کچھ چھالیہ کے بارے میں‌

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میڈیکل کالج کا فائنل ایر تھا اور ایر نوز اور تھروٹ، ای این ٹی کا کلینک چل رہا تھا۔ دو برقعہ پوش خواتین داخل ہوئیں، ایک اسٹول پر بیٹھ گئیں‌ اور انہوں نے چہرے سے نقاب ہٹایا تو ان کا ایک طرف کا چہرہ آدھا کینسر نے کھایا ہوا تھا۔ میرے سارے میڈیکل کیریر میں‌ اتنا پھیلا ہوا کینسر اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی نہیں‌ دیکھا۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کو دیکھ کر کہا کہ میں آپ کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ وہ دونوں‌ خواتین واپس چلی گئیں۔ جاتے ہوئے دوسری خاتون نے کہا کہ چھالیہ اور پان کھانے سے ان کو یہ کینسر ہوگیا ہے۔ یعنی کہ یہ عام انسانوں کی معلومات میں‌ شامل ہے کہ پان کھانے سے منہ میں‌ کینسر ہوجاتا ہے۔ یہ خاتون کب کی مر چکی ہوں گی۔

دنیا میں پان کھانے کی تاریخ بہت پرانی ہے جس کو معاشرے کے ہر دائرے میں‌ قبولیت حاصل ہے۔ مرد، خواتین، بوڑھے اور بچے سب چھالیہ کھاتے ہیں۔ ایک آرٹیکل کے مطابق چھالیہ کھانے کی مقبولیت کی چار بنیادی وجوہات ہیں جن میں‌ سماجی قبولیت، مذہبی اعتقادات، یہ سمجھنا کہ چھالیہ کے صحت پر مثبت اثرات ہیں اور اس لی لت شامل ہیں۔ چھالیہ دنیا میں‌ نشے کے لیے استعمال کی جانے والی اشیاء میں‌ کیفین، الکوحل اور نکوٹین کے بعد چوتھے نمبر پر ہے۔ چھالیہ کئی طرح کی چبانے والی پروڈکٹس میں‌ شامل ہے جن میں‌ میوہ، پان، گٹکا اور پان مصالحہ شامل ہیں۔ چھالیہ کے استعمال کی وجوہات میں یوفوریا حاصل کرنا، تھکن سے نجات پانا، لعاب دہن میں‌ اضافہ کرنا اور یہاں‌ تک کہ دانت کے درد سے نجات حاصل کرنا شامل ہیں۔ اس کے بارے میں‌ یہی کہنا مناسب لگتا ہے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

چھالیہ کے بارے میں‌ اردو ادب میں‌ کافی مواد موجود ہے۔

چھالیہ عنقا ہے مہنگا پان ہـے

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

جا بجا پیکیں نہیں میں تھوکتا

مـجھ کو کافی آپ کا دالان ہـے

(کلام : مرزا عاصی اختر)

مرزا غالب کی شوخ بیانی سے کون واقف نہیں۔ چھالیہ کی ڈلی کی تعریف پر اترے تو ایسی ایسی تشبیہات استعمال کیں کہ یہ سوچ کر اطمینان ہوتا ہے کہ نئی نسل کی کمزور اردو غالب کے تخیل کا سادہ مفہوم نہیں جان سکے گی

ہے جو صاحب کے کف دست پہ یہ چکنی ڈلی

زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے

مسی آلودہ سر انگشت حسیناں لکھیے

داغ طرف جگر عاشق شیدا کہیے

حاتم دست سلیماں کے مشابہ لکھیے

سر پستان پریزاد سے مانا کہیے

یہ بات جانی پہچانی ہے کہ چھالیہ چبانے کی عادت انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کے مطابق چھالیہ کینسر کرنے والے گروہ اول میں شامل ہے۔ پچھلے چالیس سال میں‌ کی گئی آبادیوں اور تجرباتی تحقیق کے مطابق اگر چھالیہ کو بغیر تمباکو یا لیموں کے بھی چبایا جائے تو بھی منہ پر اس کے نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان اثرات کو دو بڑے گروہوں‌ میں‌ تقسیم کرسکتے ہیں۔ ایک وہ اثرات جو دانتوں‌، مسوڑھوں اور جبڑے کے جوڑوں پر مرتب ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو منہ کے اندر نرم جھلی پر اثر ڈالتے ہیں۔ امید ہے کہ آج کے مضمون سے قارئین کو منہ پر چھالیہ کے اثرات سے متعلق معلومات فراہم ہوں‌ گی۔

دانتوں پر خراشیں اور دانتوں‌ کے فریکچر

چھالیہ کے سخت اور کھردرے ہونے کی وجہ سے دانتوں پر خراشیں پڑتی ہیں اور دانت ٹوٹ بھی سکتے ہیں۔ خاص طور پر ان خواتین میں جن میں‌ کئی بچوں کی پیدائش ہوئی ہوں کیلشیم کی کمی کی وجہ سے دانت کمزور پڑ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں یہ خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ چھالیہ چبانے سے دانت چھوٹے ہوتے جاتے ہیں، ان پر موجود انیمل ہٹ جاتا ہے اور دانت کمزور اور حساس ہوجاتے ہیں۔ دانتوں کو کتنا نقصان پہنچے گا اس کا دارومدار کئی عوامل پر ہے جن میں‌ چھالیہ کا سخت ہونا، کتنے تواتر سے چھالیہ چبائی جارہی ہے اور کتنی پرانی عادت ہے، شامل ہیں۔

چھالیہ کے دھبے

چھالیہ کی پراڈکٹس چبانے سے لعاب دہن کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ رنگ دانتوں، مسوڑھوں اور منہ کے اندر کی جھلی پر چڑھ جاتا ہے۔ کچھ معاشروں میں‌ یہ رنگ خوبصورتی کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اس کا رجحان شعور بڑھنے کے ساتھ کم ہوتا چلا جارہا ہے۔ اب پان والے منہ سے لوگ گھن کھانے لگے ہیں۔

دانتوں کا سڑھنا

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ پان اور چھالیہ چبانے سے دانتوں کے سڑھنے کی بیماری سے بچت ہوتی ہے۔ تحقیق کے ملتے جلتے نتائج سامنے آئے ہیں لیکن زیادہ تر اسکالرز کا یہ خیال ہے کہ دانتوں‌ کے سڑھنے یا نہ سڑھنے کا تعلق چھالیہ سے نہیں جوڑا جاسکتا ہے۔

ٹیمپورو مینڈیبیولر جوائنٹ کی بیماری

جبڑے کے جوڑوں میں‌ ہر وقت چھالیہ چبانے کی وجہ سے آپس میں گھسنے سے اس کی بیماری بڑھ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ طویل عرصے کے چھالیہ کے استعمال کے بعد لوگوں کو منہ کھولنے میں‌ تکلیف محسوس ہونے لگتی ہے۔

منہ کے اندر نرم جھلی پر چھالیہ کے اثرات

منہ کے اندر نرم جھلی پر چھالیہ کے زہریلے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ اثرات ان افراد میں‌ اور بھی زیادہ ہوتے ہیں جو دانتوں‌ اور منہ کی صفائی پر دھیان نہ دیں، مجموعی طور پر اچھی صحت میں نہ ہوں، تمباکو نوشی کرتے ہوں یا غیر صحت مند غذا کا زیادہ استعمال کرتے ہوں۔ گوشت، چکنائی اور چینی سے بھری ہوئی خوراک غیر صحت مند ہے اور سبزیوں، پھلوں اور پورے آٹے سے بنی ہوئی خوراک صحت کے لیے بہتر ہے۔

منہ کے جس حصے میں‌ پان دبا کر رکھا جائے وہاں پر جھلی میں‌ سلوٹیں پڑ جاتی ہیں اور مکینکل اور کیمیکل اثرات سے زخم بن جاتے ہیں۔ یہ زخم بڑھ کر کینسر میں‌ تبدیل ہوسکتے ہیں۔ ان زخموں کا خطرہ عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ ان پری کینسر زخموں کو لیکوپلیکیا کہتے ہیں۔ یہ جنوب ایشیائی ممالک میں‌ عام ہے۔ اگر چھالیہ کھانا مکمل طور پر ترک کردیا جائے تو یہ زخم مندمل بھی ہو سکتے ہیں۔

چھالیہ کے اندر کئی ایسے کیمیائی مادے پائے جاتے ہیں جن سے ذہن ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے۔ ان میں آریکولین سب سے اہم ہے۔ ان کیمیائی مادوں سے وہ نظام متحرک ہوتے ہیں جن سے منہ میں‌ کینسر بننا شروع ہو۔ یہ بات ایک ہزار سال سے اس علاقے کے لوگ جانتے ہیں کہ چھالیہ کھانے سے منہ میں‌ اسکؤیمس سیل کارسینوما ہوجاتا ہے۔

جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں، شائع شدہ تحقیق سے یہ بات واضح ہے کہ چھالیہ کے منہ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جنوب ایشیاء میں پھیلی ہوئی چھالیہ کھانے کی وبا پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ ان ممالک میں نہ صرف عوام میں‌ تعلیم اور شعور بڑھانے پر کام کیا جانا چاہئیے بلکہ ان پراڈکٹس پر سگریٹ نوشی کی طرح تنبیہ شامل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ڈاکٹرز بھی معاشرے کا حصہ ہی ہوتے ہیں، وہ باہر سے نہیں‌ آتے۔ جب سگریٹ نوشی کے خلاف مہم شروع ہوئی تو ان میٹنگز میں‌ تمام ڈاکٹر سگریٹ پھونک رہے ہوتے تھے۔ پبلک ہیلتھ کے میدان میں‌ ان نوجوانوں کی ضرورت ہے جو چھالیہ کے نقصانات سے آگاہ ہوں اور اس فیلڈ میں مزید کام کریں۔ اس طرح کے قوانین کی بھی ضرورت ہے جو کم عمر افراد میں چھالیہ اور پان کی فروخت پر پابندی عائد کرے۔ سگریٹ انڈسٹری کے تجربے سے ہم جانتے ہیں کہ چھالیہ کے کاروبار کے مالک اس تحریک کی مخالفت کریں‌ گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •