علی چوہدری کی دیگر تحریریں