آواران میں سکولوں کی صورت حال پر رپورٹ ڈپٹی کمشنر کے سپرد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محکمہ تعلیم آواران پر ہونے والی اب تک کی تحقیق، بند سکول اور سکولوں کی بندربانٹ کی فہرست ڈپٹی کمشنر آواران کو پیش، دورانِ ملاقات ڈپٹی کمشنر آواران نے محکمہ تعلیم آواران کا ڈیٹا طلب کرکے کارروائی کی یقین دہانی کروائی۔ اب تک 30 بند سکولوں کو فعال کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انٹر کالج آواران کو بس کی فراہمی کے علاوہ، 45 یتیم بچوں کو ڈپٹی کمشنر بجٹ سے تعلیم دلوا رہے ہیں اور سپورٹس سرگرمیوں سے غیر نصابی سرگرمیوں سے متعلق فروغ دینے میں مصروف ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان ایجوکیشن سسٹم کی ٹیم سے دورانِ ملاقات کہی۔

ملاقات سے قبل ٹیم بلوچستان ایجوکیشن سسٹم نے آگاہی واک کا اہتمام کیا شرکا نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے تھے جن پر تعلیم سے متعلق پیغام درج تھے۔ واک مین بازار آواران سے ہوتا ہوا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس آواران پہنچا اور ایجوکیشن آفس سے ہوتا ہوا ڈپٹی کمشنر آفس آواران تک اختتام پزیر ہوا۔ ٹیم نے کھلی جگہ ڈپٹی کمشنر آواران کو تعلیمی نظام کا خاکہ پیش کیا اور آدھے گھنٹے تک آواران تعلیمی نظام زیر موضوع رہا۔ جس میں غیر حاضر اساتذہ و بند سکولوں کی فہرست، کلسٹر بجٹ میں بند سکولوں کی مد میں بجٹ کی منظوری، اور دس نکاتی تعلیمی ایجنڈاپیش کیا۔

ڈپٹی کمشنر آواران حسین جان بلوچ کا کہنا تھا کہ ہم تعلیم کی بہتری چاہتے ہیں مسائل کے اندر رہتے ہوئے ان کے حل کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر حاضر اساتذہ سے متعلق اب تک سیکرٹری سیکنڈری ایجوکیشن بلوچستان کو تین بار خط لکھ چکے ہیں مگر ان اساتذہ کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی اور ہم ماہانہ ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان ایجوکیشن سسٹم کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلع میں تعلیمی مسائل کو اجاگر کیا جا رہا ہے مگر ایجوکیشن کی بہتری کے لیے ہماری طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کو بھی اجاگر کرے۔

جوابا مہم آرگنائزر شبیر رخشانی نے کہا کہ تعلیم کی بہتری کے لیے جہاں جہاں اقدامات اٹھائیں گے اور گراؤنڈ پر کام ہوگا وہاں وہاں ٹیم بلوچستان ایجوکیشن سسٹم کو اپنے ساتھ پائیں گے۔ انہوں نے 200 غیر حاضر اساتذہ کی فہرست ڈپٹی کمشنر آواران کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ غیر حاضر اساتذہ سے بالکل نرمی نہیں بھرتی جائے۔ سکول آباد ہوں گے تو موجودہ نسل آباد ہوگی۔ اوردس نکاتی مطالبات جن میں ٹیچرز کو درپیس مسائل کاذکر بھی موجود تھا ڈپٹی کمشنر آواران کے سامنے پیش کیے ڈپٹی کمشنر آواران نے کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •