صرف باتوں سے کب تک کام چلے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ حکومت کی بہت ساری باتیں اور حکومتی اقدامات ایسے ہیں جن کے متعلق جتنی بھی سوچ بچار کی جاتی ہے اتنا ہی سر پھٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ عوام نہ صرف پریشان ہیں بلکہ سکتے کی حالت میں ہیں کہ جو کچھ ان کے سامنے پیش کیا جاتا رہا تھا کیا وہ سب ایک خواب اور دھوکا تھا؟ کیا وہ سب دعوے اور وعدے جو موجودہ حکمرانوں نے ان سے کیے تھے وہ سب منھ سے ہی کیے تھے؟ کیا وہ بہترین مستقبل کے حسین اور خوب صورت باغ جو ان کو دکھائے گئے تھے وہ سارے کے سار ”سبز“ تھے؟

اور کو کچھ ان کو نظر آ رہا ہے وہ سب سچ اور حقیقت ہے تو پھر ان کے لئے نہ صرف تباہی و بربادی ہے بلکہ وہ حقیقتاً اپنے دوستوں، عزیزوں، رشتے داروں اور احباب کو منھ دکھانے کے بھی قابل نہ رہے کیونکہ انھوں نے تو موجودہ حکومت کو تختِ اقتدار پر بٹھانے کے لئے ان کے سارے دعوؤں اور وعدوں کو نہ صرف سچ مانا تھا بلکہ پورے معاشرے سے بغاوت کرکے ان کا ساتھ دیتے ہوئے ان سب کو اپنا ہمنوا بنانے کے لئے انھیں قائل کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ وہ پرانے چوروں، لٹیروں اور ڈاکوؤں سے نجات حاصل کر سکیں اور ایک نئی ولولہ انگیز قیادت کو سامنے لاکر ایک ایسا پاکستان بنا سکیں جہاں امیر اور غریب کی کوئی تفریق نہ ہو، کوئی چھوٹا بڑا نہ ہو، جہاں امن ہو، سکون ہو، خوشحالی ہو، تعلیم عام ہو، انصاف دہلیز پر مل رہا ہو، نوکریاں ہوں، بے گھروں کے سر پر چھت ہو، دنیا میں پاکستان ایک پُر وقار ملک شمار ہونے لگے، کسی کے آگے کشکول نہ پھیلایا جارہا ہو، ملیں اور کارخانے تعمیر ہو رہے ہوں، شہر صاف ستھرے ہوں، علاج معالجے کی ارزانی ہو، اشیائے ضروریہ ارزاں بھی ہوں اور وافر بھی، ڈالر سستا اور روپیہ مہنگا ہو، زمین سونا اگل رہی ہو اور باہر جانے والوں کے بحری اور ہوائی جہاز بھر بھر کر ملک میں لوٹ رہے ہوں۔ یہ تھے مستقبل کے وہ سارے سنہرے خواب جو عوام کی آنکھوں میں سجائے گئے تھے لیکن ہوا کچھ یوں کہ

آزاد فضا دیکھی زنجیر نظر آئی

کیا خواب تھا کیا اس کی تعبیر نظر آئی

تازہ ترین خبروں کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ ”مہنگائی بہت بڑا مسئلہ ہے جسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن مہنگائی کم کرنے کا کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے“۔ یہ بیان اس حکومت کے ایک مشیر خاص کا ہے جس کا اقتدار میں آنے سے قبل یہ بیان تھا کہ ”اگر مہنگائی کر کے ہی حکومت کی آمدنی بڑھانی ہے تو ایسا تو کوئی بھی کر سکتا ہے“ مزید یہ بھی فرمانا تھا کہ ”اگر حکمران ایک روپیہ بھی مہنگائی بڑھاتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ چور ہے اور چوری کا یہ پیسہ اس کی جیب میں جارہا ہے“۔

ایک ایسی حکومت جس کا بیانیہ تو یہ تھا اور اس کا مشیر قوم کو حوصلہ دینے، مہنگائی کو کم کرنے اور غربت کی شرح میں کمی لانے کا عندیہ دینے کی بجائے قوم کو یہ مایوس کن اطلاع دے رہا ہو کہ مہنگائی کے خاتمے کا ہم کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے تو موجودہ حکومت کو سوچ لینا چاہیے کہ لوگ ان کے متعلق کیا کیا کچھ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

بات مشیر خاص جناب عبدالراق داؤد پر ہی آکر رک جاتی تو شاید وہ افراد جو اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر گزارا کرنے اور گھاس کھاکر پیٹ بھرنے کے لئے تیار و آمادہ ہیں، وہ کسی اچھی امید پر اس برے وقت کو بھی جھیلنے کے لئے تیار ہوجاتے لیکن سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ ایک اور مشیر خاص جناب ڈاکٹر حفیظ شیخ نے عوام کے سامنے ایک اور بم گرادیا۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ فرماتے ہیں کہ ”حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ سرکاری اداروں میں تمام لوگوں کونوکریاں دے سکے“۔ یہ اس حکومت کے مشیر کا بیانیہ ہے جس کا دعویٰ تھا کہ وہ نہ صرف 1 کروڑ نوکریاں دیں گے بلکہ روزگار کے اتنے مواقع پیدا کریں گے کہ لوگ باہر سے نوکریاں کرنے پاکستان آئیں گے۔

مشیر خزانہ کے اس بیان پر کہ ہمارے پاس اتنا سرمایہ نہیں کہ ہم نوکریاں فراہم کر سکیں پر اتنا ہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ کھربوں روپے قرض لینے، ٹیکس پر ٹیکس لگانے، ڈیزل، پٹرول، گیس، بجلی اور پانی کے نرخ بڑھانے کے باوجود بھی اگر پیسہ خزانے میں نہیں تو پھر پیسہ جا کہاں رہا ہے؟ یہ کون سا کنواں ہے جو بھر کر ہی نہیں دے رہا ہے اور یہ کیسا پیٹ ہے جس کی بھوک ہے کہ ختم ہو کر ہی نہیں دے رہی۔

قرض پچھلی حکومت لیتی تھی تو یہ بہت بے شرمی کی بات تھی، اب وہی بات فخر کی ہے اور ہر قرض ملجانے پر ریڈیو اور ٹی وی پر قرض مل جانا موجودہ حکومت کا کارنامہ شمار کیا جا رہا ہوتا ہے۔ ٹیکس لگانا جرم عظیم ہوا کرتا تھا لیکن اب وہی فعل کارکردگی کہلانے لگا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر ظلم سمجھا جاتا تھا لیکن اب اس سے بھی 50 گنا مہنگائی ملک کی ترقی اور خوشحالی کہلانے لگی ہے۔

ایک جانب وزیروں اور مشیروں کے یہ بیانات ہیں تو دوسری جانب وزیر اعظم کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنی معاشی ٹیم کی تعریفوں کے پل پر پل باندھے جا رہے ہیں اور ان کے اقدامات سے اتنے مطمئن اور خوش ہیں کہ خود اپنی زبان سے یہ فرمارہے ہیں کہ ملک میں معاشی استحکام آگیا ہے۔ معیشت ترقی کر رہی ہے اور اب خوشحالی کے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس دعوے کے ثبوت میں وہ کرنٹ اکاؤٹ خسارے میں کمی کو پیش کرتے ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ میں خسارے کا مطلب برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ جبکہ خسارے میں کمی کا مطلب برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا پاکستان نے وہ کون سی ایسی شے ایجاد کر لی ہے یا زراعت سے لے کر مصنوعات کی پیداوار میں ایسا کون سا کارنامہ انجام دیدیا ہے جس سے ہماری برآمدات میں اضافہ ہو گیا ہے؟ رہی درآمداد میں کمی ہونا تو بے شک ایسا کیا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ ہم نے ایسی بیشمار اشیا جو باہر سے درآمد کی جاتی تھیں، انھیں روک لیا ہو۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اگر ایسی اشیا جو ”اصراف“ میں شمار ہوتی ہوں، ان کی درآمد کو روک کر کرنٹ اکاؤنٹ میں خسارے کو کم کر لیا ہے تو بہت خوب لیکن اگر ایسی اشیا جو ہماری ضرورت تھیں اور ہیں، ان کو روک لیا گیا ہے تو مستقبل میں ان کی کمی پاکستان کے لئے مزید بحران پیدا کر سکتی ہیں۔

اگرت ضروری اشیا روک کر خسارہ کم کیا جارہا ہے تو اس کا دوسرا مطلب پاکستان کی قوت خرید میں کمی بھی ہے جو کہ ایک بہت ہی تشویشناک بات ہے۔ لہٰذا اس بات کا جائزہ لینا بھی بے حد ضروری ہے کہ اگر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی ہو رہی ہے تو اس کی اصل وجوہات کیا ہیں کیونکہ اگر ابتدا میں ہی اس پر قابو نہیں پایا گیا تو آنے والے دور میں یہ بات ایک اور بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ میں خسارے میں کمی کا ایک سبب غیر ملکی قرضہ جات بھی ہو سکتے ہیں۔ ان قرضوں کے آنے سے بے شک ”آمدنی“ میں اضافہ تو ہوجاتا ہے لیکن اگر ایسے قرضہ جات کسی منفعت بخش منصوبوں میں نہ لگائے گئے ہوں تو ان کی ادائیگی ایک اور بڑے خسارے کا سبب بن جاتی ہے جس کا پاکستان کو شدت سے سامنا ہے۔

خسارے میں حقیقی کمی کے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان میں صنعتی اور زراعتی پیدا وار میں اضافہ کیا جائے اور پیدا وار کو اتنا کم قیمت اور معیاری بنایا جائے کہ وہ دوسرے ممالک میں بآسانی برآمد کی جاسکے۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ برآمدات میں کمی لائی جائے اور ایسی تمام اشیا جو اصراف میں شامل ہوں یا غیر ضروری ہوں، ان کی درآمدات پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

یہ تو وہ اقدامات ہیں جو گرتی ہوئی معیشت کے لئے ایک بڑا سہارا ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک حل اس کا یہ بھی ہے کہ وہ بڑے بڑے سوراخ جس کے ذریعے ملک کی دولت باہر منتقل ہوتی رہی ہے اور اب بھی مسلسل منتقل ہو رہی ہے، وہ بند کیے جائیں۔ بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے اور بڑے بڑے مگر مچھوں کا کڑا احتساب کیا جائے۔ اگر ان سارے پہلوؤں پر عمل درآمد کیا جائے گا، جوکہ ایک مشکل امر ہے، تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان ایک مضبوط ملک بن کر ابھرے۔

موجودہ حکومت آئی ہی ان دعوں کے ساتھ تھی اس لئے حکومت کو چاہیے کہ اِدھر اُدھر کی ساری باتوں سے ہٹ کر ان بنیادی باتوں کی جانب اپنی توجہ مرکوز کرے تاکہ ملک کی معیشت کو استحکام حاصل ہو اور ملک میں مہنگائی کا جو طوفان بپا ہے اور مزید بپا ہونے والا ہے، اس سے عوام کو نجات دلائی جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •