میرے پاس بیجنگ ہے – مکمل کالم
”آج میرے پاس مجسمہ آزادی ہے، ٹائم اسکوائر ہے، ہالی وڈ ہے، ڈالر ہیں، فورڈ کار ہے، پلے بوائے ہے۔ ۔ ۔ تمہارے پاس کیا ہے ؟ “
”میرے پاس بیجنگ ہے! “
نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ 1972 میں جب صدر نکسن کی ماؤزے تنگ سے ملاقات ہوئی ہوگی تو دونوں صاحبان کے درمیان اِس قسم کا مکالمہ ضرور ہوا ہوگا۔ آج سے چھ سال قبل جب میں بیجنگ آیا تھا تو یہاں قیامت خیز گرمی تھی، جس دن سورج سوا نیزے پرتھا اُس دن ہمارے میزبانوں نے ہمیں شہر ممنوع کی سیر کروائی جس کے بعد مجھے چہرے پر ایسی الرجی ہوئی کہ پورا منہ سرخ ہو گیا، رہی سی کسر یہاں کے کھانوں نے پوری کر دی اور میں بیمار پڑ گیا، ایسے میں تو لاس ویگاس بھی زہر لگتا، بیجنگ پر غصہ قدرتی تھا، سوہر آنے جانے والے کو یہ قصہ سنایا کہ بیجنگ سے ذرا بچ کے۔
اِس مرتبہ موسم نہایت رومانوی تھا، نومبر کے پہلے ہفتے میں بیجنگ سُرخ اور زرد ٹہنیوں سے یوں ڈھکا ہوا تھا جیسے کوئی دلہن حجلہ عرسی میں سمٹ کر بیٹھی ہو۔ اب دسمبر کی آمد آمد ہے، کبھی کبھی درجہ حرارت منفی سات کو چھو جاتا ہے اورٹھنڈ ایسی شدید ہو جاتی ہے کہ سورج بھی بے بس لگتاہے۔ درختوں کی شاخوں سے پتے جھڑ چکے ہیں۔ دلہن اب شب خوابی کے لباس میں ہے۔
لوگ کہتے ہیں دیوار چین دنیا کا عجوبہ ہے، یہ ایک غلط فہمی ہے، دراصل اکیسویں صدی کا چین دنیا کا عجوبہ ہے۔ پچھلے تیس چالیس برسوں میں جیسے اور جتنی ترقی چین نے کی اِس کی شاید ہی کوئی دوسری مثال حالیہ تاریخ میں ملے۔ ایک ایسا ملک جہاں غربت ہو، بھوک ہو، لوگ فاقوں مرتے ہوں، شہروں میں خاک اُڑتی ہو، سائیکل پر سفر کرنا سہولت اورموٹر سائیکل عیاشی سمجھی جاتی ہو، وہ ملک اگر تیس سال میں غربت کو شکست دے ڈالے، لوگوں کے دلوں سے بھوک کا ازلی خوف مٹا دے، شمال سے جنوب تک میں سڑکوں اور پلوں کا جال بچھا دے، اپنے شہروں میں آسمان سے باتیں کرتی ہوئی عمارتیں کھڑی کر دے، چپے چپے پر شاپنگ مالز آباد کردے اور ایک چنگھاڑتی ہوئی معیشت کے ساتھ دنیا کی سپر پاور کو آنکھیں دکھانے لگے تو اسے معجزہ نہیں تو اور کہیں گے!
میں نے چین میں اندرون منگولیا جیسا پسماندہ صوبہ بھی دیکھا ہے اور بیجنگ کے بغل میں تن جن شہر بھی جہاں تیز رفتار ٹرین آپ کو پچیس منٹ میں پہنچا دیتی ہے، دونوں میں ترقی کا فرق ضرور ہے مگر اندرون منگولیا تک مکمل انفراسٹرکچر موجود ہے، بنیادی سہولتیں دستیاب ہیں، البتہ تن جن جیسے اسکائی سکریپر نہیں ہیں۔ تن جن جیسے نہ جانے کتنے جدید شہر چین نے بنا ڈالے ہیں جہاں 1980 میں ایک ڈھنگ کی مارکیٹ نہیں ہوتی تھی، آج اِن شہروں میں ایسے شاپنگ پلازے بن چکے ہیں جن کے اندرسب وے سٹیشن موجود ہوتا ہے
اور ایسی چہل پہل اور چکا چوند نظر آتی ہے کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ اِس جگ مگ کرتے چین کا کوئی بزرگ اگرآج اپنے دس برس کے پوتے کو بتائے کہ یہ وہی ملک ہے جہاں سن ساٹھ میں ڈیڑھ کروڑ لوگ قحط سے مر گئے تھے تو یقینا برخوردار سمجھے گا کہ دادا جان مذاق کررہے ہیں۔
کسی بھی ملک کی ترقی کی کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی، تھائی لینڈ کی مثال لے لیں، اِس ملک کی آبادی بھی کم نہیں، جمہوریت بھی ہڈیوں کا ڈھانچہ ہے، ملک میں فوجی آمریت ہے، کرپشن کی داستانیں عام ہیں، ہماری ہی طرح کے رونے ہیں مگر معیشت ہم سے بہتر ہے، ان کا فی کس جی ڈی پی ساڑھے چھ ہزار اور ہمارا پندرہ سو ڈالر ہے۔ دنیا کے ہر بڑے شہر سے بنکاک کے لیے پرواز آتی ہے، ہوائی اڈے سے شہر تک کے لیے بس اور زیر زمین ٹرین موجود ہے، بنکاک دنیا کے پسندیدہ ترین شہروں میں سے ایک ہے اور اِس کی وجہ سیاحت کی انڈسٹری ہے، بلاشبہ یہ عیاشی کے لیے مشہور ہے مگر یہ تھائی لینڈ کا صرف ایک روپ ہے، یہاں یورپی سیاحوں کو وہ سارا ماحول ملتا ہے جن کی انہیں ضرورت ہوتی ہے سو وہ بلا دھڑک پیسے لٹاتے ہیں۔
ادھر اپنا اسلام آباد کا نیا ہوائی اڈہ بنا ہے، یہ شاید دنیا کے کسی دارالحکومت کا واحد ائیر پورٹ ہے جہاں سے شہر یا بس ٹرمینل جانے کے لیے سوائے ذاتی گاڑی یا ٹیکسی کے کوئی تیسری صورت نہیں۔ سیاحوں کے باقی مسائل کا تو ذکر ہی فضول ہے۔ چین واپس آتے ہیں، یہاں کی معاشی ترقی میں اُس کی آزاد معیشت کی پالیسی کا ہاتھ ضرور ہے مگر یہ صرف ایک پہلو ہے، ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی میں جتنے لوگ معیشت چلانے کے لیے کام کرتے ہیں اُن میں تینتالیس فیصد عورتیں ہیں، کارخانوں میں، دفاتر میں، جامعات میں، دکانوں میں، ہر جگہ عورت بالکل مرد کی طرح کام کرتی ہے، الیکٹرک موٹر سائیکل چلاتی ہے اور بچے بھی پالتی ہے۔
ہمیں چین کی ترقی بہت پسند ہے، ملائشین ماڈل کی بھی دہائی دیتے پھرتے ہیں، سنگاپور کے عشق میں بھی مبتلا ہیں، ترکی کو بھی ہم اپنے دل کے بہت قریب رکھتے ہیں اور سکینڈینیوین ممالک کے بارے میں تو ہمیں یہ گمان ہے کہ وہاں اصل میں تو اسلامی نظام ہی نافذ ہے بس عوام اور حکمران کافر ہیں۔ دراصل ہماری مثال اُس نالائق شخص کی ہے جو اپنے سے قابل ہر بندے کابنگلہ گاڑی دیکھ کر رشک کرتا ہے کہ کاش یہ سب اُس کے پاس بھی ہو مگر اُس جیسی محنت نہ کرنی پڑے۔
چین کی ترقی کے نقش قدم پر چلنا کوئی بری بات نہیں مگر یہ شخصی یا سیاسی آزادیوں کی قیمت پر قابل قبول نہیں۔ پاکستان اور چین کے سیاسی اور سماجی حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے، چین میں 92 فیصد ہان نسل کے لوگ ہیں، آپ بیجنگ سے شنگھائی چلے جائیں یا شن جن سے گون زو آ جائیں، ایک نسل، ایک زبان، ایک قبیل کے لوگ ملیں گے، لہجے میں تھوڑا بہت فرق ہوگا مگر مجموعی طور پر چین ایک homogeneousمعاشرہ ہے، صوبے ہیں مگر حکومت unitaryہے۔
ادھر پاکستان میں بے شمار قومیتیں ہیں، اِن کے مختلف صوبے ہیں جو مل کر وفاق تشکیل دیتے ہیں، bicameralمقننہ ہے جس کا مقصد چھوٹے صوبوں کو نمائندگی دینا ہے لیکن الحمد اللہ ہم ڈنگروں کی ایسی ایک نسل تیار کر چکے ہیں جنہیں ان تصورات کے بارے میں سرے سے کوئی علم ہی نہیں۔ اوپر سے حکمران بھی ایسے نازل ہوئے کہ جنہوں نے یہ تجربہ بھی کرکے دیکھا کہ وفاق ختم کرکے ون یونٹ بنایا، نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا۔ پھر ہم نے ایک مدت تک ایمرجنسی کی آڑ میں شخصی اور سیاسی آزادیاں سلب کیے رکھیں مگر ترقی نام کو نہیں ہوئی، سویہ تمام شوق ہم پورے کر چکے ہیں۔
اب جن پڑھے لکھے آسودہ حال لوگوں کو چین کا ماڈل پسند ہے انہیں چاہیے کہ سب سے پہلے خود پر ایک تجربہ کریں، روزانہ بہترین کھانا کھائیں، اعلی لباس زیب تن کریں، مہنگی گاڑی میں سفر کریں مگر صرف ایک کام سے پرہیز کریں کہ زبان بند رکھیں، اللہ نے چاہا تو تین دن میں افاقہ ہو جائے گا، چینی ماڈل کا ذکر بھی نہیں کریں گے۔ اِس کا یہ قطعاً مطلب نہیں کہ چین کی تمام ترقی بیکار ہے، چین سے سیکھنے کی بات محنت، ہنر اور کام کی لگن ہے، اگر ہم یہ نہیں کر سکتے تو پھر دنیا کا ہر ماڈل ہمارے لیے بیکار ہے۔
کالم کی دُم: چین پر یہ میرا آخری کالم تھا، جتنے دن میں نے بیجنگ میں گذارے ہیں اتنے دنیا کے کسی دوسرے شہر میں نہیں گذارے، بیجنگ کی یاد آئے گی مگر اُس محبوبہ کی طرح جس سے بریک اپ کے بعد رابطہ کرنے کو دل نہیں کرتا۔
(ہم سب کے لئے خصوصی طور پر ارسال کیا گیا)

