افتخار عارف کی ’کتابِ دل و دنیا‘ ہی اصل دنیا ہے
افتخار عارف پر یہ حقیقت بہت پہلے واضح ہو گئی تھی کہ ع:
۔ ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے
’ کتابِ دل و دنیا‘ کو اگر مملکتِ شعر مان کر اس کے دستور کو پڑھنا ہو تو یہی مذکورہ بالا شعر قرار دادِ مقاصد قرار پاتا ہے۔ اور اس قرار دادِ مقاصد کو دستورِ شاعری کے دیباچے یا پہلے تعارف کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے یعنی اس شعر میں بیان کردہ تین بنیادی تصورات کی رو سے ’کتابِ دل و دنیا‘ کے مندرجات کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے اور ایک خاص شعری دنیا کے خد و خال بھی واضح ہوتے چلے جاتے ہیں۔ چراغ روشنی کا، کتاب علم کا اور امید زندگی کا استعارہ ہے اور یہی تین بنیادی تصوارت ہیں جن کی مدد سے ’کتابِ دل و دنیا‘ کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
شاعر نے ’کتابِ دل و دنیا‘ میں دل اور دنیا کے مابین ہمہ وقت جاری جنگ کے بیچوں بیچ رستہ نکالا ہے جہاں وہ دنیا سے معاملہ کرتے ہوئے کامیابی سے دل بچانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس جنگ میں جہاں بڑے بڑوں کا پتّہ پانی ہو جاتا ہے کہ یہاں شعری دولت لٹنے کا دھڑکا آپ کے اوسان خطا کر سکتا ہے وہاں ہمارا شاعر پورے قد سے کھڑا ہے۔ شعر کے تین بنیادی ماخذات کی تفہیم نور، علم اور زندگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یوں ہوتی ہے کہ چراغ روشنی اور نور کا منبع ہے۔ نور کے کئی مفاہیم اور مطالب ہیں جن میں پھول بننا یا پھول کی طرح کھلنا، روشنی کے اخراج کا عمل وقوع پذیر ہونا، روشن کرنا، روشنی کی ندی، روشنائی کا ایسا اخراج جس کے سبب دھندلاہٹ کا ظہور، شان و شوکت اور شکوہ شامل ہیں۔
کتاب علم کا ظاہری وجود ہے اور علم کا اصل معنی علامت بھی ہے اور جاننا بھی۔ چراغ اور نور اور کتاب اور علم دونوں چیزوں کا احاطہ کرنے کی سعی شاعر نے بابِ عقیدت میں اور بعد میں ’شہرِ علم کے دروازے پر‘ میں کی ہے اور امید اور زندگی کے اثاثے کو بابِ غزل اور بابِ نظم میں سمیٹا ہے۔
’ کتابِ دل و دنیا‘ کا مطالعہ ہمیں ایک اور دنیا میں لے جاتا ہے وہ دنیا جو علم و جستجو کی لگن بھی پیدا کرتی ہے اور اس دنیا میں جینے کا حوصلہ اور امنگ بھی ارزانی کرتی ہے۔ افتخار عارف دنیائے ادب کی معروف ہستیوں میں شامل ہے اور ان کا یہ سفر نصف صدی کی جد و جہد سے عبارت ہے یہی وجہ ہے کہ اس شعری کلیات میں متکلّم اپنی مرضی کی دنیا تخلیق کرنے کی دھن میں ہے۔ لکھنٶ کے تہذیبی ماحول اور اعلیٰ انسانی اقدار کے گہوارے میں پلا بڑھا شخص کہیں بھی ہو انسانی رفعت اور اس کے متعلّقات کو اپنی تربیت اور سبقِ اولین کی وجہ سے کہیں نہیں بھولتا۔ یہ شاعری انسان کی حرمتِ فکر اور حریّت فکر کا ایک روشن باب ہے۔ یہ حریّت اور حرمت کا سلسلہ اس کے نظریاتی پرکھوں کی دین بھی ہے اور اس کی پاسداری میں کٹ مرنے کا جذبہ بھی نسل در نسل منتقل ہوتا چلا آیا ہے۔ اس تہذیب کا اظہار شاعر نے ایک نظم میں یوں بیان کیا ہے۔ ع:
۔ مرے آبأ و اجداد نے حرمتِ آدمی کے لئے
تا ابد روشنی کے لئے
کلمہِ حق کہا
مقتلوں، قید خانوں، صلیبوں میں بہتا لہو ان کے ہونے کا اعلان کرتا رہا
وہ لہو حرمتِ آدمی کی ضمانت بنا
(نظم۔ ایک سوال)
مندرجہ بالا سطریں ان کی نظم ایک سوال سے مقتبس تھیں اب ایک اور نظم کی شعریات کو دیکھیں کہ اس میں اسی حرمت اور حریت کو کیسے نوکِ قلم سے سینہِ قرطاس پر اتارا ہے۔ ع:
۔ پڑھا تو یہ تھا زمینِ عنبر پہ کشتِ خاشاک کرنے والے نہیں رہیں گے
سنا تو یہ تھا ہوا کے ہاتھوں پہ بیعتِ خاک کرنے والے نہیں رہیں گے
مگر ہوا یوں کہ نیزہِ شام پر سرِ آفتاب آیا
امانتِ نور جس کے ہاتھوں میں تھی اسی پر عذاب آیا
(نظم۔ انی کنت من الظالمین)
یہاں نور اور علم کو اسی ترتیب میں دیکھیں جیسی پہلے مصرع سے بات شروع ہوئی تھی یعنی ایک چراغ اور ایک کتاب تو اس نظم کی نئی معنویت سامنے آتی ہے اور شاعر کے اندرون میں برپا ارتعاش کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔
جو اس مضمون کا عنوان ہے اور جس الگ دنیا کی بات ہم نے چھیڑی ہے وہ خود شاعر کی زبانی بھی سن لیتے ہیں۔ ع:
۔ جز شعر، نہیں کوئی جوابِ دل و دنیا
جیسی بھی ہے حاضر ہے کتابِ دل و دنیا
یعنی جو نسل در نسل نظریاتی وراثت منتقل ہوئی ہے اور جن روایات کا شاعر کو امین بنایا گیا ہے وہ اس کتاب میں پیش کر دی گئں ہیں۔ جو کتاب روٶف امیر نے شاعر کی شخصیت اور فن پر ترتیب دی ہے اس کے آغاز پر جو شعر کوٹ کیا گیا ہے کہ ع:
۔ ذرہ ہوں منسوب ہوا ہوں مہر کے ساتھ
روشن رہنا مجھ پر واجب آتا ہے
سے بھی ان کی فکری سمت کا تعیّن ہو جاتا ہے۔
’ کتاب دل و دنیا‘ تین ابواب پر مشتمل ہے جس میں پہلاباب بابِ عقیدت ہے۔ اس باب کا آغاز ایک مکالمے سے ہوتا ہے جو شاعر خود سے کرتا ہے اور خود ہی جواب دینے کی سعیِ مشکور بھی کرتا ہے۔ ع:
۔ ہوا کے پردے میں کون ہے جو چراغ کی لَو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہو گا
جو خلعتِ انتساب پہنا کے وقت کی رَو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہو گا
حجاب کو رمزِ نور کہتا ہے اور پرتَو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہو گا
یہ مکالمے کے ابتدائی جملے ہیں اور ساتھ ہی کہیں سے سرگوشی کے انداز میں جواب پھوٹتا ہے کہ ع:
۔ وہ خاک میں صوت، صوت میں حرف، حرف میں زندگی کا سامان رکھنے والا
کوئی تو ہو گا
کوئی تو ہو گا
اسی کوئی تو ہو گا کے تشکّّک سے وہ یقین جنم لیتا ہے جس سے بابِ عقیدت اٹا پڑا ہے۔ جس کے بارے میں تشکیک کا اظہار ہوا تھا وہ پہلی حمدیہ تشکیک میں اور واضح ہونے لگتا ہے۔ ع:
۔ کبھی زمین کا منصب بلند کرتا ہے
کبھی اسی پہ بنائے عذاب رکھتا ہے
مگر یہ تشکّک بھرا لہجہ بہت جلد استعجاب سے ہوتا ہوا ایک نئے روحانی منطقے میں داخل ہوتا ہے تو صدا بلند ہوتی ہے۔ ع:
۔ مثالِ فردِ عصیاں تھی کتابِ عمرِ رفتہ
کوئی مجھ میں تھا جو صفحے الٹتا جا رہا تھا
ہر اک بولا ہوا جملہ، ہر اک لکھا ہوا لفظ
لہو میں گونجتا تھا اور قیامت ڈھا رہا تھا
یہاں اس تشکیک کی یقین میں قلبِ ماہیت ہو چکی ہے اور شاعر ایک فرحت سے ہمکنار ہو کر کہتا ہے
دعا بعد از دعا، سجدہ بہ سجدہ، اشک در اشک
میں مشتِ خاک تھا اور پاک ہوتا جا رہا تھا۔
اب پھر اسی ابتدائی مذکورہ یک شعری چراغ اور کتاب والی فلسفیاتی نہج کو سامنے رکھتے ہیں کہ ع:
۔ حضورﷺ مکّے سے جا رہے ہیں کتاب کے ساتھ
کتاب کل کائنات ہے اور روشنی ہے۔
اس باب میں ان مضامین کی فراوانی ہے جو حمد اور نعت سے ایک دوسرے میں مدغم ہو ہو کر ایک نیا معنیٰ پیدا کرتے ہیں۔ کہیں دعائیہ، التجائیہ اور سوالیہ کہیں زیرِ بارِ احسان ہونے کا احساس اور ممنونیت بھرا تشکرانہ لہجہ تواتر کے ساتھ کہیں علیحدہ اور کہیں باہم نظر آتا ہے۔ کہیں تعظیم اور وفور کہیں تکریم اور شعور ایک دوسرے میں گھلے ملے ہوئے ہیں۔ عصری صورتِ حال اور اس پر آشوب عہد میں انسان جن مسائل میں گھرا ہوا ہے اس میں انسانی کم مائیگی بھی اس باب میں موضوعِ سخن بنائی گئی ہے اور نظم ’ابو طالب کے بیٹے‘ میں ابو طالب کے بیٹوں اور پوتوں کا نام لے کر مدینہ، نجف، کربلا، کاظمین، سامرہ، مشہد اور بغداد کے شہروں کا ذکر کر کے ایک حزنیہ خراج بھی ہیش کیا ہے۔ ع:
۔ وقت نے گواہی دی
جبر کے مقابل میں
صبر کا سبَق زینب
مصحفِ شہادت کا
آخری ورَق زینب
اور اس بابِ عقیدت کی آخری تان یہاں ٹوٹی ہے۔ ع:
۔ حسین تم نہیں رہے تمہارا گھر نہیں رہا
مگر تمہارے بعد ظالموں کا ڈر نہیں رہا
[ ] ’کتاب دل و دنیا‘ کا دوسرا باب، بابِ غزل فیض کے اس سوال سے شروع ہوتا ہے کہ ہمارے شعر وادب پر جمود طاری ہے اور انہوں نے اپنے تھیسز میں اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے افتخار عارف کی غزل میں ایسے اشعار کا حوالہ دیا ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس جمود کو توڑنے کے لیے یہی ایک آواز کافی ہے۔ اب فیض کے انتقال کو بھی پینتیس سال کا عرصہ ہو چلا ہے مگر ہمارا شاعر ایک طنطنے اور طمطراق سے مسلسل اس تھیسز کو غلط ثابت کر چکا ہے اور فیض کے انتقال کے بعد کئی مجموعے اردو ادب کو دان کر چکا ہے۔
بابِ غزل میں کئی رویں ساتھ ساتھ چل کر اور پھر ایک ہو کر ایک سمفنی میں ڈھل کر نیا شعری منظر نامہ بناتی ہیں۔ اس میں غزل کے مروّجہ مضامین کو تازہ تر آہنگ میں باندھا گیا ہے اور فکری انتشار کو فکری بہاٶ میں تبدیل کیا ہے۔ زندگی گزارنے اور ایک بے عملی میں بنیادی تبدیلیاں کرتے ہوئے ایک قابلِ عمل نقطہِ نظر پیش کیا ہے جو اعلیٰ انسانی اقدار سے جڑا ہوا ہے۔ اس راستے پر مشکلات اور آزمائشوں کا مرحلہ بھی آتا ہے، انسان کے بنیادی جوہر کے شکست و ریخت کے امکانات بھی رونما ہوتے ہیں اور انسانی جوہر ایک بیکسیت سے دوچار بھی ہوتا ہے۔
معاشرے میں عدم رواداریت اور تحمل و برداشت کے جاری رویہ جات میں جینے کا حوصلہ اسی نقطہِ نظر کی وساطت سے ہی ملتا ہے۔ زمانے اور زمانے کی رو میں بہتے چلے جانے اور اس رویے سے بیزاری کے ساتھ ساتھ مالکِ کل کے آگے انسانی بے بضاعتی ایک ایسے شعری سوالیہ کُل کو جنم دیتی ہے جس کا جواب یا حل بابِ غزل میں ایک ارفع دردمندی کے ذریعے ملتا ہے جس میں انسان ٹوٹ پھوٹ سے بچ تو نہیں سکتا مگر نیا حوصلہ اور نئی آرزو ضرور ملتی ہے۔
[ ] فیض نے ایک خط میں ہمارے شاعر کو مشورہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ شعر میں ”جمالیات کی جہات کا اضافہ لازم ہے ورنہ وہ محض صحافت یا حکایت یا سٹیٹمنٹ ہو کر رہ جائے گا“۔ اور ”یہ عظیم ترین شاعری والی بات چھوڑ دو، ہماری عظمت بہت پیچھے رہ گئی ہے“۔ یہ بات افتخار آج تک نہیں بھولے اور اسی لیے سلیقے سے شاعری کرتے ہیں۔ جس شاعر کے کلام اور شخصیت سے کوئی متاثر ہو اور اس سے قلبی وابستگی کا دعویٰ بھی کرتا ہو اور اس دعویٰ کا پاس رکھنا بھی جانتا ہو اس کے حلقہِ اثر سے نکلنا فی الاصل کارِ دارد ہے مگر افتخار نے فیض کے گرویدہ ہونے کے باوجود اور ان کے ”احتجاج کے لہجے اور انکار کے لہجے اور ساتھ عشق اور رومان کے لہجے“ سے اقرار کے باوجود اپنا شعری راستہ ان سے بالکل الگ چنا ہے۔
اس نقطہِ نظر اور میدانِ عمل میں شاعر کا رویہ اس ڈگر پر چلنے سے انکار پر استوار ہے اور اپنی وضع کردہ تھیوری میں اپنا وقار بھی بحال رکھتا ہے۔ ع:
۔ دمشقِ مصلحت و کوفہِ نفاق کے بیچ
فغانِ قافلہ ِ بے نوا کی قیمت کیا
۔ مآلِ عزت ِ سادات عشق دیکھ کے ہم
بدل گئے تو بدلنے پہ اتنی حیرت کیا
اس عدم تحفّظ میں ان روایات کا امین ہونا اور ان کی پاسداری کرنا جن پر آبأ چلے ہوں اور دشوار ہو جاتا ہے جب زندگی کا معرکہ بھی درپیش ہو اس وقت نوحہ خوانی کی بجائے امید بھری کیفیت برقرار رکھنا کارِ مشکل ہے کارِ ناممکن نہیں۔ ع:
۔ ایک جزیرہ اس کے آگے پیچھے سات سمندر
سات سمندر پار سنا ہے ایک خزانہ ہے
۔ حامی بھی نہ تھے منکرِ غالب بھی نہیں تھے
ہم اہلِ تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے۔
۔ اہل محبت کی مجبوری بڑھتی جاتی ہے
مٹی سے گلاب کی دوری بڑھتی جاتی ہے
۔ میں جس کو اپنی گواہی میں لے کے آیا ہوں
عجب نہیں کہ وہی آدمی عدو کا نہ ہو
اس بے یقینی میں انسانی نفسیات میں ایسا ڈر اور ہزیمت جنم لیتی ہے اور بظاہر مطمئن اور آسودہ خاطر نظر آنے کے باوجود اندرون کہانی میں انسان کچھ اور ہوتا ہے۔ آس پاس رہنے والوں پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور ایک ہمہ جہت اجنبیت چہار سو کو گھیر لیتی ہے۔ اس ان دیکھے خوف کی کیفیت زبان اور بیان سے باہر ہو جاتی ہے مگر اس کو پورے حسن کے ساتھ بتانا مقصود ہو تو صورتِ احوال یوں بنتی ہے۔ ع:
۔ در و دیوار اتنے اجنبی کیوں لگ رہے ہیں
خود اپنے گھر میں آخر اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے
اور جو بزرجمہر اس صورتِ احوال کے ذمہ دار ہیں ان کے لیے بھی ہمارے شاعر ایک واضح موقف ہے۔ ع:
۔ یہی مشقِ تیر و سنان و سنگ بہانہ کر
گہرِ کلاہِ امیر شہر نشانہ کر
۔ شہرِ گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے
جس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے
فی زمانہ جس جمود کی بجائے غزل میں انحطاط کی نشاندہی کی جاتی ہے وہ معاملہ یہاں نہیں کہ شاعر نے روایتی معاملاتِ حسن و عشق سے اوپر اٹھ کر معاملاتِ دنیا کو زیادہ اہم جانا ہے۔ یہ انحطاط بہرحال فیض کے بیان کردہ جمود سے قطعاً مختلف ہے۔ اب غزل میں جس فکری انحطاط کا سوال اٹھایا جا تا ہے اس کا جواب بھی دیکھ لیجیے۔ ع:
۔ رخصت اے ساحلِ صدف امکان
کھل گئے بادباں گزر گئی شب
افتخار عارف کی غزل وہ علاقہ ہے جہاں حقائق اور تجزیاتی سچ ہیں۔ زیبِ داستاں کا عنصر ناپید ہے اور لٹے جانے کی بعد کی کیفیت ہے۔ دردمندی کی ایک زیریں لہر ساتھ ساتھ چلتی ہے جو قاری کو بے دلی کی دنیا سے سلامت باہر نکالتی ہے۔ ع:
۔ شاخ بہ شاخ گھومیے اور گلاب دیکھیے۔
ایسا بھی کیا کہ عمر بھر ایک ہی خواب دیکھیے
یہ وہی صورتِ حال ہے جو اقبال نے کہا تھا کہ جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں۔ اور دوبارہ ایک نئی شان کے ساتھ طلوع ہوتے ہیں۔ ع:
۔ ڈوب گئے جو ماہتاب ان کو بھلا بھی دیجیے
پھر نئے زخم کھائیے پھر نیا خواب دیکھیے
راشد حمید لکھتے ہیں ”غربت کے پس منظر، ہجرت، روزگار کے جھمیلوں، غریب الوطنی اور پیشہ وارانہ عداوتوں کے طویل سلسلوں سے نبرد آزما ہو کر تخلیقی، جمالیاتی، تہذیبی، مذہبی اور سماجی وابستگیاں برقرار رکھنا بلکہ انہیں دو آتشہ کرتے چلے جانا یقیناً فطرت کی خاص عطا کے بغیر ممکن نہیں“۔
مندرجہ بالا میرے اس موقف کی تائید کرتی ہیں جا کا اوپر ذکر آیا ہے۔ ع:
۔ کسی اہلِ ہجر کی بد دعا ہے کہ خود سری کا قصور ہے
یہ جو بات بن کے بگڑ رہی ہے تو کوئی بات ضرور ہے
جیسے اشعار کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہییے۔
اور ساتھ ہی یعنی اگلے سانس میں یہ کہنا ع:
۔ میں چراغ لے کے ہوا کی زد پہ جو آ گیا ہوں تو غم نہ کر
میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ہاتھ پہ ایک ہاتھ ضرور ہے۔
جو سوال اٹھانے کا طریقہ ہے وہ بھی بالکل تازہ ہے ع:
کس قیامت خیز چپ کا زہر سنّاٹے میں ہے
میں جو چیخا ہوں تو سارا شہر سنّاٹے میں ہے۔
اسی لیے شاعر کا کہنا ہے کہ ع:
۔ کہیں محفوظ ہے لوحِ فنا پر ایک تحریر
بالآخر اک وہی تحریر رہنے کے لیے ہے۔
بابِ نظم اس کتاب کا تیسرا باب ہے۔ اس باب کی ایک نظم ”بد شگونی“ سے افتخار عارف کی نظم کی دنیا کو دیکھنے کی سعی کرتے ہیں۔ ع:
۔ عجب گھڑی تھی
کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی۔
ہوا و حرص و ہوس کی سب گرد صاف کر دیں
عجب نہیں میرے لفظ مجھ کو معاف کر دیں۔
جو بنیادی شعر کتابِ دل و دنیا کے تعارف کے لیے چنا گیا ہے مذکورہ بالا نظم کی سطریں اس موقف کی تائید کرتی ہیں کہ چراغ، کتاب اور زندگی ہی شاعر کی متاعِ کل ہے۔ نظم کا آغاز ایک حیرت سے ہوتا ہے کہ یہ کیوں کر ممکن ہو سکا اور وہ قیامت کی گھڑی کیسے آ گئی۔ نظم کے پاس اس وقت کی توضیح کے لیے عجب گھڑی تھی کے الفاظ چننے پڑے گویا یہ اس بات کا اقرار ہے کہ نظم کے متکلّم کو کتاب جان سے عزیز ہے کہ یہی امید اثاثہ ہے۔ کتاب کے کیچڑ میں گرنے سے ہوا و حرص و ہوس کو تقویت ملی اور وہ نظریات جو کتاب سے وابستہ تھے کس طرح نظر انداز ہوئے اور دنیاوی حب کا پلہ بھاری ہوا جس کے نتیجے میں کتاب کو حرزِ جان بنانے والے کی اپنی نظر میں بے توقیری ہوئی مگر ایک بہادر انسان کی طرح وہ اٰس دنیا کو تج کر واپس اپنی دنیا میں آیا تو اسے جیسے یقین ہو گیا کہ میرا اثاثہ مجھے واپس مل گیا یہ ایک طرح کا اعتراف ہے کہ بھول چوک کے بعد بھی سرخرو ہونا ممکن ہے۔ یہ نظم اس مین سٹریم نظم سے جڑی ہوئی ہے جو پوری دنیا میں لکھی جا رہی ہے مگر یہاں بھی اسلوب کی سطح پر شاعر نے اپنی انفرادیت برقرار رکھی ہے۔
۔ وقت کی عدالت میں
ایک سمت مسند تھی
ایک سمت خنجر تھا
تاجِ زر نگار اک سمت
ایک سمت لشکر تھا
اک طرف مقدر تھا
طائفے پکار اٹھے
تاج و تخت زندہ باد
ساز و رخت زندہ باد
(نظم۔ خوں بہا)
نظم ’خوں بہا‘ اپنے عنوان سے ہی بہت سارے حقائق سے پردہ اٹھا رہی ہے اور اقبال کی نظم غلام قادر روہیلہ کی یاد رہی ہے۔ غلام قادر روہیلہ نے غوث گڑھ میں ہونے والے ظلم کا بدلہ تو لے لیا اور مغل بادشاہ مرزا عبداللہ جو شاہ عالم ثانی کے نام سے معروف ہے کی آنکھیں نکال دیں اور حرم میں تیمور زادیوں کو رقص پر مجبور کر کے اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کر لی اور اقبال کو کہنا پڑا ع:
مرا مسند پہ سو جانا بناوٹ تھی، تکّلف تھا
کہ غفلت دور ہے شانِ صف آریان لشکر سے
یہ مقصد تھا مرا اس سے کوئی تیمور کی بیٹی
مجھے غافل سمجھ کر مار ڈالے میرے خنجر سے
مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمیّت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے
افتخار عارف کی نظم ’خوں بہا‘ اور اقبال کی نظم ’غلام قادر روہیلہ‘ اپنی معنوی مماثلت میں ایک ہیں کہ خوں بہا کا شاعر طائفے کے رویے ّ پر طعنہ زندہ ہے اور اقبال بھی۔
جس مین سٹریم نظم کا اوپر ذکر ہوا ہے اسی نوع کی ایک اور نظم ’گمنام سپاہی کی قبر پر‘ ہے۔ ع:
سپاہی آج بھی کوئی نہیں آیا
کسی نے پھول ہی بھیجے
نہ بستی کے گھروں سے آشنا گیتوں کی آوازیں سنائی دیں
۔ تمہارے بعد گھر کی منتظر دہلیز کو جاگے ہوئے دل کی نشانی کون دے گا
ہواٶں سے الجھتی، روشنی کو اعتبارِ کامرانی کون دے گا
در و دیوار سے لپٹی ہوئی بیلوں کو پانی کون دے گا۔
(نظم۔ گمنام سپاہی کی قبر پر)
یوں یہ سوگ اور شاعر کی دردمندی اعلیٰ انسانی اقدار سے جڑتی ہوئی اپنی بنت اور معنیٰ میں آفاقی ہو جاتی ہے اور شاعر دنیا کی معیّن کردہ حدود سے اوپر اٹھ کر ایک انسانیت کا ترجمان بن جاتا ہے۔
افتخار عارف نے اس کلیات میں فکری انتشار اور اپنے خلفشار کو ایک فکری بہاٶ میں ڈھالا ہے اور
تعلّی، دعویٰ اور نعرہ کی جگہ رثا، کشمکش اور امید اثاثہ سے اپنی شاعری کی بنیاد اٹھانے میں کامیاب ہوا ہے کہ بقولِ بیدل دہلوی ع:
ہر طرف نظر کردیم ماہ زخود سفر کردیم
اے محیطِ حیرانی این چہ بیکرانیہاست۔


