معصوم نشئی جنت کا خواہش مند


کہانی ایک پاکستانی بدنامے زمانہ غریب نشئی کی ہے جو خود تو اپنے آپ کو ایک سادہ انسان تصور کرتا ہے مگر اس کے ارد گرد تمام مہذب محلے دار اسے اپنے جیسا مہذب انسان بالکل نہیں سمجھتے اور بعض لوگ تو اسے انسان سمجھنے سے بھی انکار کر چکے ہیں۔ وہ مجبور نشئی اپنے درجنوں قسم کے مختلف غموں کو بھلانے کے لیے چرس کا استعمال کرتا تھا اور جب غموں کی نوعیت میں تھوڑی کمی محسوس ہوتی تو اس خوشی کو چار چاند لگانے کے لیے شراب کا استعمال کرتا تھا۔

ایک دن معصوم نشئی ہمیشہ کی طرح اپنی چرس حاصل کرنے کے لیے قبرستان کے کونے کا رخ کرتا ہے جہاں اسے زمین پر پڑا ایک موبائل نظر آتا ہے، نشئی فوری طور پر اس موبائل کو سونے کی چڑیا سمجھ کر اٹھا لیتا ہے اور اپنی پینٹ کے اندر ڈال لیتا ہے اور اپنے غریب خانے کی طرف چل پڑتا ہے۔ یہ کیفیت معصوم غریب کے لیے عید سے بڑھ کر تھی، وہ گھر پہنچتے ہی اپنے ایک دوست سے رابطہ کرتا ہے جو موبائل کا استعمال کرنا جانتا ہے اور اسے اپنا موبائل دکھا کر کہتا ہے کہ یہ میں نے نیا موبائل خریدا ہے اور اب تم مجھے اسے استعمال کرنا سکھاؤ۔ نشئی کا دوست اسے یوٹیوب لگا کر دے دیتا اور کہتا ہے کہ یہاں تم جو دیکھنا چاہتے ہو وہ لکھ دو، تم اس کے بارے میں سب کچھ دیکھ سکتے ہو۔

یہ بات سن کر معصوم نشئی بہت خوش ہوتا ہے اور کافی وقت لگا کر سوچتا ہے کہ میں ایسا کیا دیکھوں جو کبھی نہیں دیکھا۔ بہت دیر بعد خیال آتا ہے کہ میں جنت دیکھنا چاہتا ہوں کیونکہ مجھ جیسے نشئی انسان کو کبھی جنت نصیب نہیں ہونے والی، کیونکہ جنت تو میرے معزز محلے دار اور رشتے دار جیسے لوگوں کو نصیب ہوگی۔

چونکہ جنت ابھی تک کسی نے نہیں دیکھی اس لیے یوٹیوب پر سوئٹزر لینڈ نامی ملک کھل جاتا ہے۔ جہاں کی حسین وادیوں میں حسین لوگ گھوم رہے ہوتے ہیں، چاروں طرف خوشیاں ہی خوشیاں نظر آرہی ہوتی ہیں اور خوش نصیب لوگ ان خوشیوں کو چار چاند لگانے کے لیے برانڈڈ مشروبات پی کر مزید لطف اندوز ہورہے ہوتے ہیں، ایسے پرسکون مناظر دیکھ کر نشئی سوچ رہا ہوتا ہے کہ خدا برانڈڈ پینے والوں کو شاید دیر سے بلاتا ہے جبکہ میری طرح دیسی پینے والے خدا کے پاس جلدی پہنچ جاتے، نشئی کی آنکھوں میں یہ تمام مناظر دیکھتے ہوئے آنسو آجاتے ہیں اور نشئی کے اندر ایک نئی امنگ جاگ اٹھتی کیونکہ نشئی کا ایمان تھا کہ ہر کتے کا دن آتا ہے۔

معصوم نشئی سوشل میڈیا کی مدد سے سوئٹزر لینڈ نامی جنت کے بارے میں معلومات جمع کرنا شروع ہو جاتا ہے۔ کئی دنوں کی دن رات محنت کے بعد سوشل میڈیا کی مدد سے معصوم غریب کا ایک سوئٹزر لینڈ کی حور سے رابطہ ہوتا ہے جسے وہ درخواست لکھ کر اپنی تمام پریشانیاں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ میں اپنی بقیہ زندگی آپ کی جنت میں گزارنا چاہتا ہوں، میں اپنی زندگی سے تنگ آچکا ہوں، جب مجھے اپنے غم بھلانے کے لیے چرس کی ضرورت ہوتی ہے تو مجھے کسی کچرا کنڈی یا قبرستان کے کونے میں جاکر منشیات فروش کو ڈھونڈنا پڑتا ہے، بہت محنت کے بعد چرس حاصل کر کے اپنی پینٹ کے اندر چھپا لیتا ہوں اور پھر کپ کپاتا ہوا اپنے گھر کی طرف روانہ ہو جاتا ہوں کیونکہ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ راستے میں پولیس تلاشی کے لیے روک لیتی ہے اور منشیات پکڑ کر مجھے جیل میں لے جاتی ہے جہاں میری بہت چھترول ہوتی ہے اور میرے گنے چنے پیسے بھی رکھ لیتی ہے۔

مجھے شراب حاصل کرنے کے لیے ایڑھ چوٹی کا زور لگانا پڑتا ہے۔ مجھے اکثر پولیس والے شراب کے ساتھ پکڑ لیں تو مجھے جیل لے جاکر بہت چھترول کرتے ہیں اور میرے گنے چنے پیسے بھی رکھ لیتے ہیں۔ میں نے ایک وڈیو میں آپ کی جنت کے کچھ مناظر دیکھے تھے، برائے مہربانی مجھے اس جنت میں داخل کرنے کے لیے میری مدد کریں۔

سوئٹزر لینڈ کی لڑکی اس درخواست کو پڑھ کر آبدیدہ ہوجاتی ہے اور انسانیت کے رشتے سے محسوس کرتی ہے کہ شاید یہ معصوم شدید پریشانی کا شکار ہے اور اس غریب کو میری مدد کی ضرورت ہے اور پھر کچھ دنوں بعد اس غریب کو اپنی جنت میں آنے کی دعوت دے دیتی ہے۔

معصوم غریب کچھ عرصے بعد دنیا کی جنت میں داخل ہو جاتا ہے جہاں وہ بہت خوش ہے، جہاں اسے اپنے نشے حاصل کرنے کے لیے کسی کچرا کنڈی، قبرستان یا کسی کچی آبادی کا رخ نہیں کرنا پڑتا اور نا ہی پولیس کی چھترول کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلکہ اپنے گھر کے سامنے سے ہی خوبصورت دکان پر جاکر خوبصورت برانڈڈ شراب اور دیگر منشیات حاصل کرتا ہے جہاں دکان پر کام کرنے والی خوبصورت لڑکی معصوم غریب کا نہایت ہی خوشی سے شکریہ ادا کرتی ہے۔

Facebook Comments HS