پرائمری پاس چیف ایڈیٹر
1890 میں حافظ آباد کے ایک پنجابی گھرانے میں ایک بچہ پیدہوتا ہے اور صرف چالیس دن بعد والد کے سائے سے محروم ہو جاتا ہے۔ والدایک نامور ڈاکٹر تھے اور وفات کے وقت ایک سرکاری ہسپتال میں ملازم تھے۔ گھر میں پیسے کی فراوانی تھی، سو ایکٹر زمین، ایک سے زیادہ مکانات، پندرہ کلو گرام کے قریب سونا بھی گھر میں موجود تھا، جی ہاں پندرہ کلو گرام، پندرہ تولے نہیں، گویا مالی لحاظ سے یہ ایک خوش حال گھرانہ تھا۔ والد کیا گئے، خونی رشتوں سے مروت اور لحاظ اور انسانیت بھی چلی گئی۔
زمینوں اور مکانات پر قریبی رشتہ داروں نے قبضہ کر لیا۔ والد کی تنخواہ کے بعد آمدنی کے تمام ذرائع ختم ہو گئے تو گھر میں موجود پیسہ گھریلو اخراجات میں صرف ہونا شروع ہوا۔ جب کچھ آ نہ رہا ہو صرف جا رہا ہو تو گھر میں پڑا روپیہ زیادہ دن نہیں چلتا۔ نقدی ختم ہوئی تو سونے کی باری آئی۔ سونے سے بنی ایک ایک شے بکنے لگی اور ایک وقت ایسا آیا کہ دو بہنوں اور ایک بھائی کی شادی اور گھریلو اخراجات پر یہ ساراسونا بھی ختم ہو گیا۔
اس وقت اس بچے کی عمر صرف بارہ سال تھی اور وہ پانچویں کلاس تک تعلیم حاصل کر چکا تھا۔ اب گھر کی ساری جمع پونجی ختم ہو چکی تھی، چنانچہ اسے اپنی تعلیم کو بھی خیر باد کہنا پڑا۔ وہ بہت خوش قسمت تھاکہ اتنی چھوٹی سی عمر میں برسرِروزگار ہوگیا اور اسے کپڑے کی ایک دکان پرپانچ روپے ماہوار پرملازمت مل گئی۔ لیکن گھر کے اخراجات آمدنی سے زیادہ تھے۔ اب گھر میں موجود برتنوں کی باری آئی۔ ان کے گھر میں اس وقت کے رواج کے مطابق پیتل کے کافی برتن موجود تھے۔
نیا برتن گھر سے باہر بکنے کو جاتا تو لوگوں کو پتہ چل جاتا کہ یہ لوگ غریب ہو چکے ہیں اور مجبوراً برتن بیچ رہے ہیں، چنانچہ اس کی ماں کمرے کا دروازہ بند کر کے برتنوں کو کسی سخت چیز سے کوٹ کوٹ کر ٹیڑھامیڑھا کرکے اسے پرانا کرتی تاکہ محسوس ہو کہ یہ صرف پرانا اور فالتو ہونے کی وجہ سے بیچا جا رہا ہے اور وہ اسے بازارمیں بیچ ٓآتا۔ برتن تو برتن تھے تانبے کی کان تھوڑی تھی کہ ساری عمر اس تانبے کو بیچ کر سفید پوشی کا بھرم رہ جاتا، وہ بھی ایک دن ختم ہو گئے۔
گھر میں ایک اثاثہ ابھی بھی باقی تھا، اس کے والد کی طب کی نایاب اور قیمتی کتب۔ اب وہ ردی میں بکنا شروع ہوئیں۔ یہ کتب اس قدر قیمتی تھیں کہ ایک دن اس کے چچا کے گھر پکوڑوں کی ایک دکان سے ان میں سے ایک کتاب کے صفحہ میں لپٹے پکوڑے پہنچے تو اس کے چچا جو بھی غالباً ڈاکٹر تھے اس پکوڑے والے پاس گئے کہ یہ کتاب کہاں سے لی جس کے کاغذ میں پکوڑے لپیٹے گئے تھے؟ دکاندار کے بتانے پر وہ ان کے گھر اور پوچھا کہ ایسی کوئی اور کتاب بھی ہے؟ ان کو جھوٹ بولنا پڑا کہ نہیں ہے۔ اگر سچ بولتے تو وہ یہ کتب مفت میں لے جاتا اور وہ اس قیمتی اثاثے سے محروم ہو جاتے۔
اس چھوٹی سی عمر میں برسرِروزگار ہونے کے بعد حالات نے اس کو پیچھے مڑ کر دیکھنے کی مہلت ہی نہیں دی اور اس کے قدم پھر ہمیشہ آگے کی طرف ہی اٹھتے گئے۔ اس ملازمت کے بعد اس نے موگہ ضلع فیروزپور کے ایک ہسپتال میں چھ روپے ماہوار پر کمپوڈر کی ملازمت شروع کی۔ یہاں اس کی تنخواہ پہلے نو اور پھر بارہ روپے ماہوار ہوگئی۔ اسی دوران اسے اخبارات اور رسائل پڑھنے کا شوق پیدا ہوا اور اس نے دوسرے شہروں سے بذریعہ ڈاک اخبارات اور رسائل منگوا کر پڑھنے شروع کر دیے۔ گویا دوہرا خرچہ رسائل اور اخبارات کے ساتھ ساتھ ڈاک کے اخراجات۔ ہسپتال کے ڈا کٹر صاحب کو اس عیاشی کا پتہ چلاتو انہوں نے پابندی لگا دی۔ اس نے کسی اور کے پتے پر اخبارات منگوا کر پڑھنے کا شوق جاری رکھا۔
اخبارات اور رسائل پڑھنے کے اس جنون نے اس بچے کو ایک دن اس قابل بنا دیا کہ وہ اخبارات میں پروف ریڈر کی نوکری کرنے لگا۔ بارہ سال کی عمر میں پانچ روپے ماہوار تنخواہ پر ملازمت شروع کرنے والا اب چار سو روپے ماہوار لے رہا تھا جو اس زمانے میں ایک معقول رقم تھی۔ یہاں اس کی کہانی نے ایک اور موڑ لیا اور وہ لکھنٔو میں ایڈیٹر۔ ”ہمدم“ جناب سید جالب مرحوم کے پاس صحافت سیکھنے چلا گیا۔ ان کے دفتر میں ملازم کی گنجائش نہیں تھی چنانچہ یہ ”انٹرشپ“ اس کو مفت ہی کرنی پڑی اور شام کو ایک میڈیکل سٹور پر نوکری کر کے زندگی کی گاڑی کو بھی رواں رکھا کیونکہ اس شوق کے ہاتھوں وہ چار سو روپے ماہوار ملازمت سے تو پہلے ہی فارغ ہو چکا تھا۔
اب یہ سفر رکا نہیں اور ایک دن ایسا آیا کہ پنجاب کے ایک پنجابی سکھ گھرانے میں جنم لینے اور پیدائش کے صرف چالیس دن بعد یتیم ہونے والا یہ بچہ محض پرائمری پاس ہونے کے باوجود اہلِ زبان کے ایک بڑے مرکز دہلی میں ایک اردو ہفت روزے کا مالک اور چیف ایڈیٹر بن گیا۔ شروع میں خواجہ حسن نظامی اور کچھ اور لوگ بھی ان کے ساتھ شامل تھے لیکن سب ہمت ہار گئے اور یہ اکیلے میدان میں ڈٹے رہے۔
یہ بچہ بڑا ہو کر سردار دیوان سنگھ مفتون بنا اور اس نے 1924 میں جو ہفت روزہ شروع کیا اس کا نام ”ریاست“ تھا۔ اخبار اور اس کا چیف ایڈیٹر دونوں ہی خاص تھے، یہ با تصویر تھا اور اس زمانے کے تمام انگریزی رسائل کا مقابلہ کرتا تھا۔ چیف ایڈیٹر بھی دبنگ اور دھڑلے والا۔ کم تعلیم کے باوجود انہوں نے بہت کم مدت میں اپنی محنت اور لگن سے اسے پورے ہندوستان میں ایک مقبول ہفت روزہ بنا دیا۔ ہر طرف ”ریاست“ اور اس کے ایڈیٹر کے چرچے تھے۔
جوش ملیح آبادی نے ایڈیٹر ”ریاست“ کے بارے میں لکھا ”میرے مخلص ترین دوست سردار دیوان سنگھ مفتون ہماری قدیم وضعداری، ہماری قدیم شرافت، ہماری قدیم دریا دلی اور اخلاقی جرأت کی ایک ایسی عظیم یادگار ہیں کہ اگر ہماری قوم اندھی نہ ہو چکی ہوتی تو ان کو اُسی احتیاط کے ساتھ رکھا جاتا جس احتیاط کے ساتھ حکومتیں اپنے آثارِقدیمہ کو برقرار رکھتی ہیں“۔ جناب ایم۔ ڈی تاثیر یوں گویا ہوئے ”کھری کھری بات کو کھردرے لہجے میں صاف صاف کہتا ہے، بے خوف اور برملا کہتا ہے، وہ اول و آخر صحافت نگار ہے اور دیانت دار ہے“۔ پروفیسر غلام احمد فرقت کاکوووی (لکھنٔو) نے ارشاد فرمایا ”سرزمینِ پنجاب میں تین معجزے وجود میں آئے، اول سر اقبال، دوسرے مولانا ظفر علی خان اور تیسرے سردار دیوان سنگھ مفتون“۔
اپنی کتاب ”ناقابلِ فراموش“ میں انہوں نے لکھا ”اخبار نویس دنیا میں ان لوگوں کا ساتھ دینے کے لیے پیدا ہوا ہے جو مصائب میں ہوں، ان لوگوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں جو عیش و آرام میں ہوں“۔ انہوں نے صرف یہ لکھنے پر اکتفا نہیں کیا، اس پر عمل بھی کیا۔ ان کے اخبار میں ہندوستان کے عام لوگوں کے مسائل اور دکھوں کو بہت تفصیل کے ساتھ شائع کیا جاتا تھا، خاص طور پر دیسی ریاستوں میں راجے، ان کی رانیاں اور ریاستوں کے دوسرے اہل کار رعایا پر جو ظلم اور زیادتیاں کرتے تھے ان کا خاص موضوع ہوتے تھے۔
آزاد صحافت اور حکمرانوں کا بیر اور دشمنی نئی نہیں یہ ازل سے ہے۔ ریاستی حکمرانوں کو ان کی یہ ادا بہت بری لگتی تھی چنانچہ ان پر اس دور میں چودہ مقدمات درج ہوئے اور وہ آٹھ بار جیل میں گئے۔ انگیریزوں کو بھی شبہ تھا کہ یہ گاندھی جی کے پیروکار ہیں، چنانچہ انہوں نے بھی ان کو جیل کی یاترا کروائی۔ ان کے اثرورسوخ اور اخلاص کا یہ عالم تھا کہ 1947 کے فسادات کے موقع پر ہمدرد دواخانے والے جناب حکیم محمد سعید نے جو اس زمانے میں دہلی میں رہتے تھے، ہندو اور سکھ بلوایؤں کے حملے کے خطرے کے پیشِ نظر ان سے مدد طلب فرمائی اور انہوں نے مدد بہم پہنچائی۔ اس کے علاوہ چند مسلمان اپنے گھر کا سامان ان کے حوالے کر کے پاکستان آگئے اور حالات بہتر ہونے پر خصوصی اجازت ناموں کی مدد سے وہ سامان پاکستان لے آئے۔ اس عرصے میں انہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ان کے سامان کی حفاظت کی۔
آج کے صحافیوں کو ان کی کتاب ”ناقابلِ فراموش“ ضرور پڑھنی چاہیے جس کے بارے میں مولانا عبدالرزاق صاحب ملیح آبادی نے لکھا ہے ”دیوان سنگھ مفتون کی“ ناقابلِ فراموش ”آپ چاہیں تو میں قسم کھا کر کہہ دوں کہ یہ کتاب اردو لٹریچر میں ناقابلِ فراموش رہے گی، دیوان سنگھ بے شک فانی انسان ہے، کسی دن مر جائے گا، مگر دیوان سنگھ کی“ ناقابلِ فراموش ”غیر فانی ہے، کبھی نہیں مرے گی“۔
ہندوستان کا یہ ناقابلِ فراموش پرائمری پاس چیف ایڈیٹر 1974 میں وفات پاگیا، مگر اس کی ناقابلِ فراموش داستان آج بھی اس کی ہمت، لگن، محنت اور اخلاص کے ثبوت کے طور پر موجود ہے۔
ہے جو داستاں اپنی
کل اس کی کہانیاں بنیں گی
دیوان سنگھ مفتون کی کتاب ناقابل فراموش سے مضامین پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں۔


