نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم سے کیا بے گھروں کو چھت مل سکے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف نے 2018 ء کے عام انتخابات میں عوام سے جو وعدے کیے تھے ان میں چند کو خاصی شہرت اور پذیرائی حاصل ہوئی اس میں سے دو قابل ذکر ہیں ایک تو بے روزگاروں کے لئے ایک کروڑنوکریوں کا وعدہ دوسرا بے گھر اور کم آمدنی والے طبقہ کے لیے پچا س لاکھ گھروں کی تعمیر تھی۔ یہ دونوں وعدے بلاشبہ عوام کی امنگوں کے مطابق اور ان کے دل کی آواز تھے نتیجہ یہ نکلا کہ جو ووٹرزالیکشن میں کسی مخمصے کا شکار تھا وہ بھی ان دلفریب وعدوں کے سحر میں گرفتار ہوگئے اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اپنی تمام تر حشرسامانیوں کے ساتھ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر جلوہ افروز ہوگئے۔

کہانی ختم نہیں ہوئی بلکہ کہانی اس کے بعد شروع ہوئی۔ عوامی توقعات کا ہمالیہ حکومت وقت کے سامنے کھڑا تھا اور اس کی چوٹی کوانتخابی وعدوں کی تکیمل کی عملی سیڑھی کے ذریعے سر کرنا تھا۔ زیادہ مدت نہیں گزری اور ایک حکومتی مشیر نے عوام کی طرف سے باربار ایک کروڑ نوکریوں کے سوال پر جواب دیا کہ حکومت تو مزید 400 ادارے ختم کرنے جارہی ہے اور حکومت ایک کروڑ سرکاری نوکریاں نہیں دے سکتی ہاں وہ وسائل پیدا کرسکتی ہے جس سے پرائیوٹ سیکٹر میں نئی نوکریوں کی گنجائش نکل آئے۔

یعنی کہ سرکاری نوکریوں کے انتظار میں بیٹھی نوجوان نسل جمع خاطررکھیں اور کوئی دوسرا کام دھندا تلاش کریں کیونکہ سرکارکے پاس وسائل نہیں کہ وہ اتنی نوکریا ں دے سکے۔ یہ تھا پہلا وعدہ جس کا جواب یہ ملا اب آجائیں ان پچاس لاکھ گھروں کے وعدے کی طرف جس کا ذکرکپتان اپنی انتخابی تقریروں میں بار بار کرتے تھے۔ یہ وہ منصوبہ ہے جس پر بہت سوچ بچار کی گئی اور بہت سی پرائیوٹ کمپنیوں اور کاروباری حضرات نے حکومت کو مالی اور تکنیکی معاونت کی پیش کش کی تھی۔ اس وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نیا پاکستان ہاؤسنگ کے نام سے منصوبہ شروع کیا گیا۔ اس کے تحت ملک بھر سے بے گھر افراد سے درخواستیں وصول کی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لاہور، گرجرانوالہ اور ملتان میں زمینوں کی خریداری کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔

نیا پاکستان ہاؤسنگ کے منصوبہ کے تحت لاہور کے نواحی علاقہ موہلنوال میں 93 کروڑ 70 لاکھ روپے سے 128 ایکڑ اراضی خریدنے کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں 216 ایکٹر اراضی خریدنے کے لیے 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ اس ضمن میں پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی سب ریجن ملتان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے لیے ایریا ڈویلپمنٹ سکیم یوبلاک مدنی چوک ملتان میں زمین حاصل کی ہے جہا ں پر اس اسکیم کے تحت 250 رہائشی اپارٹمنٹس تعمیر کیے جائیں گے۔

یہ اپارٹمنٹس دومرلہ رقبہ ( 550 مربع فٹ) پر مشتمل ہوں گے اور اس پر چار اپارٹمنٹس تعمیر ہوں گے اور فی اپارٹمنٹ جس کا رقبہ دومرلہ ہوگا کی قیمت 29 لاکھ 85 ہزار روپے ہوگی۔ اور ان اپارٹمنٹس کے لیے وہ درخواست دینے کے اہل ہوں گے جن کی ماہانہ تنخواہ 25 سے 30 ہزار تک ہوگی۔ درخواست گزارو ں کے درمیان فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعہ ہوگا اور اس میں کم آمدنی والے سرکاری ملازمین، بے سہارا افراد، عام شہری اور معذور افراد بھی شامل ہوں گے۔

یہ درخواست گزار دس ہزار روپے زرضمانت جمع کرائیں گے اور نام نکلنے کی صورت میں یہ دس ہزار روپے آخری قسط مین ایڈجسٹ ہوں گے۔ قرعہ اندازی میں نام نکلنے والے خوش نصیب کو 20 فیصد ڈاؤن پیمنٹ یعنی تقریبا 6 لاکھ روپے ادا کرنا ہوں گے اور باقی رقم آسان 36 اقساط میں جمع کرانی ہوں گی اور ماہانہ قسط کم وبیش 67 ہزار روپے بنتی ہے۔

توجناب یہ تھا تبدیلی سرکار کا دوسرا وعدہ جو شرمندہ تعبیر ہوا اور بالآخر کپتان اپنی عوام کے سامنے سرخرو ہوگئے۔ بے گھروں کو گھر ملنے کی سبیل ہوگئی اور ان کم نصیبوں کو بھی اپنی چھت ملے گی جو ساری زندگی ترستے تھے اور سوچتے تھے کہ کیا ان کا اپنا گھر بھی کبھی ہوگا۔ مگر اس سارئے منصوبے میں ایک مسئلہ ہے جس پر کسی کی توجہ نہیں جارہی کہ کم آمدنی والے حضرات جن کی تنخواہ ہی 25 سے 30 ہزار ماہانہ ہوگی کیسے ہر ماہ 67 ہزار روپے کی قسط کی ادائیگی کریں گے۔

کیا وہ اپنے روزمرہ کے اخراجات کے بعد اس قابل ہوں گے کہ وہ ان اپارٹمنٹس کی قسط کی ادائیگی کرسکیں یہاں تو یہ عالم ہے کہ اگر وہ پورا مہینہ کچھ بھی کھائے پیئے بغیر اور ایک پیسہ خرچ کیے بغیر بھی گزار دیں تو بھی وہ اس قابل نہیں ہوسکتے کہ وہ 67 ہزار کی قسط کی ادائیگی ہرماہ کرسکیں۔ کوئی باشعور آدمی جب یہ سنے گا تو کہے گا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی شخص اس طرح ادائیگی کرسکے۔ تو پھرسوچنے کی بات ہے کہ اس منصوبے کے منصوبہ سازوں کے ذہن میں یہ عام سی بات کیوں نہیں آرہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ منصوبہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گا۔

اگر اس منصوبے کو قابل عمل بنانا ہے تو حکومت کو اس پر سوچنا ہوگا اور اس کو اس قابل بنا نا ہوگا کہ یہ عام آدمی اور کم آمدنی والوں کے فائدہ مند ہوسکے اس کے ثمرات ان لوگوں تک پہنچ سکیں جن کے لئے یہ منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں حکومت کو چند اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک تو یہ کہ ڈاؤن پیمنٹ کو 10 فیصد تک کیا جائے جو کہ تین لاکھ کے قریب بنے گی اس کے علاوہ اس کی اقساط 36 ماہ کی بجائے 100 ماہ کی بنائی جائیں اس سے جو ماہانہ قسط ہے وہ بیس سے پچیس ہزار کے قریب بنے گی جو شاید ان کم آمدنی والوں کے لئے ادا کرنا ممکن ہو۔

اور کوشش کی جائے کہ ڈاون پیمنٹ کی ادائیگی کے ساتھ ہی آئندہ دو سے تین ماہ کے اندر ان کو اپارٹمنٹ کا قبضہ دے دیا جائے اس سے وہ لوگ جب اپارٹمنٹ میں منتقل ہوجائیں گے تو ان کے گھروں کا کرایہ بچ جائے گا جس سے وہ اقساط کی ادائیگی میں آسانی محسوس کریں گے اس سے ان کی روزمرہ کی زندگی بھی متاثر نہیں ہوگی اور حکومت کو بھی اس منصوبے سے بروقت وصولی ہوتی رہے گی اور اس وصولی کی کامیابی کی شرح صدفیصد ہوگی۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر یہ طے ہوگیا کہ 67 ہزار ماہانہ قسط کی ادائیگی کم آمدنی والے افراد کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •